تیسرا راستہ!
پاکستان کے سیاسی افق پر نظر دوڑائی جائے تو ایوانِ اقتدار تک رسائی کے تین ہی کلیدی راستے یا اسالیب نظر آتے ہیں، جنہیں ایک ہی پیرائے میں کچھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ:
اول، مقتدر حلقوں کی آشیرباد اور ان کے ساتھ اشتراکِ عمل سے جنم لینے والا ’ہائبرڈ نظام‘؛ دوم، مقتدرہ کی رضا کے برعکس کسی عالمی طاقت (بالخصوص امریکہ) کی کلیدی پشت پناہی؛ اور سوم، جسے آج تک شجرِ ممنوعہ سمجھا گیا، یعنی مقتدرہ یا بیرونی بیساکھیوں کو مسترد کرتے ہوئے محض عوامی تائید اور جمہوریت کی بنیاد پر اقتدار سنبھالنا۔
تاریخ گواہ ہے کہ اول و دوم ذرائع تو ہمیشہ بارآور ثابت ہوئے، مگر تیسرے راستے کا انتخاب کرنے والوں کے لیے اقتدار کے دروازے یا تو بند رکھے گئے یا انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو یہ تلخ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہماری بڑی سیاسی جماعتیں، پیپلز پارٹی، نون لیگ، ق لیگ اور تحریکِ انصاف، سبھی نے اول و دوم راستوں ہی سے مسندِ حکمرانی پائی۔
ذرا ماضی کے دریچوں سے جھانکیں تو ذوالفقار علی بھٹو جیسے عوامی لیڈر بھی غیر جمہوری حکمران کو 'ڈیڈی' پکار کر اور ساز باز کے ذریعے اقتدار کی سیڑھی چڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔
میاں نواز شریف نے ایک آمر کو اپنا روحانی باپ تسلیم کر کے اور مقتدرہ کی انگلی تھام کر سیاست کا سفر طے کیا، جبکہ ق لیگ تو سر تا پا تھی ہی آمریت کی پیداوار۔
تحریکِ انصاف کا معاملہ بھی مختلف نہ رہا؛ 2011 میں مینارِ پاکستان کے جلسے سے جس عوامی مقبولیت کا طوفان اٹھا، اسے 2013 کے انتخابات میں مقتدرہ کی حمایت نہ ہونے کے سبب ساحل سے ٹکرا کر پاش پاش کر دیا گیا، کیونکہ وہاں نتائج پہلے سے طے شدہ تھے اور اقتدار کا ہما 2008 میں بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت اور امریکی آشیرباد کے سبب پیپلز پارٹی کے سر پر بٹھانا مقصود تھا۔ اور طے شدہ اسکرپٹ کے تحت 2013 کا اقتدار نون لیگ کو دینا تھا۔
چنانچہ، تحریکِ انصاف کو مذاحمت کی سیاست اور عوامی مقبولیت کے باوجود 2018 میان 'الیکٹبلز' کی بیساکھیوں اور مقتدرہ کی اعانت سے ایک کمزور اور ہائبرڈ اقتدار سونپا گیا۔ حالانکہ جب نشستوں میں اضافے کا خطرہ ہوا تو پر کاٹنے کے لیئے آر ٹی ایس نظام ہی مفلوج کردیا گیا۔
یہ تمام حکومتیں چونکہ مکمل اختیارات سے عاری تھیں، لہٰذا کوئی بھی وزیرِ اعظم نہ تو اپنی آئینی مدت پوری کر سکا اور نہ ہی منشور پر عمل کرکے آزادانہ پالیسیاں تشکیل دے پایا۔ جس نے بھی مزاحمت کی سرگوشی کی، عدلیہ کی سہولت کاری اور مقتدرہ کے دباؤ نے اسے ایوانوں سے باہر پھینک دیا۔
یہ محض الزامات نہیں، بلکہ وہ کھلی تاریخ ہے جو کتابوں، اخباروں اور سیاسی مکالموں میں روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
تاہم، وہ تیسرا راستہ، جسے بھٹو نے "طاقت کا سرچشمہ عوام"، نواز شریف نے "ووٹ کو عزت دو" اور عمران خان نے "حقیقی آزادی" کا نام دیا، دراصل جمہوریت کی معراج ہے۔
اس کا مفہوم یہ ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو بغیر کسی بیرونی دباؤ یا اندرونی سازش کے من و عن تسلیم کیا جائے، حکومت کو ریاستی امور میں مکمل خودمختاری حاصل ہو، ادارے اپنی آئینی حدود کے پابند رہیں اور حکمرانی کے حصہ دار نہ ہوں۔
