Be proad to be a Pakistani

Punjab, Pakistan
Joined October 2017
عاصم خان شیروانی retweeted
حکومت سے مطالبہ ہے کہ وارداتیوں کو فواراًپکڑا جائے
پنجاب میں چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں انتہائی تشویشناک ہیں
74
221
18
1,320
35,029
عاصم خان شیروانی retweeted
مولانا فضل الرحمٰن جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔ نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے۔ جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا میں نااہلی کے انبار لگا دیے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا۔ صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیے۔ جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔ پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ ہر روز کسی ماں کا لختِ جگر، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا شوہر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آتا ہے۔ان شہیدوں کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔ آپ کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں، آپ کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں۔ اور جن کی حمایت میں آج آپ کھڑے ہیں، کل یہی آپ کے بارے میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔ خیبر پختون خواہ میں میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اور کوئی نہیں تحریک انصاف خود ہے۔
2,658
2,123
389
5,445
1,248,108
عاصم خان شیروانی retweeted
🚨🚨پشاور کی دیر کالونی میں الخیر ماڈل سکول کی چھت گرنےکے واقعہ میں سکول ٹیچر سمیت جاں بحق بچوں کی تعداد 30 ہو گئی ۔
9
36
5
340
10,049
عاصم خان شیروانی retweeted
پشاور کی دیر کالونی میں الخیر ماڈل سکول کی چھت گر گئی ۔۔ ٹیچر سمیت 21 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں ، بچوں کی عمریں 13 سال سے کم ہیں۔۔۔ خدایا رحم 💔
35
95
13
485
12,220
عاصم خان شیروانی retweeted
پاکستان کی کل معدنیات اور تیل کی برآمدات تقریباً 500 ملین ڈالر ہیں، جب کہ اکیلے ٹیکسٹائل کی برآمدات 18 بلین ڈالر ہیں اور پنجاب اکیلے 70 فیصد ٹیکسٹائل برآمدات پیدا کرتا ہے... تو مجھے نہیں معلوم کس نے آپ کو بتایا کہ پاکستان خیبر پختونخوا کی معدنیات پر چل رہا ہے؟ ہاں، خیبر پختونخواہ پاکستان کا ایک اہم حصہ ہے اور اسے وفاقی وسائل پر پورا حق حاصل ہے، لیکن اتنی مبالغہ آرائی سے کام نہ لیں۔۔
This quoted post is unavailable.
89
459
24
1,401
47,891
عاصم خان شیروانی retweeted
آپ کو ضیاء الحق سے لاکھ اختلاف ہو مگر آپ اگر منصف مزاج ہیں تو آپ کو ماننا پڑیگا کہ اسکا روس کے مقابل کھڑا ہونے کا فیصلہ دل گردے کا فیصلہ تھا۔اسی طرح اس کا انڈیا سے رویہ مسلسل دھمکا کر رکھنے کا رہا۔اس کے بعد ہمیں ایسے سربجیب حکیم میسر آئے جو پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے۔تاہم اب حافظ صاحب کو دیکھیے ایسی جارحانہ پالیسیاں ہیں کہ حماقت کی حدوں کو چھوتی محسوس ہوتی ہیں۔