ہمارے ہاں صحافی اسٹبلشمنٹ کے اتنے وفادار ہو گے ہیں کے وہ ظلم کو بھی اعزاز سمجھ کر پیش کرتے ہیں
کتنے صحافیوں سوری نام نہاد صحافیوں کو سن چکا ہوں جو کہتے ہیں ریاست نے ٹی ایل پی جیسی مذہبی جماعت کو کچلا دیا پی ٹی آئی جیسی احتجاجی سیاست کرنے والی جماعت کے احتجاج کو کچل دیا تو مولانا کیا چیز ہے مطلب یہ اس جبر کی تعریف کر رہے اور یہ چاہتے ہیں کے مولانا کی جماعت کو بھی کچلا جائے مگر مولانا اور ٹی ایل پی ، پی ٹی آئی میں فرق ہے ٹی ایل پی ایک مذہبی جماعت تھی مگر وہ جن کے ہاتھوں میں تھی انہوں نے اپنے فرقے کے علما کو قریب بھی نہیں آنے دیا پھر ان کی عام عوامی سپورٹ تھی مدارس کا نیٹ ورک نہیں تھا نہ ان کے پیچھے فرقے کی سیاسی سپورٹ تھی نہ ان کی تنظیم تھی رہی بات پی ٹی آئی کی تو پی ٹی آئی کو ریاست نے 4 سال میں کچلا ہے مگر اب بھی مکمل طور پر کچلنے میں ناکام ہے پی ٹی آئی کی تو سب سے بڑی کمزوری ہی یہی ہے کے اس کی تنظیم نہیں ہے مگر مولانا کی جماعت کے پاس یہ دونوں چیزیں ہیں پہلی چیز مولانا کی جماعت کے اندر تنظیم بہت مظبوط ہے دوسرا دیوبند کے طریقے زیادہ مدراس ان کے کنٹرول میں ہیں پھر ایسا نہیں ہے کے مولانا ٹی ایل پی کی طرح بالکل ایک الگ سیاسی جماعت ہیں بلکہ ان کی اپنے فرقے میں ایک بڑے عالم کے اور سیاسی لیڈر کے طور پر حمایت اور پہچان ہے تیسرا ٹی ایل پی کو پاکستان کی سیاست گے گر نہیں پتہ تھے مولانا نے اسی گھاٹ کا پانی پیا ہے تو اسے ٹی ایل پی نہیں سمجھنا چاہیے
اور ان صحافی حضرات کو شرم آنی چاہیے کے فلاں کو کچل دیا فلاں کو کچل دیں گے یہ صحافت نہیں حرام زدگی ہے مولانا سے اگر آپ کو اختلاف بھی ہے تو اس کے کارکن کیا پاکستانی نہیں ہیں وہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں ان کو کچلنے کے خواب کیوں دیکھ رہے آپ
کس گدھے نے تمہیں مشورہ دیا تھا کے ساری ٹاپ قیادت کو مار دو
اب کہہ رہا میں ایران میں بندہ ڈھونڈ رہا مذکرات کے لیے مگر مجھے کوئ بندہ نہیں مل رہا جو مذکرات کی قیادت کر سکے ایران کی طرف سے
اگر امریکہ خامنائی کو قتل نہ کرتا تو شاید کب کا معاہدہ ہو جاتا
اب ایران نے بہت کچھ کھویا ہے ٹاپ لیڈر شپ سب سے بڑھ کر سپریم لیڈر اب وہ انتقام سے کم پر نہیں مانیں گے
وہ چاہتے اگر کوئ معاہدہ بھی ہو تو ایران فتح نظر آئے اور امریکہ سرینڈر کرتا ہوا
عاجل | ترمب: أحاول العثور على شخص للتفاوض معه في #إيران لكن لا أحد يريد تولي الرئاسة
اکسیوس کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کے ہم مشرق وسطی کے اتحادی ممالک کو کہا ہے وہ بعد تک تیار ہو ہم جنگ شروع کرنے جا رہے ہیں
بدھ مطلب 4 اکتوبر امریکی مڈٹرم 3 اکتوبر کو ہیں تو چار سے جنگ دوبارہ شروع ہونے کی تیاری ہو رہی ہے