مگر المیہ یہ ہے کہ جس نے بھی اس پرخار راستے پر چلنے کی جرات کی، اسے مقدمات، پھانسی کے پھندے، جلاوطنی اور خاندانی و جماعتی دباؤ کی صورت میں عبرتناک سزا دی گئی۔
آج کے تناظر میں، جب نام نہاد دانشور، صحافی اور مصلحت پسند سیاست دان عمران خان کو "ڈیل" کرنے، نظام کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے اور مصالحت کا درس دیتے ہیں، تو درحقیقت وہ اسے اسی فرسودہ راستے پر لوٹنے کا مشورہ دے رہے ہوتے ہیں جہاں مزاحمت جرم ہے۔
بھٹو نے مزاحمت کی مگر انجام کار پھندہ گلے کا ہار بنا؛ نواز شریف نے مزاحمت کا نعرہ لگایا مگر پھر فرسودہ سوچ اور درباری دانشوروں کے نرغے میں آ کر بزدلی دکھائی اور دو بار ڈیل کر کے دیارِ غیر سدھار گئے۔ لیکن عمران خان نے اس روایت کو توڑتے ہوئے نظریاتی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے مذاکرات کا دروازہ صرف ایک شرط پر کھلا رکھا ہے: آئین و قانون کی بالادستی۔ ان کے نزدیک "عوام طاقت کا سرچشمہ"، "ووٹ کی عزت" اور "حقیقی آزادی" محض نعرے نہیں بلکہ شفاف انتخابات، بااختیار حکومت اور اداروں کے آئینی حدود میں رہنے کا نام ہے۔
اگر وہ آج ڈیل کر لیں تو اقتدار کے حصول اور زوال کا یہ دائرہ یونہی گھومتا رہے گا، لیکن اگر وہ مزاحمت پر ڈٹے رہے تو قوی امید ہے کہ دیر یا سویر پاکستان اپنی درست سمت تلاش کر لے گا۔
قوم کو آج ایک ایسے ہی آہنی عزم والے رہنما کی ضرورت ہے جو اپنے موقف پر چٹان کی طرح کھڑا ہو، اور عوام اس کے شانہ بشانہ ایک سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تاکہ طاقتور حلقے کوئی بھی ماورائے آئین قدم اٹھانے سے باز رہیں۔
بس اتنا ہی لکھنا چاہتا ہوں کہ ہم بے بسی کے عالم میں اپنے ملک کو تباہ ہوتے، اسے لُٹتے اور لُوٹنے والوں کو عیش و عشرت کرتے دیکھ رہے ہیں۔ اب تو ناانصافی اور ظلم دیکھنا بھی قابل برداشت نہی رہا۔
دوسری جانب تحریکِ انصاف کو باجود عوامی حمایت اور مقبولیت کے عملی طور پر کمزور ہوتے اور اپنے ہی لوگوں کو آپس میں لڑتے جھگڑتے دیکھ رہے ہیں۔
عدلیہ کی تباہی کے بعد ملک کی تباہی یقینی ہو چکی تھی۔ بے شک کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، مگر ظلم اور ناانصافی کا نظام نہیں چل سکتا۔
مولانا کا اچانک انقلابی بن جانا ہضم نہیں ہو رہا۔ کہیں کوئی ایجنڈا یا ٹاسک تو نہیں؟ اچانک عمرے پر چلے جانا۔
مشرف کے آخری دنوں میں بھی کچھ ایسے ہی حالات بن گئے تھے۔ ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی۔ اب تحریک انصاف پلان بی لانچ کرنے جا رہی ہے اور نون لیگی بھی مولانا کے خلاف ہو گئے ہیں۔
اوپر سے نعیم بٹ کی وہ پھلجڑی بھی سامنے آئی کہ دوست ممالک نے حکومت کو عمران خان کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کا کہا ہے۔ اس بات میں کچھ سچائی تو نہیں؟ کیا واقعی پس پردہ کچھ چل رہا ہے؟
اور مولانا کے عمرے کا معاملہ بھی ذہن میں آتا ہے۔ کیا وہاں صرف عمرہ ہی تھا یا کوئی پیغام بھی ملا، کوئی اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں؟ فی الحال یہ سب سوالات ہیں، جن کے جواب سامنے آنا باقی ہیں۔
نون لیگ اور ٹاؤٹوں نے آخر بچانا کس کو ہے، کسی شخصیت کو یا پورے رجیم کو؟ اس سارے کھیل کے پیچھے کون ہے؟ کیا دو طاقتور کھلاڑیوں کے درمیان کوئی بڑی بساط بچھ چکی ہے؟
کچھ تو بڑا پک رہا ہے۔ کڑیاں مل نہیں رہیں اور دماغ کی دہی ہو رہی ہے۔ لگتا ہے اچانک کوئی بڑی پیش رفت سامنے آئے گی، اچھی یا بری، ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔
