Pinned Tweet
پورے ملک کے سیاستدان اکٹھے بیٹھے ہیں،
ایجنڈا کیا ہے؟
ایک گروپ کی ڈیمانڈ ہے،
یار ہمیں آرام سے حکومت میں عیاشی کرنے دو،
دوسرے کا رونا ہے کہ ہمیں بھی حصہ دو،،
مجال ہے یہ کنجر اکٹھے بیٹھ کے کبھی یہ سوچیں کہ عوام کی جان کیسے سوکھی کرنی ہے، صرف اقتدار کا رونا ہے۔۔..۔😡😡 😡 😡
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
ذرا مسکراٸیں۔۔😊😊
*اس کو کہتے ہیں مارکیٹنگ*😂
ادھر ارینج میرج میں جب ہم لڑکی دیکھنے جاتے ہیں تو ایک سوال تو فکس ہی ہوتا ہے:
"لڑکا کیا کرتا ہے؟" 😉
بھورا کے گھر والے اس کے لیے لڑکی دیکھنے گئے۔ ڈرائنگ روم میں چائے اور ادھر ادھر کی باتیں ختم ہونے کے بعد لڑکی کے والد نے آہستہ سے اصلی موضوع چھیڑا:
"تو آج کل آپ کا بیٹا کیا کام کرتا ہے؟"
بھورا کے والد نے چشمہ ٹھیک کیا، گلا صاف کیا اور پورے کارپوریٹ اسٹائل میں پریزنٹیشن شروع کر دی:
"دیکھیے، ہمارا بھورا اس وقت ایک ایگرو بیسڈ ڈائریکٹ ٹو کنزیومر اسٹارٹ اپ کا فاؤنڈر اور مینیجنگ ڈائریکٹر ہے۔ ہم آرگینک ہیلتھ اور ویلنیس سیکٹر میں ڈیل کرتے ہیں۔"
یہ سن کر لڑکی کا باپ ویسے ہی آدھا امپریس ہو گیا۔
"واہ! تو آپ کا پروڈکٹ کیا ہے؟"
بھورا کے والد نے پورے اعتماد سے جاری رکھا:
"ہمارے مین پورٹ فولیو میں ہائی پروٹین روسٹڈ لیگیومز اور ٹریڈیشنل کیرامیلائزڈ سویٹس ہیں۔ ہم را میٹیریل ڈائریکٹ ہول سیل سپلائی چین سے سورس کرتے ہیں، پھر اپنی تھرمل پروسیسنگ یونٹ میں ڈرائی روسٹ کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑی ہائی لائٹ یہ ہے کہ ہماری پیکجنگ 100 فیصد ایکو فرینڈلی اور بائیو ڈیگریڈیبل ہے!"
یہ سب سن کر لڑکی والے حیران رہ گئے۔ لگ رہا تھا جیسے کوئی بڑی ملٹی نیشنل کمپنی ہو!
لڑکی کے چچا سے رہا نہیں گیا:
"تو آپ کی کمپنی کا مین آفس کہاں ہے؟ اور کتنے ایمپلائز ہیں؟"
بھورا کے والد بغیر گھبرائے بالکل بھی نروس ہوئے بغیر بولے:
"دیکھیے، یہ ماڈرن لین اسٹارٹ اپ کا دور ہے، اس لیے ہم دکان کا کرایہ اور بجلی کے بل جیسے غیر ضروری خرچوں سے بچتے ہیں۔ ہمارا ایک موبائل ریٹیل آؤٹ لیٹ ہے، جو ٹریفک اور پبلک فٹ فال کو دیکھتے ہوئے روزانہ اپنی لوکیشن بدلتا ہے۔ اور پورا آپریشن اکیلا میرا بیٹا ہی سنبھالتا ہے — وہ ایک سولوپرینیور ہے!"
اب لڑکی کا باپ تو بالکل کنفیوز ہو گیا۔ اسے لگا یہ انگریزی اس کی سمجھ سے باہر ہے۔
تو وہ بولا:
"مجھے یہ مارکیٹنگ والی زبان ٹھیک سے سمجھ نہیں آئی۔ سادہ الفاظ میں بتائیں لڑکا کرتا کیا ہے؟"
اسی لمحے کونے میں بیٹھا لڑکے کا جگری دوست آہستہ سے بولا:
"انکل، ان کا مطلب ہے کہ ہمارا بھائی ہائی وے پر مونگ پھلی، بھنے ہوئے چنے اور ریوڑی کا ٹھیلا لگاتا ہے! وہ ریت میں کڑاہی میں چنے بھونتا ہے اور گاہکوں کو اخبار کی پڑیا میں ڈال کر دیتا ہے — جسے یہ لوگ بائیو ڈیگریڈیبل پیکجنگ کہہ رہے ہیں!" 😂
یہ سنتے ہی لڑکی کے والد کے ہاتھ سے چائے کا کپ گرتے گرتے بچا! 😜
تو بھائیو، مارکیٹنگ کے الفاظ کا جادو بڑی چیز ہے۔
اگر پریزنٹیشن زبردست ہو تو مونگ پھلی اور چنے کا ٹھیلا بھی کارپوریٹ اسٹارٹ اپ لگتا ہے! 😀😀😀
کچھ سمجھے ! اکیلے اکیلے مت ہنسیے 😂 آگے بھی بھیجیے اور دوسروں کو بھی مسکرانے دیجیے 😁
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
کل اور آج کا ٹوٹل حساب کر کے پٹرول تقریباً 19 روپے مہنگا ۔ نالائق نا اہل حکومت نامنظور نامنظور نامنظور
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
میاں صاحب جے تسی گھر گئے تے تہاڈے نال راشد ہاشمی ای کھلونا جے ، عوام نال جو تسی کیتا او عوام تواہڈے نال کرے ای کرے 🤣
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
ایک سرکاری ملازم نے سائیکل خریدی۔وہ ویسے
تو بہت خوبصورت تھی لیکن اس کے پیچھے کیرئیر نہیں تھا۔اس نے اپنے بیٹے کو ڈیلر کے پاس بھیجا کہ وہ اسے درست کرا لے۔جب سائیکل واپس آئی تو اس نے دیکھا کے اب کیرئیر تو ہے لیکن اسٹینڈ غائب ہے۔اس نے جا کرڈیلر سے دریافت کیا کے یہ کیا ماجرا ہے
اسٹینڈ کیوں نکالا ؟
ڈیلر نے جواب دیا کے صاحب جی! گورنمنٹ کی
نوکری میں ایک چیز مل سکتی ہے یا کیریئر
یا اسٹینڈ ، اگر اسٹینڈ لو گے تو کیرئیر ختم اور
اگر کیرئیر بنانا ہے تو کبھی اسٹینڈ مت لینا۔
نوٹ: تمام سرکاری ملازم کے نام۔ 😊
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
واپڈا ٹاؤن میں چوروں نے ایک ہی رات میں 13 گرین میٹر اتار لئیے اور جاتے وقت اپنا رابطہ نمبر بھی کھمبے پر لکھ کر لگا گئے کہ جس کسی کو بھی میٹر واپس چاہیے تو رابطہ کر لیں 30،000 روپے کے عوض آپ کو آپکا میٹر واپس مل جائے گا
لوگوں نے واپڈا والوں کو بتایا تو انھوں نے کہا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے آپ ایف آئی آر درج کروائیں اور پھر ہم سے 80،000 میں نیا میٹر ایشو کروا لیی
لوگوں نے چوروں سے رابطہ کر کے 30،000 ادا کر کے پرانا میٹر لگوا لیا.
