SHAHID CHOWDHRY retweeted
کل سید عاشق حسین شاہ کرمانی صوبائ وزیر زراعت کی استقبالیہ ریلی میں ہمارے موبائل اور نقد کیشن چوری ہوئے ہم نے دو بندے پکڑ کر ایس ایچ او ارسلان جوئیہ تھانہ حجرہ شاہ مقیم اوکاڑہ کے حوالے کیئے جن کو شام کو کسی کی سفارش یا رشوت پر چھوڑ دیا گیا @OfficialDPRPP
@okarapolice
SHAHID CHOWDHRY retweeted
صدقے جاؤں میں اپنی قیادت کے فیصلوں پر
ایک اور سیٹ کی گنجائش نکالیں #حریم_شاہ کو بھی MNAبنا دیں
میرے ملک کی تقدیر بدلنے کے لئیے @MaryamIkram93 ناکافی ہے
اتنی مشکلات جھیلنے کے بعد میری قوم کا نصیب تو چیک کریں
@NawazSharifMNS
@CMShehbaz
@MaryamNSharif
SHAHID CHOWDHRY retweeted
👇👇👇👇👇
@haniyarajput911
ضروری اطلاع ہماری شیرنی بہن کو ٹوئٹر پر خوش آمدید کریں
فالو کرتے جائیں اور فالو بیک لیں
SHAHID CHOWDHRY retweeted
پاکستان تو قائد اعظم نے ہمیں بڑی محنت و جدوجھد سے بنا دیا
جسمیں ہم ہر طرح سے آزاد زندگی گزارنے لگے پھر
ایک ڈھونگی آیا اس نے پاکستان بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا😭
پھر اللہ نے مرد مجاہد بھیجے اور انھوں نے پاکستان کو تباہی سے بچاتے ہوئے دن رات کی محنت سے پھر سے ایکبار پاکستان میں جمہوریت بحال کر دی
سلام ان مرد حق
مرد مومن
مرد مجاہد
پر !!!
🫡🫡🫡
SHAHID CHOWDHRY retweeted
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نوازشریف نے لاہور میں پہلا سرکاری کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کردیا
کینسر ہسپتال اسٹیٹ آف دی آرٹ ہوگا
جہاں تمام مریضوں کا بلاتفریق مفت علاج ہوگا
SHAHID CHOWDHRY retweeted
پی ٹی آئی کا ائی ایم ایف کو خط، ملک دشمنی کا واضح ثبوت*
پی ٹی آئی کے ایک مکتوب کے ذریعے عالمی مالیاتی ادارے(IMF) کو ملکی معاملات میں مداخلت کی کھلے عام دعوت دینا ایک شرمناک اور وطن دشمن حرکت ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے
مذکورہ خط میں کچھ ایسے نکات اٹھائے گئے ہیں جن کا مقصد پرامن سیاسی ماحول کو پراگندہ کرنا اور بالاخر عوام کی سہولت کے لیے کی جانے والی معاشی منصوبہ بندی کو تاخیر کا شکار بنانا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے کے ذریعے وطن عزیز کو مالی لحاظ سے زک پہنچا کر عالمی سطح پر ملک کے وقار کو مجروح کرنا ہے
پی ٹی آئی کے عمران نیازی کی ہدایت پر پی ٹی آئی ترجمان جو خود امریکی گرین کارڈ ہولڈر ہے، نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کو خط لکھا ہے اور
خط میں مطالبہ کیا ہے کہ آئی ایم ایف 2 ہفتوں کے اندر قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 30فیصد نشستوں کے انتخابی آڈٹ کو یقینی بنائے
خط کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کو مالی سہولت دینے سے پہلے گڈ گورننس سے متعلق شرائط نافذ کرے
۔خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے یہ کردار پاکستان کے عوام کے لیے ایک عظیم خدمت ہوگی
خط میں اس تاثر کو نمایاں کیا گیا ہے کہ پاکستانی ادارے جن میں جوڈیشری ، گورنمنٹ، پارلیمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں پر خط لکھنے والوں کو کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔
اس خط کے ذریعے آئی ایم ایف کو اکسایا گیا ہے کہ چونکہ ہمیں اپنے اداروں اور احتساب کے نظام پر اعتبار نہیں ہے تو لہذا مداخلت کریں اور 30 فیصد سیٹوں کا اڈٹ یقینی بنائیں، چاہے پاکستان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے اور اس کے نتیجے میں جو مرضی پابندیاں عوام پر لگانی پڑیں لگائیں