بہرحال، مولانا اس وقت جس پوزیشن پر کھڑے ہیں، وہ پاکستان کے مفاد میں دکھائی دیتی ہے۔ آگے دیکھتے ہیں کہ پردے کے پیچھے کیا چل رہا ہے اور اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ کیا جی کا جانا ٹہر گیا ہے، رجیم جی!
تحریکِ انصاف کا پلان بی منظرِ عام پر آگیا!
پلان بی کے تحت اگر خیبر پختونخواہ کی قیادت گرفتار یا روپوش ہو جاتی ہے تو شہباز گل اور عادل راجہ فوری طور پر پاکستان آ کر قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔ ساتھ ان کے لاکھوں فالوورز بھی سڑکوں پر نکلیں گے۔
کچھ بیرونِ ملک بیٹھے حضرات اپنی دکان چمکانے کے لیے سہیل آفریدی کے حوالے سے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، ان پر الزامات لگا رہے ہیں اور انہیں غدار تک کہہ رہے ہیں۔
گمراہ ہونے سے پہلے ایک بار نیچے دیا گیا ٹویٹ ضرور پڑھیں۔ یہ لانگ مارچ اور گرفتاری سے پہلے کا ٹویٹ ہے۔ اسے پڑھ کر خود فیصلہ کریں کہ سہیل آفریدی ایسا کیا کر رہے تھے جو بعض لوگوں کو قبول نہیں تھا۔ اور عمران خان بھی اجازت نہ دیتے، یا تیار نہی تھے۔
آج ایک بات واضح طور پر سمجھ آتی ہے کہ عمران خان کی جانب سے سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلیٰ نامزد کرنے کی بنیادی وجہ خیبر پختونخواہ میں کسی بھی وفاقی آپریشن کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرنا تھا۔
یہی وہ اصل وجہ تھی کہ جیسے ہی سہیل آفریدی کا نام وزیرِ اعلیٰ کے لیے سامنے آیا، بعض صحافیوں اور نون اور پی پی کی جانب سے اس کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی اور اسے وزیرِ اعلیٰ بننے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ظاہر ہے، اس کے پیچھے کسی نہ کسی سطح پر ہدایات موجود تھیں۔
بظاہر یہی وہ بنیادی نکتہ تھا جس کی وجہ سے گنڈاپور کی وزارتِ اعلیٰ بھی گئی۔ ممکن ہے یہی وہ تجویز ہو جو گنڈاپور جیل میں عمران خان کے پاس لے کر گیا تھا کہ اگر آپریشن کی اجازت دے دی جائے تو عمران خان کے لیے آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور پارٹی کو بھی کچھ ریلیف مل سکتا ہے، مگر عمران خان نے اس پر سخت ردِعمل دیا۔
شاید یہی وجہ رہی کہ آج تک سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کے باعث عمران خان کو قانونی حق ہونے کے باوجود بھی کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں ملا۔
عمران خان ماضی میں بھی ڈرون حملوں کے خلاف لانگ مارچ کر چکا تھا اور آپریشنز کا مخالف رہا ہے، اس لیے اس کے مؤقف کو عوام تک پہنچنے سے روکنا ضروری سمجھا گیا۔ خیال یہ تھا کہ اگر پہلے گنڈاپور اور بعد میں سہیل آفریدی کو قائل کر لیا گیا تو پارٹی بھی اس مؤقف کو قبول کر لے گی۔
سہیل آفریدی نے وہی مؤقف اختیار کیا جسے عمران خان اپنا نظریہ سمجھتا تھا۔ عمران خان اسے کبھی اپنی رہائی کے لیے لانگ مارچ نکالنے کے مقصد سے نہیں لایا تھا بلکہ ایک نظریاتی سوچ کی بنیاد پر آگے لایا تھا۔ عمران خان جانتا ہے کہ جب تک عدالتیں آزادانہ فیصلے نہیں کریں گی، اس کی رہائی ممکن نہیں۔
بہرحال، گنڈاپور کے جانے اور اب تک سہیل آفریدی کے خلاف جاری منظم مہم اور مسلسل مخالفت کی شاید سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اس نے ایسے کسی بھی وفاقی آپریشن کے خلاف مؤقف اختیار کیا جس سے صوبے میں لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچنے اور شہریوں کے بے گھر ہونے کا خدشہ تھا۔