*پاکستان زندہ باد*
منقول
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
نوکری کے دوران بننے والے تعلقات
ایک کسان نے کھیتوں میں کام کرتے بٹیرے پکڑ لیے، اس نے سوچا کیوں نہ یہ سب سے بڑے اور با اثر افسر کو تحفے میں دئے جائیں۔ اب بھلا پٹواری سے بڑا افسر کون ہو سکتا تھا اور پھر کسان کو پٹواری سے کام بھی تھا تو وہ چل پڑا کہ چل کے پٹواری صاحب کو خوش کرتے ہیں۔۔
پٹواری کے گھر کے باہر پہنچ کر سادہ لوح دیہاتی کسان نے باہر سے ہی آواز دی
کسان: پٹواری صاحب۔۔!!
پٹواری: ہاں اوئے رحمیاں ، کی آ
کسان: جی چودھری جی بٹیرے کھا لیندے او ؟
( اسی دوران ایک ستم ظریف جو پاس سے گزر رہا تھا، اس نے آہستہ سے بتا دیا کہ پٹواری کا تبادلہ ہو گیا ہے)
پٹواری: آہو کھا لینے آں
کسان: چنگا فیر پھڑیا کرو تے کھایا کرو 😜
(ان تمام لوگوں کے نام جو کسی بڑے عہدے پہ براجمان ہیں اور زیر کنٹرول ملازمین کی آؤ بھگت کو اپنی تعریف سمجھتے ہیں۔ )
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
داتا صاحب کے ایک مستقل مرید نے اپنا خواب بیان کرتے ہوے بتایا کہ اس نے دیکھا
اسحاق ڈار نے داتا صاحب دعا مانگتے ہوئے کہا کہ بابا جی جتنے چکر میں لگاتا ہوں کوئی دوسرا نہیں لگاتا اسکے باوجود کہیں نا کہیں پھنس جاتا ہوں اگر یہ سلسلہ ختم نا ہوا تو میں بابا بدل لوں گا۔ غیب سے آواز آئی کہ بیٹا تم ایک دفعہ حرکتیں بدل کر دیکھو۔😉😉
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں
باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں
#FathersDay
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
کسی گاؤں میں ایک نہایت پُرعزم تھانے دار تعینات تھا ۔ اپنے کیریئر کے دوران اس نے گاؤں کے ہر رہائشی کو کسی نہ کسی الزام میں اندر کیا تھا ۔ اسے اپنے اس شاندار کیریئر پر بڑا فخر تھا ۔ لیکن ایک خلش اسے رہ رہ کر ستاتی تھی کہ گاؤں کے پادری صاحب اس کے ہاتھ نہیں آ سکے تھے ۔ اس ناکامی کو وہ اپنے کیریئر پر ایک داغ سمجھتا تھا ۔ بالآخر اس کی ریٹائرمنٹ کا دن آ گیا ۔ اس نے سوچا پادری صاحب کو اس کے ہاتھ سے بچ نکلنے کی مبارک باد دے دوں ۔ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ سامنے سے پادری صاحب سائیکل پر آتے نظر آئے ۔ اس کے دماغ میں ایک ترکیب آئی ۔ وہ سڑک کے کنارے ایک جھاڑی میں چھپ کر بیٹھ گیا اور جونہی سائیکل قریب آئی ، اچھل کر اچانک سامنے آ گیا کہ ٹکر ہو جائے ۔ لیکن پادری صاحب نے سائیکل بر وقت روک کر اس کا منصوبہ ناکام بنا دیا ۔ شرمندہ سا ہو کر اس نے پادری صاحب کو سلام کیا اور کہنے لگا ، فادر ، میں نے گاؤں کے ہر شخص کو تھانے میں بند کیا لیکن آپ ہمیشہ مجھ سے بچ نکلے ۔ پادری صاحب مسکرائے اور بولے ، اس کی وجہ جانتے ہو ؟ تھانے دار نے کہا ، نہیں ۔ پادری صاحب نے بڑی متانت سے جواب دیا ، کیوں کہ میرے ساتھ ہمیشہ خدا ہوتا ہے ۔ تھانے دار کی آنکھوں میں چمک آ گئی ۔ پوچھا ، خدا ہر وقت آپ کے ساتھ ہوتا ہے ؟ پادری صاحب نے فخر سے کہا ، ہاں ، ہر وقت ۔ تھانے دار نے پوچھا ، کیا اس وقت بھی جب آپ سائیکل پر آ رہے تھے خدا آپ کے ساتھ تھا ؟ پادری صاحب نے کہا ، بالکل ۔ تھانے دار نے فوراً ہتھکڑی نکالی اور بولا ، فادر، میں آپ کو ڈبل سواری کے جرم میں گرفتار کرتا ہوں ۔
یہ لطیفہ برسوں پہلے پڑھا تھا ۔
آج کل جس طرح بیسیوں قسم کی فورسز بنا کر عوام پر "چھوڑ" دیا گیا ہے ، اندازہ ہے کچھ ہی عرصے میں ہر پاکستانی کسی نہ کسی معاملے میں "ملزم" تو بن ہی چکا ہو گا ۔
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
آج بڑے دنوں بعد باباجی سے ملاقات ہوئی
سوچا کوئی انمول بات ہی پوچھ لی جائے میں نے
پوچھا: باباجی موقع کسے کہتے ہیں؟
باباجی پہلے تو مسکرائے پھر پیلے پیلے دانت
نکال کر ہنستے ہوئے بولے:
" جب مچھر بیوی کے گال پر بیٹھا ہو " 😉😄
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
گرمی کی چھٹیوں میں کسی ایک فیملی پر بوجھ نہ ڈالیں
بیوی کو میکے بھیج دیں
بچوں کو ان کے ننھیال بھیج دیں اور خود اپنے سسرال چلیں جاویں
مزید مشوروں کے لیے جڑے رہیں😜
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
روہڑی جنکشن کی خوبی اور خرابی یہ ہے کہ کراچی سے آپ کہیں بھی جائیں روہڑی جنکشن راستے میں ضرور پڑے گا۔ مرزا عبدالودود بیگ کا کہنا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو اہلیان کراچی میدان حشر میں وایا روہڑی ہی جائیں گے۔
جون ایلیا انگلینڈ کی سیاحت سے واپس لوٹے تو برٹش ریلوے کیتعریفوں کے پل باندھتے رہے۔ محترمہ زہرہ نگاہ نے ان سے کہا کہ جون بھائی انگلینڈ تو ہم بھی گئے مگر ہم کو تو ان کی ریلوے میں کوئی خاص بات نظر نہ آئی۔ جون سن کر بولے ” بہن ، آپ نے نوٹس نہیں کیا۔ انگلینڈ میں آپ ریل سے کہیں بھی جاو یہ سُسرا روہڑی بیچ میں نہیں پڑے گا
😃😃
مشتاق احمد یوسفی
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
پاکستان اشرافیہ کی ایسی چراہگاہ بن چکا ہے جس میں عوام بیگار کاٹ رہے ہیں،وہ سارا دن ہل جوتتے، پانی لگاتے اور پنیری لگاتے ہیں،اور اشرافیہ کے اسوار اس چراہگاہ میں پہنچ کر سارا سبزہ چر جاتے ہیں اور گھاس پھونس بچ جاتا ہے۔
آپ کو چند مثالوں سے واضح کرتا ہوں، یہ شوگر ملز کے مالکان کون ہیں؟ یہ ہر سال حکومت سے سبسڈی کیسے لیتے ہیں؟ہر کابینہ ان کے حق میں قانون سازی کیسے کرتی ہے؟ ہر سال سرپلس پروڈکشن کیسے ہوتی ہے؟پھر وہ پروڈکشن غائب کیسے ہوتی ہے؟ پھر عوام کی جیب سے پیسہ چوری ہو کر کن کی جیبوں میں جاتا ہے؟