ویسے قطر ثالثی کی کوشش کر رہا ہے مگر نکلنا کچھ نہیں ہے
خلفیہ اردگان کے سب سے قریبی دوست کے درمیان اسرائیل آ گیا
جمعے کو انقرہ میں ترک قوموں کے 13 ممالک کا اجلاس ہونا تھا جس کی سربراہی رجب طیب اردوغان نے کرنی تھی مگر ترکی کے سب سے بڑے دوست آذربایجان کے صدر الہام غلیف نے اجلاس میں شرکت سے ہی انکار کر دیا
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل سے آذربائجان کی دوستی کی وجہ سے آذربائجان اب ترکی سے راستے جدا کر رہا ہے اور پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے وہ آزاد ہے
یہی آذربایجان تھا جس کو آرمینا سے مار پڑ رہی تھی تو ترکی پاکستان نے اس کی مدد کی تھی اور کاراباخ کو اس نے فتح کیا تھا
اس میں اسرائیل نے بھی اس کی مدد کی تھی مگر ترکی تو کھل کر اس کی حمایت میں آ گیا تھا پاکستان نے تو آرمینا کو ملک ہی تسلیم نہیں کیا تھا ابھی ایک سال پہلے پاکستان نے تسلیم کیا ہے
ویسے شریف خاندان کے باکو کے اس ڈاکو سے قریبی تعلقات ہیں
جنگ کے دوران پاکستان کی آئل ریفائنریز کی چاندی لگ گی ہے
Pakistan refineries report 1,860% jump in profit amid war windfall s.nikkei.com/4zEY8l7
مشرق وسطی میں پاکستان اور ترکی کے دفاعی معاہدے خاص کر مشرق وسطی کی سیکورٹی میں جس طرح پاکستان آگے بڑھ رہا ہے یہ وہ سب سے بڑی وجہ ہے جو عاصم رجیم اور امریکہ کے درمیان محبت کی وجہ ہے
ٹرمپ نے آتے ساتھ ہی امریکہ فاسٹ کا نعرہ لگایا تھا اور امریکی معیشت اس قابل نہیں کے وہ مشرق وسطی کی سیکورٹی سنبھال سکے اس پر سونے پر سہاگا ایران امریکہ جنگ ہوئ امریکی اڈوں کی جس طرح تباہی ہوئ بحالی میں کئ سال لگ سکتے ہیں ایسے جب عرب ممالک کو ایک طرف اسرائیل کا خطرہ ہو دوسری طرف ایران کا اور اپنی فوجیں ہوں نہیں تو سیکورٹی کا خلا کون پر کرتا چین یا روس اگر یہ اس خطے میں آ جاتے تو پھر جو سیکورٹی دیتا ہے وہ اپنے مفادات بھی دیکھتا ہے پیٹرو ڈالر کی وجہ سے اس وقت امریکی ڈالر قائم ہے روس اور چین ڈالر کے مقابلے میں پہلے ہی برکس کرنسی لانچ کر چکے ہیں وہ یہاں آتے تو پیٹرو ڈالر بھی وڑ جاتا اور پھر وہ اتنی آسانی سے نکلتے بھی نہ اس لیے امریکہ کے لیے اس وقت سب سے موزوں پلیر پاکستان اور ترقی ہیں اور ان کے حوالے وہ مشرق وسطی کی سیکورٹی کر رہا ہے پاکستان کا کرادر زیادہ ہے کیونکہ پاکستان کو پنٹاگون سے کنٹرول کرنا کوئ مشکل کام نہیں ہے نہ پاکستان امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہے اگر کوئ بڑی طاقت آ جاتی تو وہ امریکی مفادات کو نگل جاتی
ٹرمپ کی ایران کو ایک بار پھر دھمکیاں