اسی وجہ سے اس کے خلاف مقدمات کی تلوار لٹکائی گئی، دھمکیاں دی گئیں، رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، پاسپورٹ بلاک کیا گیا اور اسے اپنے قائد عمران خان سے ملاقات تک نہیں کرنے دی گئی۔
سیاست دان اکثر بہت سی باتیں اپنے سینے میں دفن رکھتے ہیں اور ہر راز عوام کے سامنے نہیں لاتے۔ تاہم عمران خان کو اس بات پر خراجِ تحسین پیش کیا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی ذاتی آسانیوں اور ممکنہ رہائی کو پسِ پشت رکھتے ہوئے خیبر پختونخواہ کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دی۔
حالانکہ میں ان کا کوئی فین نہیں ہوں، لیکن بیرسٹر گوہر اور علی محمد کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقاریر ضرور سنیں۔ ان کا ایک ایک لفظ دل سے نکلا اور سیدھا دل میں اتر گیا۔ یہ محض سیاسی یا جذباتی تقاریر نہیں تھیں، بلکہ ان میں دلیل، خلوص، حب الوطنی اور عمران خان سے محبت و قدر کا واضح اظہار تھا۔
عمران خان کو ناحق قید کیا گیا ہے اور اس پر ہر شخص کو غصہ ہے، شدید غصہ۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ ہر حد پار کر جائیں، لیکن ہر شخص کے سوچنے، ردعمل دینے اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ اس غصے اور بے بسی کے باوجود آپ اپنے سیاسی مؤقف، اپنے مقصد اور اپنی ذمہ داری کو کیسے نبھاتے ہیں۔ مجھے عمران خان سے وہی خالص محبت بیرسٹر گوہر اور علی محمد کی تقاریر میں نظر آئی۔ ان کے الفاظ میں صرف جذبات نہیں تھے، بلکہ ایک ذمہ دار سیاسی سوچ، دلیل اور اپنے قائد کے لیے خلوص بھی تھا۔
خدا کے لیے، باقی اوورسیز وی لاگرز کو محض تفریح کے لیے سنیں، لیکن اگر آپ سیاسی تربیت حاصل کرنا اور سیاست کے آداب و طریقے سمجھنا چاہتے ہیں تو حبیب اکرم کو سنیں۔
آپ کی اصل طاقت عمران خان کی مقبولیت ہے۔ یہ مت سمجھیں کہ تحریک انصاف شکست کھا گئی ہے۔ آج بھی اس کی قیادت سمیت ہزاروں کارکن جیلوں میں ہیں۔ یہ سیاسی مزاحمت ہے، اور مزاحمت صرف جلسوں اور نعروں کا نام نہیں، بلکہ مشکل ترین حالات میں اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کا نام بھی ہے۔
آپ بی ایل اے نہیں، ایک سیاسی جماعت ہیں، جس پر پورے ملک کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ کو اپنے طرزِ سیاست، اپنے مؤقف اور اپنے سیاسی رویّے سے یہ ثابت کرنا ہے کہ آپ ایک قومی جماعت ہیں اور پورے پاکستان کی نمائندگی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
سہیل آفریدی نے بھی جو کیا، میرے نزدیک درست کیا۔ ایک بہادر لیڈر کی نشانی ہے وہ گرفتاری کے خوف سے چھپتا نہی ہے، اپنے مؤقف پر قائم رہنا اور قانون و آئین کی حدود میں رہتے ہوئے مزاحمت کرنا بھی بہادری ہوتی ہے۔ اگر وہ عمران خان کے لیے گرفتاری دی تو اس نے اپنے عمل سے یہ پیغام دیا کہ وہ عمران خان کا سچا سپاہی ہے۔ آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے وہ جس حد تک جا سکتا تھا، اس نے وہی کیا۔ سیاسی جدوجہد میں اپنی حدود کا خیال رکھنا کمزوری نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج عمران خان کی تحریک انصاف سے زیادہ خود مقتدرہ کو عمران خان کی ضرورت ہے، کیونکہ وہی ایک ایسا سیاسی کردار ہے جو کسی حد تک مقتدرہ کا کھویا ہوا مقام بحال کرنے، عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان نفرت کی خلیج کم کرنے اور مستقبل کی قیادت کے لیے کام کرنے کا سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
