بی آر ٹی پشاور کی مزید 27 نئی بسیں آج چمکنی ڈپو پہنچ گئیں۔ گزشتہ ماہ 25 بسوں کی آمد کے بعد اب تمام 52 نئی بسیں پشاور پہنچ چکی ہیں، جس سے بسوں کی مجموعی تعداد 296 ہوگئی ہے۔
#BRTPeshawar #ZuPeshawar
ذو پشاور کے مسافروں کےلیے اہم اطلاع!
اپنے ذو کارڈ کی نادرا کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کروائیں۔
یکم جنوری 2027 سے غیر تصدیق شدہ تمام ذو کارڈز بلاک کردیے جائیں گے۔ @drsmabukhari
خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں کی سیکرٹری محترمہ شازیہ عطاء نے گزشتہ روز منعقدہ ایک تقریب میں ذو پشاور کی خواتین بس ڈرائیورز کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز پیش کیں۔
تقریب کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خواتین کے اہم کردار اور کامیابیوں کو سراہنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس شعبے میں خواتین کی مزید شمولیت اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دینا تھا۔
@drsmabukhari
#ZuPeshawar #BRTPeshawar #WomenEmpowerment #FemaleBusDrivers #KP
سوشل میڈیا پر ایک پرانی ویڈیو اس جھوٹی خبر کے ساتھ چلائی جا رہی ہے کہ بی آر ٹی پشاور کی بسیں پشاور سے منتقل کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ خبر سراسر بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ زیرِ نظر ویڈیو اس وقت کی ہے جب بی آر ٹی کی بسیں پشاور لائی جا رہی تھیں۔
1/2
@drsmabukhari
بی آر ٹی پشاور کے مختلف اسٹیشنز پر باقاعدگی سے اسٹیم کلیننگ اور ٹیکٹائل پاتھ ویز کی صفائی کی جاتی ہے تاکہ مسافروں کو صاف ستھرا، محفوظ اور خوشگوار سفری ماحول فراہم کیا جا سکے۔
@drsmabukhari
پنک بس سروس: خواتین کے لیے محفوظ، بااعتماد اور باوقار سفری سہولت کی جانب ایک اہم قدم۔
#PublicTransport #TransPeshawar #WomenEmpowerment
@drsmabukhari
بی آر ٹی پشاور کے اسٹیشنز کے مختلف حصوں کی باقاعدگی سے صفائی اور دیکھ بھال کی جا رہی ہے تاکہ تمام مسافروں کو صاف ستھرا، آرام دہ اور پُرسکون سفری ماحول فراہم کیا جا سکے۔
@drsmabukhari
بی آر ٹی پنک بس سروس کا آغاز
خواتین کے لیے محفوظ، بااعتماد اور باوقار سفری سہولت کی جانب ایک اہم قدم۔
پنک بس سروس کے افتتاحی ٹرپ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی۔
شرکاء میں سینیٹر روبینہ ناز، صوبائی محتسب رباب مہدی، خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (KPCSW) کی سیکریٹری محترمہ شازیہ عطا، سابق رکن صوبائی اسمبلی رابعہ بصری، فرنٹیئر کالج فار ویمن کی پرنسپل ڈاکٹر شاہین عمر سمیت وکلاء، طالبات، سماجی کارکنان اور ڈاکٹرز شامل تھیں۔
شرکاء نے پنک بس سروس کو خواتین کے لیے محفوظ، بااعتماد اور معیاری سفری سہولت قرار دیتے ہوئے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سروس خواتین کو تعلیم، روزگار، صحت اور پیشہ ورانہ مواقع تک بہتر رسائی میں معاون ثابت ہوگی۔
باوقار سفر — بااختیار خواتین
@drsmabukhari