ایک طرف مشرق وسطیٰ میں جارحانہ انٹری ہے تو دوسری طرف افریقہ تک گستاخانہ نگاہیں دوڑتی دکھائی دیتی ہیں تو تیسری طرف ایران امریکہ پھڈے میں ٹانگ اڑائی ہوئی ہے اور چوتھی طرف انڈیا اور افغانستان پر شیر والی نگاہ گاڑھ رکھی ہے۔اس سب کے ساتھ ساتھ اندرون ملک بھی اکھاڑ بچھاڑ زوروں پر ہے اور سیاسی بھونچال بھی در و دیوار لرزا رہا ہے۔ان میں سے کسی بات میں کوئی مبالغہ نہیں مگر یہ حقیقت بیان کرنے سے بھی نامعلوم کتنے ہیں کہ جن کی دموں میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔۔۔۔موتوا بغیضکم۔۔۔
156
180
14
773
32,485
عاصم خان شیروانی retweeted
معدے تک جائے تب نکلتے ہیں، کیونکہ اسکے بعد گلے تک جائے تو آنسو کیا سانس بھی رُک جاتی ہے۔ ۔
مرد کی آنکھ سےآنسو تب نکلتے ہیں جب وہ اندرسے ٹوٹ چکاہو
6
12
2
107
2,746
عاصم خان شیروانی retweeted
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں کو تیرہ برس صرف دھرنے،انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز ملے۔ آج اگر خیبر پختونخوا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہا ہے تو یہ عوام کا نہیں،تیرہ سالہ نااہلی کا قصور ہے خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں سے سوال ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک ہی ملک میں ہیں،ایک ہی آئین اور ایک ہی قومی خزانے کے حصہ دار ہیں،پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں؟ فرق وسائل کا نہیں، نیت اور اہلیت کا ہے۔ اگر پنجاب ستھرا ہو سکتا ہے تو خیبر پختونخوا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں صفائی نہیں، صرف سیاست ہوئی۔ اگر پنجاب کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپ مل سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ترجیح بچے نہیں، دھرنے تھے۔ اگر پنجاب کی مائیں بے فکر ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں؟ کیونکہ وہاں توجہ عوام کی حفاظت پر نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی پر رہی۔ اگر پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چل سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں منصوبے زمین پر نہیں، صرف سوشل میڈیا پر چلے۔ اگر پنجاب کے گاؤں تک پختہ سڑکیں پہنچ سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کی سڑکیں ادھوری کیوں؟ کیونکہ وہاں وعدے ہوئے، کام نہیں۔ اگر پنجاب میں مفت دوا، فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز دہلیز پر ہیں تو خیبر پختونخوا کا مریض بے بس کیوں؟ کیونکہ وہاں عوام کی صحت سے زیادہ اقتدار عزیز رہا۔ "کیوں" کا جواب ایک ہی ہے: تیرہ سالہ انتشار اور نااہلی! پنجاب نے ثابت کر دیا کہ حکومتیں بڑھکوں سے نہیں، کام، کام اور کام سے چلتی ہیں۔خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے۔
5,558
2,551
697
7,378
1,754,151
عاصم خان شیروانی retweeted
إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا ترجمہ: میں نے گیارہ سیارے دیکھے۔ اس آیت میں نقطے بھی پوری گیارہ ہیں۔ یہ ہے عددی معجزہ جو سب سے نچلے درجہ کا معجزہ ہے۔باقی پوری آیت پیشگوئی پر مبنی ہے جو پوری شان سے پوری ہوئی۔ ارے حضور آپ ایک آیت بناؤ تو سہی قرآن مجید کے مجھ ایسے لاکھوں +