صرف عمران خان، ایک بار پھر صرف عمران خان۔ اس لیے نہیں کہ ملک کا مستقبل ہمیشہ کے لیے کسی ایک شخص سے وابستہ کر دیا جائے، بلکہ اس لیے کہ موجودہ سیاسی حالات میں عوامی اعتماد کی بحالی اور سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے ان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بصورتِ دیگر، آج کی نفرت آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتی ہے۔
یقین نہیں آتا تو پشاور میں عمران خان کے حق میں بچوں کے لگائے ہوئے نعرے سن لیں۔ یہ نعرے آج رات کنڈی اور دیگر متعلقہ لوگوں کے کانوں میں گونجتے رہیں گے۔ یہ محض چند نعروں کی آواز نہیں، بلکہ اس سیاسی حقیقت کی عکاسی ہے کہ عمران خان کے لیے حمایت صرف سیاسی قیادت یا کارکنوں تک محدود نہیں رہی۔ اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔
انقلاب کے انتظار میں اپنی سیاسی طاقت ضائع کرنے کے بجائے سیاست کے ذریعے طاقت حاصل کریں۔
چھوٹے صوبے بنانے کا مطالبہ یا منصوبہ بالکل درست ہے۔ تحریک انصاف کو اس کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ یہ واحد جماعت ہے جس کا ووٹ بینک ملک کے تقریباً ہر حصے میں موجود ہے۔
ہم نے کراچی میں چالیس سال سے بھگتا ہے، اور نوے کی دہائی کے بعد سے کراچی صرف تباہ ہوتے ہی دیکھا ہے، اس سے پہلے کراچی آنا اور یہاں رہنا ہر پاکستانی کی خواہش ہوتا تھا۔
باقی وزیراعظم ہو یا وزیراعلیٰ، آپ دیکھ چکے ہیں کہ اس نظام میں ان کے پاس بھی حقیقی اختیارات نہیں ہیں۔
تحریک انصاف کو اب انقلاب کی سیاست سے نکل کر نظام کی بہتری، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی سیاست کرنی چاہیے۔
تحریک انصاف مقبول ضرور، لیکن مضبوط نہیں ہے۔ یہاں مضبوطی سے مراد پارٹی اسٹرکچر ہے، اور سیاسی قوت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔
سہیل آفریدی کے معاملے یا گورنر راج کے خلاف احتجاج کو ہی دیکھ لیں، ردعمل زیادہ تر خیبر تک محدود رہتا ہے۔ احتجاج کا انداز ایسا ہوتا ہے جیسے سہیل آفریدی پورے خیبرپختونخواہ کے نہیں، صرف ضلع خیبر کے وزیراعلیٰ ہوں۔
عمران خان اور شاہ محمود قریشی جیل میں ہیں۔ باقی قیادت، بشمول گوہر خان، سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنما، جس انداز میں سیاست کر رہے ہیں، اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی سیاسی حکمت عملی ہی کی بدولت پارٹی کا وجود برقرار ہے۔ وہ عمران خان کی ہدایات کے مطابق آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خدا کے واسطے، عادل راجہ اور ان جیسے بیرون ملک بیٹھے انقلابیوں کے جھانسے میں آنے کے بجائے اپنی سوچ اور سمجھ سے حالات و واقعات کا تجزیہ کریں۔
شہباز گل یا دیگر لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں، انہیں کرنے دیں۔ پاکستان میں موجود سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی اپنی مجبوریاں اور حدود ہیں۔ وہ ایک خاص حد سے آگے نہیں جا سکتے۔ کارکنوں کی اکثریت متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ انہیں سیاست بھی کرنی ہے اور اپنے گھر بھی چلانے ہیں۔ ان سے ایسی قربانیوں کی توقع رکھنا، جن کے نتائج اور قیمت ادا کرنے کی صلاحیت ہر کسی میں نہیں، زمینی حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔
تحریک انصاف وفاق میں حکومت بنانے سے پہلے، اقتدار میں آنے کے بعد اور حکومت ختم ہونے کے بعد بھی آج تک مؤثر پارٹی اسٹرکچر قائم نہیں کر سکی۔ عمران خان خود ا اس کمزوری کا اعتراف کر چکے تھے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا شکست نہیں، بلکہ اصلاح کی طرف پہلا قدم ہے۔
کوئی بات نہیں، اب سیاست کریں۔ چھوٹے صوبے بنانے کی حمایت کریں، نظام میں اس حوالے سے اصلاحات کو سپورٹ کریں، سیاسی اسپیس حاصل کریں، واپس سیاسی عمل میں مؤثر انداز سے آئیں اور بتدریج اپنی طاقت میں اضافہ کریں۔ اگر گورنر راج لگتا ہے اور اس کے خلاف مطلوبہ احتجاج یا مزاحمت نہیں ہو پاتی، تو جذباتی ردعمل دینے کے بجائے اپنی حکمت عملی کا SWOT Analysis کریں۔ اپنی طاقت اور کمزوریوں کا جائزہ لیں، خطرات کو سمجھیں اور دستیاب مواقع کی نشاندہی کریں۔ حالات کا درست ادراک کیے بغیر آگے بڑھنے کی کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
ووٹ بینک، عوامی محبت، حمایت اور ہمدردی اب بھی آپ کا سرمایہ ہیں۔ لیکن ان سب کو مؤثر سیاسی قوت میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ آپ کی مزاحمت کہیں نہ کہیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے لیے بھی اس نظام میں برقرار رہنے کی انشورنس پالیسی بن چکی ہے۔ اس لیے محض مزاحمت برائے مزاحمت کے بجائے ایسی سیاست کریں جس کے نتیجے میں حقیقی سیاسی فائدہ حاصل ہو۔
سیاسی لوگوں کو ساتھ ملائیں، دیگر جماعتوں کے ساتھ مشترکہ نکات تلاش کریں، آئینی اور جمہوری راستے اختیار کریں اور دانشمندی سے آگے بڑھیں۔ مقبولیت آپ کے پاس ہے، اب اسے مؤثر سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
انقلاب کے انتظار میں اپنی سیاسی طاقت ضائع کرنے کے بجائے سیاست کے ذریعے طاقت حاصل کریں۔ یہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ ان شاء اللہ، حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
آج پاکستان میں زلزلے کے ایسے جھٹکے محسوس کیے گئے کہ نظام لرز اٹھا، دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ متوجہ ہوگئے، اربابِ اختیار اور مقتدرہ خوف کے مارے گوشہ نشین ہوگئے، قاضی صاحبان کی نیندیں حرام ہوگئیں اور انقلاب کے آثار نمایاں ہونے لگے۔
فضا میں بے چینی تھی، ایوانوں میں اضطراب تھا، پورا نظام اپنی بقا کی جنگ لڑنے لگا، سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب رقم ہو رہا تھا۔ جمہوریت کے ایوانوں میں مزاحمت کی نئی تاریخ لکھی جا رہی تھی، انقلاب انگڑائیاں لے رہا تھا اور مقتدرہ کے ایوانوں میں یقیناً خطرے کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔
پھر اچانک مناظر سامنے آئے۔ اور پھر دنیا نے وہ تاریخی منظر دیکھا جس نے پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ تحریکِ انصاف کے پارلیمانی ارکان ہاتھوں میں آتشی رنگوں کے پلے کارڈ اٹھائے، جن پر جلی حروف میں ’’گورنر راج نامنظور‘‘ درج تھا، ایوان میں کیٹ واک کرتے دکھائی دیے۔
آخرکار، تحریکِ انصاف کے ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر ’’گورنر راج نامنظور‘‘ کے خلاف وہ فیصلہ کن مزاحمت کر ہی ڈالی جس کے بعد اب گورنر راج کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہی رہ گیا ہے کہ کہیں اسے واقعی نامنظور نہ کر دیا جائے!
