Nawab Raisani (@SarawanChief) header
Nawab Raisani (@SarawanChief) profile picture

I’m the Old_Shepherd🍃slave of 🌷Allah (swt)🌷

Balochistan, Mehrgarh, Kanak.
Joined July 2017
Photo by Nawab Raisani (@SarawanChief)Photo by Nawab Raisani (@SarawanChief)Photo by Nawab Raisani (@SarawanChief)Photo by Nawab Raisani (@SarawanChief)Photo by Nawab Raisani (@SarawanChief)Photo by Nawab Raisani (@SarawanChief)Photo by Nawab Raisani (@SarawanChief)Photo by Nawab Raisani (@SarawanChief)Photo by Nawab Raisani (@SarawanChief)Photo by Nawab Raisani (@SarawanChief)
سرکار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مستونگ میں قبائل کے پھلدار باغوں کی تباہی محض درختوں کا نقصان نہیں، بلکہ لوگوں کے احساسِ محرومی اور بے اعتمادی میں اضافہ ہے۔ طاقت کے ایسے اقدامات قبائلی معاشرے کی سوچ کو مزید سخت اور مزاحم بنا دیتے ہیں۔ حکمران بلوچوں کو ’’فتنۂ ہندوستان‘‘ قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ جن کلمہ گو مسلمانوں سے بلوچوں نے خیر کی توقع کھو دی ہو، کسی غیر مذہب سے اچھائی کی امید رکھنا تو مزید دُور کی بات ہے۔ آج ریاست کا اپنا جبر، طاقت کا بے دریغ استعمال اور ریاستی دہشتگردی اس بیانیے کی حقیقت عیاں کر رہی ہے کہ فتنہ اور فساد کسی قوم کی مزاحمت میں نہیں ، بلکہ فتنہ اُس ریاستی جبر ،ظلم اور دہشتگردی میں جنم لیتی ہے جو ریاست خود اپنے شہریوں پر مسلط کرتی ہے! درخت کاٹے جا سکتے ہیں اور باغ اجاڑے جا سکتے ہیں، مگر دلوں میں پیدا ہونے والی بے اعتمادی اور نفرت کو طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ریاست واقعی امن چاہتی ہے تو اسے مزاحمت کو ’’فتنہ‘‘ کہنے کے بجائے اُن اسباب کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لوگوں کو مزاحمت پر مجبور کرتے ہیں۔
34
3
227
18,464
مہرگڑھ ہمارا تاریخی ورثہ، قبائلی یکجہتی اور امن کا مرکز ہے۔ ریاست کی جانب سے بارہا اس مرکز کو نشانہ بنانا، اور حالیہ ڈرون حملہ، انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔ یہ واقعہ اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ بلوچستان میں طاقت کے استعمال میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے اور پرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد کے راستے کو محدود کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مہرگڑھ کسی ایک فرد کا گھر نہیں بلکہ ایک قومی، تاریخی اور قبائلی مرکز ہے۔ ایسے واقعات لوگوں میں محرومی اور نفرت کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ریاست کے ذمہ داران کو سمجھنا چاہیے کہ قومی ورثے اور لوگوں کے گھروں کی بے حرمتی کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرتی۔ ہم اپنے قومی و قبائلی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرامن اور سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بلوچستان ایک تاریخی سرزمین ہے؛ یہاں طاقت کے ایسے واقعات حالات کو مزید پیچیدہ کر سکتے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ بلوچستان میں کشیدگی کے بجائے امن، سیاسی مکالمے اور حالات کی بہتری کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ریاست بھی طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سیاسی حل کو ترجیح دے۔
20
2
155
9,742
مستونگ اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں زمینداروں کے پھلدار باغات کاٹنا، لوگوں کو اپنے علاقوں سے بے دخل کرنا اور ان کے گھروں و معاشی ذرائع کو تباہ کرنا، قبائل اور عام آدمی کو متنفر کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ محسوس ہوتا ہے… اَگر بے دخلی اور تباہی ہی مسئلے کا حل ہوتیں تو شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، دیر بالا، دیر زیریں، شانگلہ اور دیگر علاقوں میں گھروں اور کاروباری مراکز کو مسمار کرنے کے بعد آج مکمل امن قائم ہو چکا ہوتا۔ ماضی کی ایسی فوج کشیوں کا نتیجہ امن کے بجائے تباہی، بے دخلی اور قبائل کی طویل دربدری کی صورت میں نکلا۔ فوج اپنے بارود سے جتنی بھی تباہی اور بربادی برپا کر ے، اپنے بندوق کے زور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن….🌿 امن نہیں 🌿 امن اور آشتی کا ماحول صرف سیاسی سوچ، سیاسی عمل ، باعزت اور باوقار مکالمے سے ہی تشکیل پاتا ہے۔
34
4
268
26,288
🍃عالمی یومِ انسانیت🍃 پاکستان کے حکمرانوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ وفاق ایک کثیرالقومی ریاست ہے، جہاں ہر قوم کی اپنی تاریخ، ثقافت، زبان، زمین اور آسمان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں 🍃 “ انسانیت “کو سیاست، اقتدار اور مفادات سے بالاتر رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے🍃 ہر قوم کے شہری کی جان و مال، عزت، آزادی اور بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ خصوصاً لاپتہ افراد کی بازیابی ریاست کا فرض ہے! رعایت نہیں…!🌿
12
78
5,044
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کے معاملے میں ریاست نے اعتماد کی بحالی کی ایک کوشش کی ہے۔ اسی طرح بلوچ لاپتہ افراد، BYC اور PTM کے زیرِ حراست افراد کے معاملے میں بھی ریاست کو اعتماد سازی، انصاف کی بالادستی اور قانون کے یکساں اطلاق کو موقع دینا چاہیے۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد ہی پائیدار استحکام کی بنیاد ہے۔
37
1
246
14,097
ہم مجبوری کے تحت نہیں بلکہ رضاکارانہ طور پر اس ریاست کا حصہ بنے تھے کہ اس یقین کے ساتھ کہ اس اسلامی ریاست میں بلوچوں کے جان، مال اور عزت محفوظ ہوں گے۔ لیکن آج نہتے شہریوں پر بم برسائے جا رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک قابل مذمت فعل ہے۔
125
14
410
86,578
بلوچستان بلوچ قوم کی شناخت، تاریخ اور وطن ہے🍃 ہمیں اپنے وطن کی کسی بھی قسم کی تقسیم ہرگز قبول نہیں! بلوچستان کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت بلوچ قوم کے لیے محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ بلوچوں کی قومی شناخت اور اجتماعی وجود کا بنیادی حصہ ہے۔🌿ایک بلوچ قوم ایک بلوچ وطن🌿
50
5
331
30,097
خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے اپنے حصے کا "دیا" خود ہی جلانا ہوگا !