2
9
28
1,244
عاصم خان شیروانی retweeted
A Pink Revolution in Punjab! 🌸 The Electric Bikes Scheme for Students is receiving an overwhelming response, with 1,149,058 registrations so far. What makes this initiative even more special is the remarkable participation of our daughters: 222,101 female students almost 50% of all applicants have applied for electric bikes. Distribution will start early November Insha’Allah! Mobility, independence and opportunity for Punjab’s youth, with our daughters leading the way. 💗
179
620
29
1,301
82,765
عاصم خان شیروانی retweeted
اور ناظرین آج بڑے چر کے بعد عاطف رؤف سے گفتگو شنید ہوئی حال احوال کے بعد کہنے لگے جہاں باقیوں کا موقف سنا ہے ہمارا بھی سن لیں اور یہاں یہ بتلانا ضروری سمجھوں گا کہ عاطف رؤف وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے دن بھر رات محنت سے لون لیگی کوچھل میڈیا کی بنیاد رکھی تھی اور پھر انہوں نے بتلایا کہ میرے ساتھ جو ہوا اس پر مٹی ڈالیں لیکن میرے والد کی دہائیوں کی محنت عزت تکریم کو مٹی میں ملاتے ہوئے اس شخص کو ضلعی صدارت دی گئی جس نے ساری زندگی نوازلیگی مخالفت کی ہے حالانکہ پنجاب میں کئی ضلعی صدر گزشتہ انتخابات ہارے تو کیا انہیں بھی صدارت سے ہٹا کر اسی شخص کو صدر بنایا گیا ہے جس نے انہیں ہرایا ہو اور یہ فیصلہ صرف اور صرف میرے والد کو نیچا دکھانے کیلئے کیا گیا ہے اور ہم اس پر بھی خاموشی سے زہر کا گھونٹ پی گئے ہیں کیونکہ ہمارا سیاسی قائد صرف اور صرف نواز شریف ہے عاطف رؤف کی پوری گفتگو سننے کے بعد مورخ نے ماحول کو افسردہ ہونے سے بچاتے ہوئے انہیں ایک قصہ سنایا جس میں ایک مائی ویاہ والے گھر چھت پر ستی پئی ہوتی ہے اور ایک خاوند اپنی بیوی کے پلیکھے میں گھپ اندھیرے میں مائی سے پوچھتا ہے “ چاول کھائے ہیں “ جس پر مائی کہتی ہے ہاں اور اس کے بعد وہ شخص ووٹ ڈال کر نکل جاتا ہے اور جب چوتھی مرتبہ اسی مائی کو جگا کر وہی سوال پوچھتا ہے تو مائی کہتی “ میں کلے نے چاول نہیں کھادے پوری جنج نے کھادے نے “ اور اس پر عاطف رؤف پوچھنے لگے کہ اس قصہ کا ہمارے ضلعی صدرات سے کیا تعلق ہے تو مورخ نے سغٹ کا لما سوٹا لگایا اور دھواں باہر نکالتے ہوئے کہا “بہاولنگر صدارت نوٹیفیکیشن میں مورخ وہ مائی ہے جس میں ہر کوئی اپنا موقف تُن رہا ہے “ بہرحال میاں صاحب رانا عبدالرؤف صاحب جیسے وفادار ساتھی اور ان کے صاحبزادے عاطف رؤف جیسے وفا کے پیکر کے ساتھ یہ زیادتی ہوئی ہے اور پرانے مشکل کے ساتھیوں پر لوٹوں کو ترجیح دینا ظلم ہے میاں صاحب رانا رؤف جیسے چراغ جلیں گے تو روشنی بھی ہو گی اور روشنی میں ڈانگیں روکنا اساں ہوگا
51
265
12
844
34,827
عاصم خان شیروانی retweeted
“A SOCIETY that loses its grip on FACTS loses its grip on itself.” When facts become negotiable,truth becomes tribal,evidence is replaced by emotion,rumours by reporting, and political loyalty by reality. The deeper DANGER is society loses a shared understanding of what is REAL.