سیمنٹ کا نرخ کس طرح سے صرف ایک دو روپے کے فرق سے ملتا جلتا ہی کیوں ہوتا ہے؟جب کہ لاگت تو سب کی ایک سی نہیں ہوسکتی؟ بیس سال تک ہنڈا ایٹلس، ٹویوٹا پاکستان اور سوزوکی ایک ہی دن نرخ کیسے بڑھا لیتے ہیں؟ اور ان کا قیمت فروخت میں اضافہ ایک جتنا ہی کیوں ہوتا ہے؟
پاکستان کی تمام لارج سکیل انڈسٹری چند مخصوص ہاتھوں میں ہی کیوں ہے؟
کھاد کا کام کون کرتا ہے؟کھاد کے نرخ کون کنٹرول کرتا ہے؟کسانوں کے جیب سے پیسہ چوری کرکے کن کی جیبوں میں جاتا ہے؟
یہ کوئی ایسا معمہ نہیں ہے جو کسی بھی معاملہ فہم انسان سے چھپا ہوا ہو۔
ایسا کیوں ہے کہ الیکشن کی لاگت بیس کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے؟ یعنی اس کلب میں عوام کا کوئی بندہ شامل ہو ہی نہیں سکتا۔
اسمبلیوں میں آپ ایک درجن مڈل کلاس کے بندوں کی مثال دے سکتے ہیں؟
یہ جو لوگ پالیسی بناتے ہیں ان کا عوام کے مسائل سے کیا لینا دینا ہے؟ احسن اقبال، اسد عمر، خسرو بختیار، نوید قمر،اورنگزیب رمدے یا شوکت ترین کو کبھی زندگی میں ایک بار بھی معاشی تنگی محسوس ہوئی ہوگی؟
آپ کو کیا لگتا ہے کہ آنے والا بجٹ آپ کے لئے کوئی ریلیف لا سکتا ہے؟ آپ کی زندگیوں کو آسان بنائے گا یا آپ کے جہنم میں ایندھن کا اضافہ کرنے کی کوشش ہی ہوگا؟پچھلے دس سال میں آپ کسی ایسی قانون سازی کا بتا سکتے ہیں جس کا عوام کو براہ راست کوئی فائدہ ہوا ہو؟
آپ کو لگتا ہے کہ الیکشن کو سستا کرنا قانون ساز اسمبلی کے لئے مشکل کام ہے؟ ملک کی تینوں بڑی جماعتیں ایسے بلدیاتی نظام کے خلاف کیوں ہوں جس میں مالی اختیارات نیچے چلے جائیں؟ اور عام آدمی سٹیک ہولڈر بن جائے؟
ابھی چند ذہنی غلام آ کر آپ کو بتائیں گے کہ اگر عمران خان کو نہ ہٹایا جاتا تو سب ٹھیک ہوجاتا، کچھ کہیں گے کہ تیرہ سے اٹھارہ تک ملک اوپر اٹھ رہا تھا اور کچھ احمق ترین لوگ آپ کو بتائیں گے کہ صرف جاگیرداروں کی ایک جماعت کو ہی علم ہے کہ معیشت اوپر کسیے جانی ہے۔
یہ سب رانگ نمبرز ہیں،جھوٹے ہیں، فراڈ ہیں۔
کامران طفیل
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
اے آئی آج کی حقیقت۔
1. ChatGPT.com – ہر چیز کا جواب دیتا ہے۔
2. RecCloud.com/ai-subtitle – AI سب ٹائٹلز
3. Krea.ai - لوگو بنائیں
4. ElevenLabs.io – صوتی کلوننگ
5. Gamma.app – دستاویز
6. Suno.ai - موسیقی بنائیں
7. Runway.ml - ویڈیو ایڈیٹنگ
8. Relume.io – ویب ڈیزائن
9. Descript.com – آڈیو ایڈیٹنگ
10. Fliki.ai - وائس اوور
11. Tome.app - فوری پیشکشیں۔
12. Perplexity.ai – تحقیق
بک مارک کر لیں بڑے کام کی ایپس ہیں
⛅🔻امید سحر🔻⛅ retweeted
