ایران کے ساتھ ہمارا معاملہ اب تک ختم نہ ہونے کی واحد وجہ یہ ہے کہ میں نرمی برتنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو ان تمام جانیں بچا لوں۔لیکن کسی نہ کسی وقت، ہمیں انہیں ہتھوڑا دینا پڑے گا۔
یہ نرمی ہے ان کا سپریم لیڈر مار دیا ٹاپ لیڈر شپ کی دو سطحیں اڑا دی یہ نرمی ہے
وہ پھر بھی نہیں گرے تو اب دھمکیاں دے رہا
ٹرمپ پر وہ مثال فٹ آتی ہے
کہ یہ باتیں چود سکتا ہے رنیں نہیں
ٹرمپ کہا رہا ہے صومالیہ ایک مردہ ملک ہے ہمیں صومالی اپنے ملک میں نہیں چاہیے
مگر اس سوال کا جواب کون دے گا کے صومالیہ کی اس حالات کا زمہ دار کون ہے 1960 میں صومالیہ اور صومالی لینڈ نے اٹلی اور برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور مل کر جمہوریہ صومالیہ وجود میں آیا ابھی آزادی کو نو سال بھی ہوئے تھے کے آرمی چیف صیاد بری نے صدر عبدالرشید علی شرمار کے قتل کی سازش کی اور قتل کر دیا اور خود اقتدار پر قبضہ کر لیا پہلے نو سال میں صومالیہ بہترین ملک نہیں تھا مگر آزادی کے صرف نو سال میں کوئ تھریڈ ورلڈ کا ملک جتنی معاشی ترقی کر سکتا وہ کر رہا تھا بیرونی قرضے نہیں تھے افراط زر میں اصافہ ہو رہا تھا ملک آہستہ آہستہ ٹھیک راستے پر چل رہا تھا مگر صیاد بری نے جیسے ہی اقتدار سنبھالا ملک کو تباہی کے پاتال میں ڈال دیا پہلے سوویت یونین سے اچھے تعلقات تھے مگر 1977 میں صومالیہ اور ایتھوپیا کی جنگ ہوئ اس جنگ میں سوویت یونین نے صومالیہ کے بجائے ایتھوپیا کی مارکسٹ حکومت کو سپورٹ کی تو صیاد بری نے امریکہ سے تعلقات بحال کر لیے اور پھر شروع ہوا مزید تباہی کا دور سرد جنگ میں امریکہ کو صومالیہ کی ضرورت تھی صیاد بری نے وہ کی بدلے میں فوجی امداد ملی سپورٹ ملی اور صیاد بری نے امریکی مدد سے ظلم کے پڑھ توڑے سیاسی مخالفین کو کچلا آزادی اظہارے رائے پر پابندی لگائ جبری گمشدگیاں جبر اور سب کچھ کیا اپنے شہریوں کے خلاف بدترین فوجی کاروائیاں کی اس دوران فوج کے ہاتھوں ہزاروں افراد مارے گے لاکھوں بے گھر ہوئے مگر امریکی مدد اور سپورٹ جاری رہی ہیومن رائٹس تنظمیں چیخ رہی تھی مگر ریگن انتظامیہ صیاد بری کی امداد کیے جا رہے تھے
اسی 80 کی دہائ میں امریکہ کی تیل کی کمپنوں Amoco ، Phillips Petroleum —، Chevron، Conoco کو صومالیہ کے دو تہائ علاقے رعایتی معاہدوں کے تحت دیے گے اور تیل جیسی قیمت امریکہ لوٹتا رہا بدلے میں صیاد بری اپنے لوگوں کو مارتا رہا اور امریکی مدد سے اقتدار کرتا رہا 1989 میں امریکی کانگریس نے انسانی حقوق کی پامالیوں پر دباؤ ڈالا اور صیاد بری کی امداد بند کر دی گی اور دو سال بھی نہیں نکال پایا 1990 میں اس کے خلاف مسلح بغاوتیں عروج پر تھی درالحکومت مقدیشو سے باہر نہیں نکل سکتا تھا 1991 میں فرار ہوگیا ایک اور اہم بات امریکی گانگریس کا دباؤ تھا مگر جس پوائنٹ کی طرف اکثر اشارہ نہیں ہوتا وہ یہ کے 1989 تک سوویت یونین ٹوٹنے کے قریب تھا بلکہ 1991 میں تو باضابط ٹوٹ بھی گیا تو صیاد بری کی ضرورت نہیں رہی اس لیے امریکی گانگریس کے دباؤ کے نام پر امریکہ نے مدد چھوڑ دی صومالیہ ایسی خانہ جنگی کا شکار ہوا کے آج 35 سال ہوگے خانہ جنگی ہے اب اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے صومالی لینڈ بھی صومالیہ سے الگ کر لیا ہے
صیاد بری کی حکومت کے بعد 1992 میں جارج بش مسلح تنظیموں کے خلاف آپریشن کے لیے امریکہ نے آپریشن restore hope شروع کیا 25 ہزار امریکی فوجی بھیجے
1993 میں امریکہ اور اقوام متحدہ نے مل کر کاروائیاں شروع کی اور جون میں اس فوج کا فرح عیدید کے جنگجووں سے آمنا سامنا ہوا اور اسی لڑائ میں پاکستان کے 25 فوجی مارے گے تھے اکتوبر 1993 میں موغادیشو کی لڑائ ہوئ جس میں دو امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر مار گرائے گے 18 امریکی فوجی مارے گے اور سینکڑوں صومالی جنگجو ہزاروں عوام مر گی
1994 میں بل کلنٹن نے فیصلہ کیا یہاں سے فوج واپس بلائ اور 1995 میں اقوام متحدہ کا امن مشن بھی بھاگ گیا آج بھی نام نہاد حکومت ہے باقی بڑے حصے پر الشباب کا قبضہ ہے دیگر دہشتگرد تنظیموں کے اڈے پورے ملک میں ہیں اس 35 سال میں لاکھوں انسان بھوک قحط اور خانہ جنگی میں مارے گے آج 51 لاکھ افراد خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں
18 لاکھ بچے غزائ قلت کا شکار ہیں
غربت بھوک لاشیں ہیں
بالکل ٹرمپ صومالیہ مردہ ملک ہے مگر اگر امریکہ صیاد بری ڈکٹیٹر کی مدد جاری نہ رکھتا وہ لوگوں کو فوجی کاروائیوں میں قتل نہ کرتا تو صومالیہ کے لوگ بندوق نہ اٹھاتے جب انہوں نے بندوق اٹھا لی تو خانہ جنگی ہی ہونی تھی اس خانہ جنگی اور تباہی کا زمہ دار اگر کوئ واحد ملک ہے تو وہ امریکہ ہے جس کا صدر آج کہہ رہا صومالیہ کے لوگوں کی امریکہ میں کوئ جگہ نہیں ہے
انڈیا کی ریاست اورناچل پردیش میں اس وقت دنگے چل رہے ہیں
اور بھارت سرکار نے اسپشل فورس کو جہازوں کے ذریعے اروناچل پردیش بھیجا ہے احتجاج کو کچلنے کے لیے مگر اصل مدعا یہ ہے کے چین بھارت کے بارڈ کے بالکل قریب بھرما پتر دریار پر دنیا کا سب سے بڑا ڈیم medog ڈیم medog کے مقام پر بنا رہا ہے بھارت کو یہ خطرہ ہے کے چین ہمارا پانی روک لے گا جس سے خشک سالی ہو جائے گی یا پھر سیلاب کی وجہ سے اتنے بڑے ڈیم کا پانی کھولا یا زلزلے سے ڈیم ٹوٹ گیا تو بھارت میں بڑی تباہی آ سکتی ہے ہم اس ڈیم سے روک لیں گے مگر اروناچل پردیش کے لوگ یہ بات نہیں مان رہے اور قانون کہتا ہے لوگوں کی مرضی کے بغیر ان کے علاقے میں ڈیم نہیں بنا سکتا لوگوں کا کہنا ہے لاکھوں لوگ نقل مکانی کریں گے بہت سالا علاقہ ڈیم میں آ جائے گا اگر یہ ڈیم بن جاتا ہے تو یہ بھارت کا سب سے بڑا ڈیم ہوں گا