3
4
14
2,987
عاصم خان شیروانی retweeted
ذات دی کوڑ کِرلی تے شتیریاں نوں جپھے کُم کُم کے اپنی ہی پوُنچھل تے دندیاں نا وڈھی جا ڈگری چیک کروا
گزشتہ 4 دنوں سے پچیس پچیس ہزار ماہانہ پر ملازمت کرنے والا فرح گوگیوں کا سوشل میڈیا سیل گالی گلوچ اور آئیں بائیں شائیں کری جا رہا ہے لیکن مرکزی سوال کا جواب نہیں دے رہا۔۔ محترم آپ بچھو کا اصل نکاح نامہ پبلک کریں تاکہ بحث ہی ختم ہو اور ہم سب آگے چلیں۔
4
23
73
616
عاصم خان شیروانی retweeted
خالی برتنوں کا سنا تھا کہ وہ زیادہ شور کرتے اے خالی "چمچے" کس چکر ایچ کھپ پان دی کوشش کر رے؟
1
5
17
594
عاصم خان شیروانی retweeted
اپنی فطرت میں انسانی شخصیت تضادات کا مجموعہ ہے، اسکو ایسے ہی دیکھنا چاہئیے۔ کسی ایک شخصیت کے متعلق صاف ستھرا یا پرفیکٹ ہونے کا امیج بنا لینا ہماری شدید غلطی ہوتی ہے۔ اسی لئیے ہمیشہ سے مجھے سوشل میڈیا پہ اخلاقیات کے لیکچرز وغیرہ بالکل تصنع اور ریاکاری لگا کرتے تھے۔۔۔ اِٹس جسٹ میٹر آف ٹائم کہ کس کے بدبو دار پیروں سے جرابیں کب ڈھیلی ہوتی ہیں اور اس کی بدبودار شخصیت سے ماحول کب متعفن ہوتا ہے۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ
2
8
36
1,540
عاصم خان شیروانی retweeted
میری طرف سے کالے چور کو بنا دیں۔ مجھے کیا فرق پڑتا ہے لیکن تنقید کرنے پر زبان بندی نہ کریں ہماری۔ لوگوں کو دھمکیاں نہ دیں۔ اتنی سی عرض ہے۔
میرے پیارے بھای ن لیگ صرف شوشل میڈیا کی پارٹی نہں ناں ہی شوشل میڈیا کی وجہ سے بنی جیسے PTI 1985 سے وجود ھے اس پارٹی کا اور تب چوچل میڈیا نہں تھا ضروری نہں کہ جو عہدہ کیسی کو دیا گیا وہ چوچل میڈیا کا بندہ ھو یا اسکو چوچل میڈیا والے پہچانتے ھوں ہزاروں نہں لاکھوں ایسے کارکن ہیں جن کے چوچل جو چوچل میڈیا کر ایکٹو نہں مگر قیادت انکو ذاتی طور پر دہایوں سے جانتی اسلے میرے پیارے بھای زرا سا جان کو مشکل میں ڈال کر کیسی کا بھی سابقہ ریکارڈ نکلوایا جا سکتا کہ اگر یہ عہدیدار بنا تو کس بنیاد پر ۔ یا نُ لیگ اب ایک ویب سائٹ بناے جہاں ہر عہدارے کا بائیو ڈیٹا لکھے کہ کب سے ھمارے ساتھ ھے اس نے کیا قربانی دی یا کہاں کہاں سپورٹ کیا تب آپ سب کی طرف سے اسکی منظوری ملے اور اسکو عہدہ ملے چوچل میڈیا سے پہلے کی دنیا ابھی مری نہں مہربانی فرمائیں آپ سب بھای لوگ جو پرانے ہیں انکو قبول کریں کھولے دل سے
1
19
1
101
3,749
عاصم خان شیروانی retweeted
میاں نواز شریف کو سیاسی لیڈر مانا ہے۔ مرشد نہیں کہ پہلے لفظوں کو وضو کروائیں اور پھر تنقید کریں۔
7
44
7
300
5,361
عاصم خان شیروانی retweeted
پی ٹی آئی اپنے جس رویے کے سبب آج والی صورتحال میں پہنچی ہے اگر رویہ تبدیل نہ ہوا تو کوئی تبدیلی بھی نہیں آئے گی نوٹ: اب یہ نہ کہنا کہ یہ وقت ایسی باتیں کرنے کا نہیں وہ وقت تو کبھی بھی نہیں آتا جب خود اصلاحی بارے بات ہو سکے، باقی عمران خان ہماری اجازت سے فوج کی گود میں بیٹھے تھے اور نہ ہی لڑائی ہمارے کہنے پر شروع کی تھی، یہ اقتدار کی جنگ ہے اقدار کی نہیں