واوڈا لگتا ہے 9 اپریل 2022 سے پہلے والے پرانے پاکستان میں رہ رہا ہے، جب سیاست دانوں کو برا کہا جاتا تھا اور لوگ اسے پسند کرتے تھے۔
تحریک انصاف کے حوالے سے بھائی لوگوں نے ایک پروپیگنڈا عام کیا ہوا تھا کہ عمران خان ٹھیک ہیں، ان کے ساتھی ٹھیک نہیں اور کرپٹ یا نااہل ہیں، باقی نون اور پی پی تو قیادت سمیت کرپٹ تھیں، خیر وہ تو اب بھی ہیں۔
لیکن آج پاکستانیوں کی بڑی تعداد عمران خان اور ان کے ساتھ رہنے والوں کے ساتھ ہے، وہ میجورٹی ہے۔ اس لیے واوڈا کا یہ بیانیہ پانچ دس فیصد بچی کچی پارٹیوں کے لیے بھی لوگ دلچسپی سے نہیں سنتے، کیونکہ اب قوم باشعور ہو چکی ہے اور انہیں معلوم ہے نظام کون چلاتا ہے، سب سے زیادہ کرپٹ کون ہے، کون جزیرے اور پلاٹ بناتا ہے، کون سب سے بڑا ڈاکو ہے، اور نون اور پی پی جیسے ڈاکو تو اصل ڈاکو کے سامنے بونے ہیں۔
اس لیے واوڈا کا یہ منجن اب نہیں بکتا۔ قوم کا باشعور ہونا کرپٹ اور ظالم نظام کے لیے مشکلات کھڑی کر دیتا ہے، کیونکہ وہ ولن کو ہیرو نہیں مانتے، چاہے جتنا بھی میک اپ کر کے آ جائے۔ اب عوام کو ہیروز اور ولن کی مکمل پہچان ہو چکی ہے۔
نیلسن منڈیلا کی کتاب Long Walk to Freedom کے حوالے سے دیکھا جائے تو جب جنوبی افریقہ کے حالات قابو سے باہر ہو گئے تھے اور ہنگامے تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے، تو وہاں کی طاقت ور مقتدرہ نے نیلسن منڈیلا کے سامنے گھٹنے ٹیکے، ان سے مذاکرات کیے اور انہیں رہائی دے کر بحران ختم کیا۔
عمران خان نے بہت پہلے کہا تھا کہ فیصلہ سڑکوں پر ہوگا۔ لگتا ہے کہ انہیں آنے والے حالات اور پورے منصوبے کا پہلے ہی اندازہ تھا۔ کیا کہنے اس دوراندیشی کے۔ پارلیمنٹ بےتوقیر ہوئی، اس کے بعد چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم آئیں اور عدلیہ تباہ ہو کر رہ گئی۔
اب سڑکوں پر مزاحمتی احتجاج شروع ہو چکا ہے۔ اگر یہ سلسلہ مزید پھیلا اور احتجاج Leaderless یعنی کسی مرکزی قیادت کے بغیر آگے بڑھا تو اس رجیم کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔
پھر نہ نقوی گینگ اور نہ ہی واوڈا گینگ والے کامیاب ہونگے۔ دونوں گینگس کے تمام مشترکہ منصوبے ناکام اور مفادات حاصل نہی ہوسکے ہوسکیں گے۔
اس رجیم نے ظلم و جبر کے تمام ریکارڈ توڑنے کے ساتھ ساتھ قانون، اخلاقیات، عہدوں، اعزازات اور قومی فخر کی رہی سہی توقیر بھی ختم کر دی۔ اس ملک میں اب وزیراعظم سے لے کر کونسلر تک بننا بھی کسی اعزاز یا فخر کی بات نہیں رہی، کیونکہ جب انتخابی نتائج ہی فارم 47 کے ذریعے طے ہونے کا تاثر عام ہو جائے تو کسی بھی عہدے کی ساکھ باقی نہیں رہتی۔
تمغۂ امتیاز جیسے اعزازات بھی کسی خوشامدی کو دیے جا سکتے ہیں، گویا اب ان کے لیے کسی قابلیت، اہلیت یا نمایاں کارکردگی کی ضرورت نہیں رہی۔ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے بڑے نام اور ستارے اپنی قدر کھوتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ جب ملک کا سب سے بڑا اسٹار بھی سیاسی مفادات اور موجودہ نظام کو برقرار رکھنے کی کوششوں کی بھینٹ چڑھ جائے تو اس کی ماضی کی کامیابیوں اور شہرت کو پسِ پشت ڈالنے کے لیے پی سی بی جیسے ادارے کو بھی متنازع سیاسی کشمکش میں گھسیٹ لیا جاتا ہے۔ بظاہر یہی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ نقوی کو چیئرمین پی سی بی بنایا گیا، تاکہ اس ادارے اور اس سے وابستہ کھلاڑیوں کے ذریعے عمران خان کا نام یا تصویر سامنے آنے سے روکا جا سکے۔