مگر چین جو بنا رہا وہ 60 ہزار میگاواٹ کا ہے بھارت جو بنا رہا وہ 11 ہزار سے کچھ زیادہ میگا واٹ کا ہے اگر 60 ہزار والا ڈیم ٹوٹا تو 11 ہزار والا امب کرے گا دوسرا یہ سوکھا نہیں پڑے گا بھرماپتر دریا میں تبت کی طرف سے پانی 30 فیصد آتا ہے جب کے بھارت میں اس کا پانی اورناچل پردیش کے ندی نالوں اور بارشوں کا پانی آتا ہے تو پانی کم تو ہوگا مگر سوکھے گا نہیں
مگر ایک بات ہے بھارت کیسے پلاننگ کرتا ہے اور ہم کہتے ہیں تم نے ہمارا پانی بند کیا تو ہم تمہاری سانس بند کر دیں گے اور وہ پانی بند کر دیتے ہم کچھ بھی نہیں کر پاتے
چین وہاں ڈیم بنا رہا جہاں سرخ نشان ہے great bend U پر اور بھارت SIANG River پر
متحدہ عرب امارات حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف مدد کر رہا ہے سعودی عرب نے یمن میں جیسے متحدہ عرب امارات کے بیک قبائل کو ختم کیا تھا محمد بن زاہد اس کا بدلہ لے رہا ہے ڈراپ سائٹ کے مطابق کے STC جو یمن میں متحدہ عرب امارات کی پراکسی تھی یمن میں متحدہ عرب امارات کی شکست کے بعد اس تنظیم کے لوگ سعودی بیکڈ یمنی حکومت میں شامل ہوگے اور اب اس جنگ کے دوران وہ حوثیوں سے معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں ان کو اہم ٹارگٹ کی معلومات فراہم کر رہے ہیں اور جنگ میں یمنی فورسز کے ساتھ آگے آ کر لڑتے بھی نہیں ہے
متحدہ عرب امارات کو موقع ملا ہے اور وہ محمد بن سلمان سے بدلہ لے گا ویسے بھی پورے افریقہ میں متحدہ عرب امارات کی پراکسی اور اسرائیل مل کر تباہی مچا رہے ہے یہاں سے ان کو نکالا گیا تھا اب اچھا موقع ملا ہے
اس سوچ اور ذہنیت کے ساتھ اگر آپ کو لگتا کے آپ افغانستان طالبان سے بات منوا لیں گے تو آپ احمق ہی ہیں
اس سوچ کے ساتھ تو امریکہ بیس سال طالبان کو نہیں منوا سکا آپ کیا کر لیں
دو مسلمان ممالک کے درمیان معاملے فہمی کے بجائے پاکستان کی فوج طاقت سے مسلہ حل کرنا چاہتی ہے
جو کبھی نہیں ہوگا
چینی وزیر برائے بین الاقوامی امور
اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان پہنچ گے
مگر استقبال انوشے رحمان نے کیا
توں سمجھا نہیں توں نہیں سمجھا
فوج کا بیانہ کیوں نہیں چلتا
بیانہ میں چلنے کے لیے تھوڑا بہت جھوٹا شامل کرنا پڑتا ہے یہ نہیں ہو سکتا پورا بیانہ ہی جھوٹ ہو فوج کا اس وقت کا بیانہ مکمل جھوٹ ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ رہے افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی ہے
اب یہ جھوٹ تو کیا جھوٹ کا بھی باپ ہے
مشرق سے لے کر مغرب تک دنیا جانتی ہے طالبانوں کو پالا پاکستان نے ان کو اسلحہ طاقت پاکستان نے دی ان کے اقتدار میں آنے پر مٹھایاں پاکستان میں بٹی اور وہ بھارت کی پراکسی کیسے ہو گی
