Salman Agha is pure class. A genuine ODI middle order player. He should be the captain for upcoming World Cup.
@RealPCB_Live @TheRealPCBMedia
Saad Baig looks the part with the bat—technically solid and purposeful in his approach. Should his keeping prove equally reliable, he could be the answer Pakistan have been searching for in the middle order behind the stumps for the foreseeable future.
@TheRealPCB_Live @TheRealPCB
#CricketNews
Shamoon Chaudhary retweeted
لنگڑے کیساتھ اب وہی لوگ رہ گئے ہیں
جن کو یقین ہے کہ پیرنی کو طلاق دے کے وہ انکی امی سے شادی کرے گا 😂
Pakistan: 1 Sahibzada Farhan (capt), 2 Fakhar Zaman, 3 Maaz Sadaqat, 4 Hasan Nawaz, 5 Saim Ayub, 6 Khawaja Nafay (wk), 7 Shadab Khan, 8 Mohammad Imran, 9 Salman Mirza, 10 Naseem Shah, 11 Abrar Ahmed
All top 6 are openers. wtf is going on bc?
@TheRealPCBMedia
Ali Raza and Akif both bowl at an average of 145+, whereas this guy’s max speed is 140. Aqib is a fucking plague on Pakistan cricket.
دو سو گیارہ پاکستان ٹیم نے تاریخ میں کبھی چیس کیا ہی نہیں۔ انڈیا کی بولنگ اٹیک کے آگے یہ سو بنا جائیں بڑی بات ہے۔
آں کس کہ تُرا تاجِ جہاں بانی داد
ما را ہَمَہ اَسبابِ پریشانی داد
پوشاند لِباس ہر کِرا عیبی دِید
بے عیباں را لِباسِ عُریانی داد
سرمد شہید
یہ رباعی انہوں نے اورنگزیب کے دربار میں فی البدیع پڑھی جب اس نے درویش سے پوچھا کے لباس کیوں نہیں پہنتے؟
پی ایس: وہ صرف ستر ڈھانپتے تھے۔
میرے سب سے پسندیدہ ترین کرکٹر۔
Shamoon Chaudhary retweeted
ایک مشہور مشاعرے میں
ردیف دیا گیا:
"دل بنا دیا"
اب شعراء کو اس پر شعر کہنا تھے۔
سب سے پہلے حیدر دہلوی نے اس ردیف کو یوں استعمال کیا:
اک دل پہ ختم قدرتِ تخلیق ہوگئی
سب کچھ بنا دیا جو مِرا دل بنا دیا
اس شعر پر ایسا شور مچا کہ بس ہوگئی ، لوگوں نے سوچا کہ اس سے بہتر کون گرہ لگا سکے گا؟
لیکن جگر مراد آبادی نے ایک گرہ ایسی لگائی کہ سب کے ذہن سے حیدر دہلوی کا شعر محو ہوگیا۔
انہوں نے کہا:
بے تابیاں سمیٹ کر سارے جہان کی
جب کچھ نہ بَن سکا تو مِرا دل بنا دیا۔
حیدر دہلوی اپنے وقت کے استاد تھےاور خیام الہند کہلاتے تھے۔ جگر کے کلام کو سنتے ہی وہ سکتے کی کیفیت میں آگئے، جگر کو گلے سے لگایا،ان کے ہاتھ چومے اور وہ صفحات جن پر ان کی شاعری درج تھی جگر کے پاوں میں ڈال دیے۔
اس واقع سے قبل دہلی کے لال قلعہ میں ایک طرحی مشاعرہ تھا۔ قافیہ " دل" رکھا گیا تھا۔ اُس وقت تقریبا سبھی استاد شعراء موجود تھے۔ان میں سیماب اکبرآبادی اور جگر مرادآبادی بھی تھے۔سیماب نے اس قافیہ کو یوں باندھا۔۔۔۔۔
خاکِ پروانہ،رگِ گل،عرقِ شبنم سے
اُس نے ترکیب تو سوچی تھی مگر دل نہ بنا
شعر ایسا ہوا کہ شور مچ گیا کہ اس سے بہتر کوئی کیا قافیہ باندھے گا؟۔ سب کی نظریں جگر پر جمی ہوئی تھیں۔
معاملہ دل کا ہو اور جگر چُوک جائیں۔۔وہ شعر پڑھا کہ سیماب کا شعر لوگوں کے دماغ سے محو ہوگیا۔
زندگانی کو مرے عقدہء مشکل نہ بنا
برق رکھ دے مرے سینے میں، مگر دل نہ بنا.،❣️
















