سرکار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مستونگ میں قبائل کے پھلدار باغوں کی تباہی محض درختوں کا نقصان نہیں، بلکہ لوگوں کے احساسِ محرومی اور بے اعتمادی میں اضافہ ہے۔ طاقت کے ایسے اقدامات قبائلی معاشرے کی سوچ کو مزید سخت اور مزاحم بنا دیتے ہیں۔
حکمران بلوچوں کو ’’فتنۂ ہندوستان‘‘ قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ جن کلمہ گو مسلمانوں سے بلوچوں نے خیر کی توقع کھو دی ہو، کسی غیر مذہب سے اچھائی کی امید رکھنا تو مزید دُور کی بات ہے۔
آج ریاست کا اپنا جبر، طاقت کا بے دریغ استعمال اور ریاستی دہشتگردی اس بیانیے کی حقیقت عیاں کر رہی ہے کہ فتنہ اور فساد کسی قوم کی مزاحمت میں نہیں ، بلکہ فتنہ اُس ریاستی جبر ،ظلم اور دہشتگردی میں جنم لیتی ہے جو ریاست خود اپنے شہریوں پر مسلط کرتی ہے!
درخت کاٹے جا سکتے ہیں اور باغ اجاڑے جا سکتے ہیں، مگر دلوں میں پیدا ہونے والی بے اعتمادی اور نفرت کو طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اگر ریاست واقعی امن چاہتی ہے تو اسے مزاحمت کو ’’فتنہ‘‘ کہنے کے بجائے اُن اسباب کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لوگوں کو مزاحمت پر مجبور کرتے ہیں۔
مہرگڑھ ہمارا تاریخی ورثہ، قبائلی یکجہتی اور امن کا مرکز ہے۔ ریاست کی جانب سے بارہا اس مرکز کو نشانہ بنانا، اور حالیہ ڈرون حملہ، انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔
یہ واقعہ اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ بلوچستان میں طاقت کے استعمال میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے اور پرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد کے راستے کو محدود کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
مہرگڑھ کسی ایک فرد کا گھر نہیں بلکہ ایک قومی، تاریخی اور قبائلی مرکز ہے۔ ایسے واقعات لوگوں میں محرومی اور نفرت کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ریاست کے ذمہ داران کو سمجھنا چاہیے کہ قومی ورثے اور لوگوں کے گھروں کی بے حرمتی کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرتی۔
ہم اپنے قومی و قبائلی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرامن اور سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بلوچستان ایک تاریخی سرزمین ہے؛ یہاں طاقت کے ایسے واقعات حالات کو مزید پیچیدہ کر سکتے ہیں۔
ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ بلوچستان میں کشیدگی کے بجائے امن، سیاسی مکالمے اور حالات کی بہتری کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ریاست بھی طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سیاسی حل کو ترجیح دے۔
مستونگ اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں زمینداروں کے پھلدار باغات کاٹنا، لوگوں کو اپنے علاقوں سے بے دخل کرنا اور ان کے گھروں و معاشی ذرائع کو تباہ کرنا، قبائل اور عام آدمی کو متنفر کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ محسوس ہوتا ہے… اَگر بے دخلی اور تباہی ہی مسئلے کا حل ہوتیں تو شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، دیر بالا، دیر زیریں، شانگلہ اور دیگر علاقوں میں گھروں اور کاروباری مراکز کو مسمار کرنے کے بعد آج مکمل امن قائم ہو چکا ہوتا۔
ماضی کی ایسی فوج کشیوں کا نتیجہ امن کے بجائے تباہی، بے دخلی اور قبائل کی طویل دربدری کی صورت میں نکلا۔ فوج اپنے بارود سے جتنی بھی تباہی اور بربادی برپا کر ے، اپنے بندوق کے زور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن….🌿 امن نہیں 🌿
امن اور آشتی کا ماحول صرف سیاسی سوچ، سیاسی عمل ، باعزت اور باوقار مکالمے سے ہی تشکیل پاتا ہے۔
🍃عالمی یومِ انسانیت🍃 پاکستان کے حکمرانوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ وفاق ایک کثیرالقومی ریاست ہے، جہاں ہر قوم کی اپنی تاریخ، ثقافت، زبان، زمین اور آسمان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں 🍃 “ انسانیت “کو سیاست، اقتدار اور مفادات سے بالاتر رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے🍃 ہر قوم کے شہری کی جان و مال، عزت، آزادی اور بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ خصوصاً لاپتہ افراد کی بازیابی ریاست کا فرض ہے! رعایت نہیں…!🌿
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کے معاملے میں ریاست نے اعتماد کی بحالی کی ایک کوشش کی ہے۔ اسی طرح بلوچ لاپتہ افراد، BYC اور PTM کے زیرِ حراست افراد کے معاملے میں بھی ریاست کو اعتماد سازی، انصاف کی بالادستی اور قانون کے یکساں اطلاق کو موقع دینا چاہیے۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد ہی پائیدار استحکام کی بنیاد ہے۔
ہم مجبوری کے تحت نہیں بلکہ رضاکارانہ طور پر اس ریاست کا حصہ بنے تھے کہ اس یقین کے ساتھ کہ اس اسلامی ریاست میں بلوچوں کے جان، مال اور عزت محفوظ ہوں گے۔ لیکن آج نہتے شہریوں پر بم برسائے جا رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک قابل مذمت فعل ہے۔
بلوچستان بلوچ قوم کی شناخت، تاریخ اور وطن ہے🍃 ہمیں اپنے وطن کی کسی بھی قسم کی تقسیم ہرگز قبول نہیں! بلوچستان کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت بلوچ قوم کے لیے محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ بلوچوں کی قومی شناخت اور اجتماعی وجود کا بنیادی حصہ ہے۔🌿ایک بلوچ قوم ایک بلوچ وطن🌿
خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں
وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا
کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے
اپنے حصے کا "دیا" خود ہی جلانا ہوگا !