ڈی جی آئی ایس پی کا برطانوی نیوز ایجنسیوں کو انٹرویو
بھارت پاکستان میں دہشتگردی کا سب سے بڑا سپانسرڈ ہے
افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی ہے
مگر ڈی جی صاحب آپ کی ماں مریم نواز نے ہمیں بتایا ہے کے انہیں بھارت سے نہیں دوسرے صوبوں سے خطرہ ہے
دوسری طرف بھارت میں کوئ دھماکا ہو تو وہ آپ کے خلاف جنگ شروع کر دیتے
یہاں پاکستان میں پاکستانی دہشتگردی سے مر رہے ہیں اور آپ صرف بیان دے رہے ہیں
منیب فاروق جس قابل احترام شخصیت کی عمران ملاقات کا کہہ رہا ہے کے اس ہفتے ہو جائے گی کیا وہ طارق جمیل ہے
لوگ کہتے ہیں صرف پاکستان کے جرنیل غلط ہیں
جرنیل اکیلے مجرم نہیں ایک ایک فوجی ایک ایک پولیس والا مجرم ہے
جو جھوٹی گواہیاں دیتے جھوٹے پرچے دیتے گولیاں چلاتے
یہ سارے پاکستان کے قانون کے بھی مجرم ہیں
اور خدا کے قانون کے بھی مجرم ہیں
میری جیل کے قید کے دوران یہ خیال مجھے بھی ہمیشہ آتا رہاکہ ایسا کوئی غیرت مند نہیں جو غلط کام کرنے سے انکار کردے
مجھے اس احتجاج میں شرکت پر ۳۴ دن جیل میں رکھا گیا جس سے میرا دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا میں یہی سوچتی رہی کہ کیا کسی میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں تھی کہ وہ جھوٹے مقدمے کا حصہ بننے سے انکار کر دیتا؟
مجھے گرفتار کرنے والی خاتون سے لے کر انویسٹیگیشن آفیسر، پراسیکیوٹر اور شناخت پریڈ کروانے والے تمام افراد کو معلوم تھا کہ میں اس احتجاج میں موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے باوجود سب نے اپنا کردار ادا کیا اور مجھے جیل بھجوا دیا۔
میری گرفتاری کے بیس دن بعد شناخت پریڈ کروائی گئی۔ اس میں دو پولیس اہلکار آئے، میری طرف اشارہ کیا اور کہا کہ انہوں نے مجھے شناخت کر لیا ہے۔اس لمحے ان دونوں افراد کے لیے میرے دل سے بددعا نکلی کہ جنہوں نے میرے ساتھ یہ جھوٹ باندھا۔ کہ اللہ ان کی اولادوں کے ذریعے انہیں ان کے کیے کا پورا بدلہ دکھائے۔
Rebel Flame 🔥 retweeted
میں محورِ شوخئ مستی و انا ہوں
میں رنگین خیالوں کا الجھا ہوا جہاں ہوں
🖤❤️
#UjiiWrites
وزیر دفاع خواجہ آصف کیا رہا ہے ہمارے فیصلوں میں فوج شامل ہے اور اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر فوج ہینڈل کر رہی ہے اور ہم کل اس کو ڈس اون نہیں کریں گے
خواجہ صاحب آپ ہی ادھر ہیں ہم بھی ادھر آپ تو کیا آپ کے ابا حضور بھی ڈس اون کریں گے اور کہیں گے جو کر رہی تھی فوج کر رہی تھی ہم بے بس تھے
دوسرا کیا پاکستان کا آئین فوج کو حق دیتا ہے وہ خارجہ پالیسی بنائے حکومتی فیصلوں میں مشورے کرے اور حصہ دار بنے
لعنت تیرے جمن تے بغیرتا