266
348
25
1,659
52,034
عاصم خان شیروانی retweeted
کسی حکومتی شخصیت سے گلہ نہ کریں، کیا ہم سب واقفان حقیقت کو علم نہیں کہ موجودہ حکمران طبقے کی اوقات دروازے پر کھڑے چپڑاسی جتنی بھی نہیں ہے یعنی انکی اتنی اوقات بھی نہیں ہے کہ یہ اپنی مرضی سے دروازہ کھول یا بند ہی کر سکیں، اس لئے ان چابی والے کوگھو گھوڑوں سے گلہ نہیں بنتا بلکہ ان کیلئے دعائے خیر کرنی چاہیئے کیونکہ ان کا مستقبل چیخوں سے بھرپور نظر آتا ہے کیونکہ جو یہ بو رہے ہیں، وہ ان سے کاٹا نہیں جائے گا۔
ہاں ،میں عادی مجرم ہوں۔بلال غوری کا روزنامہ جنگ میں کالم اادہ تو یہ تھا کہ رہا ہوتے ہی اسیری کی روداد بیان کرونگا مگر یہ مشاہدات اور تجربات اُدھار رہے۔ سردست مجھے ایک اور قرض چکانا ہے ۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ انہوں نے جو فرمایا ،سب میراسرمایہ ۔سال میں دو مرتبہ حکومت اپنے منظور نظر افراد کو تمغے اور اعزازدینے کا اعلان کرتی ہے مگر قبلہ طلال چوہدری نے مجھے جو تمغہ امتیاز عطا فرمایا ہے وہ سب سے بیش قیمت اور قابل قدر ہے ۔سرتسلیم خم،میں عادی مجرم ہوں ۔خارزار صحافت میں قدم رکھا تو اساتذہ نے یہی درس دیا کہ ’’ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا‘‘۔یہی وجہ ہے کہ کبھی قلم کی حرمت پامال ہونے یا اساتذہ کے شرمسار ہونے کی نوبت نہیں آئی ۔مسلم لیگ ن کی دوتہائی اکثریت جب پرویز مشرف کے دور میں 15نشستوں تک محدود ہوگئی تو زباں بندی اورقحط صدا کے اس دور میں جاوید ہاشمی جیسے ’’باغیوں‘‘کیلئے آواز اٹھائی ۔آپ شاید تب بھی تنظیم سازی میں مصروف رہتے ہوں گے ۔ مشاہد اللّٰہ خان ، عرفان صدیقی اور صدیق الفاروق جیسے قدآور لوگ تورخصت ہوئے ،جاوید ہاشمی آپ کے نزدیک اب ’’باغی‘‘ نہیں بلکہ ’’داغی‘‘ہوچکے لیکن سینیٹر پرویز رشید حیات ہیں ،آپ نے ان سے ہی رجوع کرلیا ہوتا تو میرے جرائم کی طویل ترین فہرست دستیاب ہوجاتی ۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف سے ہی دریافت کیا ہوتا کہ جب وہ پابند سلاسل تھیں تو میرے ناقابل اشاعت کالموں کا مجموعہ ’’لاپتہ کالم‘‘پڑھنے کے لیئےکیوں منگوایا۔ وفاقی کابینہ میں اپنے ساتھیوں سے تفصیل معلوم کی ہوتی، عطا اللّٰہ تارڑ ،احسن اقبال یا اسحاق ڈار سے پوچھ لیا ہوتا کہ جب سیاسی بندوبست کے تحت پانامہ کی آڑ میںحکومت گرانے کی کوشش کی جارہی تھی تو اس ’’عادی مجرم ‘‘کا کیا کردار رہا؟ جب ثاقب نثار المعروف ’’بابا رحمتا‘‘کی طرف سے نہال ،طلال اور دانیال کو توہین عدالت کے ہتھوڑے سے نااہل قرار دے کر سیاست سے باہر کیا جارہا تھا تو اس ظلم اور جبر کے خلاف آواز اُٹھانے پر میرے اہلخانہ کو اسی قسم کی پریشانیوں کا سامنا رہا ،جس نوعیت کی ابتلا وآزمائش کا سامنا آج کرنا پڑ رہا ہے۔گائوں میں میرے بڑے بھائی کو متنبہ کیا گیا کہ اسے سمجھائو ،باز آجائے ورنہ اس کی لاش بھی نہیں ملے گی ۔قومی احتساب بیورو یعنی نیب کی کند تلوارسے سیاستدانوں کی گردنیں اُتاری جارہی تھیں تو اسی ’’عادی مجرم ‘‘نے نتائج کی پرواکئے بغیر کلمہ حق بلند کیا ۔