ڈی جی آئی ایس پی آر (DG ISPR) نے اپنے press conference میں کہا کہ” سردار ،نواب elite اپنے مراعات کے لیے بلوچستان کے حالات خراب کیے ہیں”۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں ان سرداروں کے نام بتاے جائیں ، اور کیا مراعات حاصل کیے۔
استعفیٰ یہ اسمبلی کی تحلیل مسلہ کا حل نہیں …دریا سندھ کے مغربی کنارے بسنے والے پشتون اور بلوچوں کے تاریخی قومی حقوق کو تسلیم کر کہ مسلہ کو حل کیا جا سکتا ہے.
🍃 انا لله و انا الیه راجعون🍃
مستونگ میں مسلح افراد کے حملے میں جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے محافظ کی شہادت کا بہت دکھ اور افسوس ہوا ہے… اَب حکومت کی گرفت ہاکی چوک اور ٹیلفون ہاوس تک محدود ہو کہ رہ گئی ہے.
بلوچ قوم کا مسئلہ سیاسی ہے۔ باغات کے درخت کاٹنے، مساجد اور مدارس پر بمباری کرنے، یا ڈویژنوں اور اضلاع کی انتظامی ساخت میں ردوبدل کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کا پائیدار اور مؤثر حل صرف سنجیدہ، بامعنی اور باوقار سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے.
سرکاری حکومت نے قلات ڈویژن کو ختم ، مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کا جو بگاڑ کیا ہے یہ بلوچوں کی تاریخی شناخت کو ختم کرنے کی حرکت ہے! اس قابل مذمت فیصلہ کو عدالت میں challenge کریں گے۔ یہ حَنہ اور زیارت کے افسوسناک واقعہ سے توجہ ہٹانے کی لیے کیا ہے ۔
ہم ضلع مستونگ کو قلات ڈویژن سے علحدہ کر کہ کوئٹہ ڈویژن کا حصہ بنانے کی غیر مشاورتی اور عوامی خواہشات کے برعکس حکومتی فیصلے کی مذمت کرتے ہیں! ♨️ہم ضلع مستونگ کو دوبارہ قلات ڈویژن میں شامل کروانے کے لیے ہر ممکن پُرامن اور آئینی جدوجہد کریں گے۔🌿
سیاسی معاملات کو محض جبر اور طاقت کے استعمال سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ بی وائی سی کی قیادت کو فوری طور پر رہا کیا جائے، اور بلوچ قوم کو درپیش سیاسی مسائل کے حل کے لیے ایک بامعنی اور سنجیدہ سیاسی مکالمے کا آغاز کیا جانا چاہیے .
بی وائی سی کے قائدین کو دی جانے والی قید کی سزاؤں کو بلوچ اُولس ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اس نوعیت کے فیصلے بلوچ عوام اور ریاست کے درمیان موجود دوریوں میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔لاپتہ افراد ، حق حکمرانی، وسائل پہ دسترس کے لیے مکالمہ اور سیاسی عمل کو ترجیح دی جانی چاہیے.
بلوچ قوم کے مسائل اسمبلی کی نئی عمارت کے تعمیر سے حل نہیں ہوں گے ، بلکہ اصل ضرورت ریاستی اعتماد کی بحالی (Restoring State Trust) ،سیاسی مکالمے، تاریخی قومی حقوق یعنی "حقِ حکمرانی ، وسائل پہ دسترس” کا ہے .