8
1
105
6,828
ڈی جی آئی ایس پی آر (DG ISPR) نے اپنے press conference میں کہا کہ” سردار ،نواب elite اپنے مراعات کے لیے بلوچستان کے حالات خراب کیے ہیں”۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں ان سرداروں کے نام بتاے جائیں ، اور کیا مراعات حاصل کیے۔
68
6
427
42,150
استعفیٰ یہ اسمبلی کی تحلیل مسلہ کا حل نہیں …دریا سندھ کے مغربی کنارے بسنے والے پشتون اور بلوچوں کے تاریخی قومی حقوق کو تسلیم کر کہ مسلہ کو حل کیا جا سکتا ہے.
9
97
10,980
🍃 انا لله و انا الیه راجعون🍃 مستونگ میں مسلح افراد کے حملے میں جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے محافظ کی شہادت کا بہت دکھ اور افسوس ہوا ہے… اَب حکومت کی گرفت ہاکی چوک اور ٹیلفون ہاوس تک محدود ہو کہ رہ گئی ہے.
5
1
60
7,941
بلوچ قوم کا مسئلہ سیاسی ہے۔ باغات کے درخت کاٹنے، مساجد اور مدارس پر بمباری کرنے، یا ڈویژنوں اور اضلاع کی انتظامی ساخت میں ردوبدل کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کا پائیدار اور مؤثر حل صرف سنجیدہ، بامعنی اور باوقار سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے.
11
3
113
8,089
یہ شہر وہ ہے جس میں کوئی گھر بھی خوش نہیں دادِ ستم نہ دے کہ ستم گر بھی خوش نہیں ♨️
3
1
37
5,579
سرکاری حکومت نے قلات ڈویژن کو ختم ، مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کا جو بگاڑ کیا ہے یہ بلوچوں کی تاریخی شناخت کو ختم کرنے کی حرکت ہے! اس قابل مذمت فیصلہ کو عدالت میں challenge کریں گے۔ یہ حَنہ اور زیارت کے افسوسناک واقعہ سے توجہ ہٹانے کی لیے کیا ہے ۔
2
16
82
9,329
ہم ضلع مستونگ کو قلات ڈویژن سے علحدہ کر کہ کوئٹہ ڈویژن کا حصہ بنانے کی غیر مشاورتی اور عوامی خواہشات کے برعکس حکومتی فیصلے کی مذمت کرتے ہیں! ♨️ہم ضلع مستونگ کو دوبارہ قلات ڈویژن میں شامل کروانے کے لیے ہر ممکن پُرامن اور آئینی جدوجہد کریں گے۔🌿
23
4
173
24,335
سیاسی معاملات کو محض جبر اور طاقت کے استعمال سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ بی وائی سی کی قیادت کو فوری طور پر رہا کیا جائے، اور بلوچ قوم کو درپیش سیاسی مسائل کے حل کے لیے ایک بامعنی اور سنجیدہ سیاسی مکالمے کا آغاز کیا جانا چاہیے .
19
113
9,948
بی وائی سی کے قائدین کو دی جانے والی قید کی سزاؤں کو بلوچ اُولس ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اس نوعیت کے فیصلے بلوچ عوام اور ریاست کے درمیان موجود دوریوں میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔لاپتہ افراد ، حق حکمرانی، وسائل پہ دسترس کے لیے مکالمہ اور سیاسی عمل کو ترجیح دی جانی چاہیے.
11
3
88
6,113
“You’ll never find justice in a world where criminals make the rules”. Bob Marley 🍃
5
23
1,810
بلوچ قوم کے مسائل اسمبلی کی نئی عمارت کے تعمیر سے حل نہیں ہوں گے ، بلکہ اصل ضرورت ریاستی اعتماد کی بحالی (Restoring State Trust) ،سیاسی مکالمے، تاریخی قومی حقوق یعنی "حقِ حکمرانی ، وسائل پہ دسترس” کا ہے .
10
81
4,320
ہم ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی عمل اور مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ثالثی کرنے والے کو یہ ذمہ داری بھی اٹھانی ہوگی کہ وہ اس تنازع میں زیادتی کرنے والے کا تعین کرے! امن صرف جنگ بندی سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم ہوتا ہے۔
2
21
1,951