مگر شاید آپ کو موسمیاتی باغی اور مزاحمت کار پسند ہیں ،وہ جو تب سوال اُٹھائیں جب آپ مشکل میں ہوں لیکن مشکلیں کافور ہوتے ہی لمبی تان کر سو جائیں ،آپ کے برسراقتدار آنے کے بعد کسی مالی منفعت کے پیش نظرخاموش ہوجائیں ۔ آپ کے قائد کی طرح سمسٹر انقلابی ہوں ،جب حالات سازگار نہ ہوں سمسٹر بریک لے لیں ۔وہ جو گوبر کو گلقند قرار دیں ،آنے والوں کی راہ میں گل پاشی کریں اور جانے والوں کے عیب چنیں ۔مگر ہم گوشہ نشیں ،نہ کسی کے حلیف سخن ساز نہ کسی کے حریف دشنام طراز۔کبھی کسی حکمران کی منقبت پڑھی نہ کسی کی شان میں قصیدہ لکھا۔ہر آنے والے کی راہ میں پلکیں بچھانے اور جانے والوں کیلئے ٹسوے بہانے کا کام انہیں مبارک جن کا رزق اس خوشامد اور چاپلوسی سے وابستہ ہے ۔’’عادی مجرم ‘‘شوق کمال اور خوف زوال سے بے نیاز ہوا کرتے ہیں ۔مجھے کسی صلے یا ستائش کی تمنا نہیں، نہ ہی موجودہ حکومت سے ذاتی طور پر کوئی گلہ یا شکوہ ہے ۔ہاں ’’پیکا ایکٹ‘‘کے ذریعے جس طرح صحافت کا پسند سلاسل کردیا گیا ہے اس پر اعتراض ہے ۔ جھوٹی خبر ،حقائق کے برعکس تجزیئے یا من گھڑت الزامات پر احتساب ضرور ہونا چاہئے لیکن اسے قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے کر دراصل اظہار رائے کی آزادی کا تصور ختم کردیا گیا ہے ۔2021ء میں جب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی طرف سے مجھے نوٹس ملا کہ آپ کے خلاف انکوائری ہورہی ہے اور میں نے اسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تو جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ایکٹ کی دفعہ 20کے حوالے سے واضح کیا کہ جو شخص سمجھتا ہے کہ اس کی توہین ہوئی ہے وہ خود شکایت درج کرواسکتا ہے اس کی جگہ کوئی اور شخص شکایت کنندہ نہیں ہوسکتا مثلاً محکمہ زراعت کے کسی ڈائریکٹر کو لگتا ہے کہ اس کی شان میں گستاخی کی گئی ہے تو وہ خود کارروائی کی درخواست دے سکتا ہے اس کی جگہ کوئی ماتحت یا خود محکمہ زراعت فریق نہیں بن سکتا ۔متعلقہ قانون میں بھی Natural Personکا ذکر ہے مگر اس کی خلاف ورزی کرکے انصاف کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ طریقہ کار تو یہ ہے کہ جسکے خلاف شکایت ہے اسے نوٹس جاری کرکے اپنا موقف اور صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائے مگر میرے حوالے سے اس خصوصی شفقت کا مظاہرہ کیا گیا کہ جس دن وی لاگ آیا ،اسی دن نہ صرف انکوائری مکمل کرلی گئی بلکہ مجھے اٹھا کر مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ۔1/2
7
26
1
150
8,363
عاصم خان شیروانی retweeted
گن کر 2 ماہ اور 11 دن رک جائیں، محترم سہیل وڑائچ صاحب جیسے تجزیہ کاروں، کالم نویسوں اور صحافیوں کے چائے کی پیالی میں میں طوفان پیدا کرنے کیلئے تمام تجزیے اور خبریں جھوٹ ثابت ہونا شروع ہو جائیں گی، لہذا مکمل اطمینان رکھیں۔ ٹھیک دسمبر کے بعد ایسے صحافی اور تجزیہ کار اپنے پہلے جھوٹوں کو جسٹیفائی کرنے کیلئے نئے جھوٹ پھیلاتے نظر آئیں گے۔ نوٹ: ابھی تک 9مئی کے ملزمان کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ دسمبر 2026 کے بعد ممکنہ و مجوزہ طور پر ہونے والی قانون کے مساوی اطلاق کا عشر عشیر بھی نہیں ہوگا۔
29
280
3
1,203
37,721