عالمی مالیاتی ادارے کو خط لکھ کر مداخلت کی دعوت دینے سے محب وطن حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر ذی شعور پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ کیا اس جماعت کا یہ مطالبہ ملک دشمنی کے مترادف نہیں۔۔۔ ؟
یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں آئی ایم ایف کا پروگرام پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، یہ جماعت اپنے شرمناک موقف پر ڈٹی ہوئی ہے ۔
یہ پہلا موقع نہیں جب اس جماعت نے آئی ایم ایف معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہو، اگست 2022 میں بھی جماعت کے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی کی آڈیو لیک ہوئی تھی کہ وہ آئی ایم ایف کے معاہدے کی تکمیل نہیں کرسکتے۔
پاکستان کی سیاست میں پی ٹی آئی وہ واحد پارٹی ہے جو شروع دن سے ہی پاکستان کی معیشت سے کھیلنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے ایسے میں جب پاکستان اپنی معاشی تاریخ میں کمزور مقام پر کھڑا ہے اور ڈیفالٹ کا خطرہ منڈلا رہا ہے، جماعت کا مذکورہ خط معاشی بلیک میلنگ کو سیاسی حربے کے طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی ایک کھلی سازش ہے
جس کا مقصد پاکستان کی معیشت کو تباہی سے دوچار کرنا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
اِس جماعت کی قیادت کی شروع دن سے یہ کوشش رہی ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کی توثیق نہ ہونے پائے جسکے نتیجے میں اگر معیشت تباہ حالی کا شکار ہوتی ہے اور ملک دیوالیہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری آئندہ حکومت پر ڈال کر سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے
۔ اقتدار کی ہوس میں اندھی جماعت کا خط ایک غیر ذمہ دارانہ اور وطن مخالف عمل ہے اور آئی ایم ایف کو خط لکھنے والے محب وطن نہیں اور اِس ملک کے اصلی میر جعفر ہیں۔ اگر ملک ڈیفالٹ کرتا ہے تو اس کا نقصان کسی سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ پاکستانی عوام کو اٹھانا پڑے گا
مذکورہ خط کے باعث خصوصی جماعت کے بانی کا یہ نعرہ کہ کیا ہم غلام ہیں اپنے اصلی روپ میں سامنے اگیا ہے - جس میں یہ جماعت امریکہ سمیت دیگر غیر ملکی اداروں سے گڑگڑا کر مدد کی اپیل کر رہی ہے خواہ اس میں ملکی سلامتی ہی کیوں نہ داؤ پر لگ جائے-
اور سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ عمران خان اور پی ٹی ائی ائی ایم ایف جس کا اقا یو ایس اے ہے، سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں جو کہ اس وقت فلسطین میں مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہے اور اس سے انصاف کی توقع کر رہے ہیں اللہ سے نہیں- پاکستانیوں سے مدد کی اپیل نہیں کر رہے بلکہ ائی ایم ایف سے مدد مانگ رہے ہیں جو کہ یہودیوں اور امریکن نے بنائی تھی - اللہ تعالی ہمیں اس منافقت اور جہالت سے محفوظ رکھے -
اور خط کے اخر میں یہ لکھنا کہ اگر ائی ایم ایف ایسا کرتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی سروس ہوگی، عمران خان اور پی ٹی ائی کا اس سے یہ کہنا مقصود ہے کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو اس سے پاکستان اور اس کے عوام ہمیشہ کے لیے اپ کے خادم اور تابعدار رہیں گے تو عمران نیازی کا حقیقی ازادی کا جھوٹا اور من گھڑت بیانیہ اس عبارت کے ساتھ ہی دفن ہو جاتا ہے جس سے پاکستانیوں کو بے وقوف بنایا جاتا رہا ہے.
SHAHID CHOWDHRY retweeted
Happy birthday Boss 🎁.
@MNehalHashmi
SHAHID CHOWDHRY retweeted
*سیاسی استحکام اور معیشیت کی بحالی واحد راستہ اور آپشن*
اپریل 2022 سے لے کر الیکشن 2024 تک ہم نے دیکھا کہ ملک میں مکمل طور پر ایک سیاسی ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کی گئی- جس سے ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی اب خدا خدا کر کے 2024 میں جنرل الیکشنز ہو چکے ہوئے جس کے نتیجے میں جو حکومت سازی کا عمل ہے وہ بھی اپنے فائنل مراحل میں داخل ہو چکا ہوا ہے
اگر ہم اپریل 2022 سے لے کر اب تک کی صورت حال کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے نظر آتی ہے کے اس دوران مختلف سیاسی جماعتوں میں تناؤ کی وجہ سے ملک میں سیاسی عدم استحکام رہا -
ماضی میں بھی ہم نے یہ دیکھا ہے کہ جب بھی پاکستان میں جنرل الیکشنز ہوتے ہیں تو مختلف سیاسی جماعتیں دھاندلی کا رونا روتی ہیں اور یہ زیادہ تر ٹرینڈ ہم نے ہارنے والی جماعتوں میں دیکھا ہے - 1977 سے لے کر اب تک جتنے بھی جنرل الیکشنز ہوئے ہیں اس میں ہارنے والی سیاسی جماعتیں اور سیاست دان ہمیشہ دوسرے جماعتوں پر اور اسٹیبلشمنٹ پر دھاندلی کا الزام لگاتے رہے ہیں 2024 کے کہ جنرل الیکشنز میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کا الزام لگا رکھا ہے
لیکن اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان الزامات کے باوجود جو سیاسی عمل ہے وہ اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہوا ہے جس میں حکومت سازی کا عمل زور و شور سے جاری ہے اور 29 فروری کو یہ عمل بھی مکمل کر لیا جائے گا اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب حکومت سازی کا عمل جو 29 فروری کو مکمل ہو جائے گا اس کے بعد پاکستان کو اگے بڑھنا ہوگا اور وہ درینہ مسائل اسپیشلی جو معیشت سے جڑے ہوئے مسائل ہیں ان کا حل نکالنا ہوگا اس کے لیے سب سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا اور نیشنل ریکنسلیشن کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں ان مسائل کا حل نکالنا اب ناگزیر ہو چکا ہے
انتشار، افرا تفری جلاؤ گھراؤ کی سیاست سے اب ہمیں دور ہونا پڑے گا اور سب کو مل کر ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا عوام کو اب ایسے عناصر کی نشان دہی کرنی پڑے گی جو ملک کو کسی بھی طرح سے اگے جانے سے روکنا چاہتے ہیں ہم سب کو یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستان اب کسی بھی سیاسی عدم استحکام اور معاشی زوال کا متحمل نہیں ہو سکتا اس کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور اپنی ذاتی اور چھوٹے سیاسی مفاد پر قومی مفاد کو فوقیت دینی ہوگی - پاکستان کے لیے اب یہ کوئی چوائس نہیں بلکہ ایک ناگزیر عمل بن چکاہے جہاں پر سیاسی استحکام اور معیشت کی بحالی ہی ہمارا واحد راستہ ہے
اپ کو صرف معاشی مسائل کی سنجیدگی کا اندازہ لگانے کے لیے صرف یہ پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کو جون 2024 تک 24 ارب روپیہ بیرونی قرضہ واپس لوٹانا ہے - اسی طرح اگلے تین سالوں میں پاکستان نے بیرونی قرضوں کی مد میں 79 بلین ڈالرز کا قرضہ واپس لوٹانا ہے -سٹیٹ owned انٹرپرائزز کی مد میں ہر مہینے حکومت کو کئی سو ارب روپے کا نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے
ایسے حالات میں وہ لوگ جو کہ ائی ایم ایف کو نئی گورنمنٹ کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت نہ کرنے کے لیے خط لکھ رہے ہیں ان کو بھی اس بات پر سوچنا ہوگا کہ کیا وہ ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں یا اس کو نقصان پہنچانے کی بات کر رہے ہیں ہم سب کو چاہیے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور اپنی ذاتی رنجشوں اور مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف پاکستان کا سوچیں.
پنجاب کے غیور عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لیے نواز شریف کی بیٹی میدان عمل میں آ چکی ہیں۔
پارلیمانی سیاست کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔
انشاللہ پنجاب چمکے گا۔۔


