اسی طرح گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنا، خواتین کی بے حرمتی کرنا اور یاسمین راشد جیسی بزرگ، تعلیم یافتہ اور عوامی خدمت کا طویل ریکارڈ رکھنے والی خاتون کو قید میں ڈال دینا، یہ سب ہمارے معاشرتی اور اخلاقی زوال کی دردناک مثالیں ہیں۔ سیاست اور جمہوریت کو تو نقصان پہنچا ہی، ہماری تہذیبی اقدار، اسلامی روایات اور اخلاقیات بھی شدید متاثر ہوئیں۔ ایسا سلوک تو مشرف کے مارشل لا کے دوران بھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا، جب کلثوم نواز آمریت کے خلاف متحرک تھیں۔
بطور قوم ہم ایک ایسے زوال سے دوچار ہو چکے ہیں جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو بھی چکانا پڑ سکتی ہے۔ گزشتہ سات آٹھ دہائیوں میں ہم نے جو کچھ بھی حاصل کیا تھا، اس کا بڑا حصہ ہماری آنکھوں کے سامنے برباد ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اداروں پر اعتماد، عہدوں کا وقار، قومی اعزازات کی اہمیت، جمہوری اقدار اور معاشرتی اخلاقیات، سب کچھ شدید نقصان سے دوچار ہوا ہے۔
یہاں سے واپسی ممکن ہے۔ شاید بیرونی مداخلت سے، شاید کسی اندرونی عوامی انقلاب سے، یا شاید ایک طویل جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں۔ لیکن جو نقصان ہو چکا ہے، اس کی تلافی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ اداروں کی ساکھ بحال کرنا، قانون کی حکمرانی قائم کرنا اور معاشرے میں اعتماد پیدا کرنا محض حکومت بدلنے سے ممکن نہیں ہوگا۔
اس رجیم میں شامل ہر اس کردار کا، جس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، آئین شکنی کی یا انسانی حقوق پامال کیے، قانون کے مطابق احتساب ہونا چاہیے۔ جہاں شواہد اور قانونی تقاضے پورے ہوں، وہاں آرٹیکل 6 سمیت متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ شاید ہمیں اپنی زندگی میں انصاف ہوتا نظر نہ آئے، لیکن امید ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک ایسا پاکستان دیکھ سکیں گی جہاں طاقتور بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہوں۔
بس ایک خدشہ باقی ہے کہ کہیں اس وقت تک ملک کو اس نہج پر نہ پہنچا دیا جائے کہ اس کی سالمیت ہی خطرے میں پڑ جائے اور قومی وسائل و اختیارات کی بندربانٹ میں ملک کا مستقبل داؤ پر لگ جائے۔
سیاسی، پارلیمانی اور آئینی محاذ پر مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن کی قیادت سونپی جائے، جبکہ تحریکِ انصاف دیگر اپوزیشن جماعتوں، بشمول جماعتِ اسلامی اور محمود خان اچکزئی کی جماعت، کے ساتھ مل کر سیاسی جدوجہد آگے بڑھائے۔
دوسری جانب مزاحمتی تحریک عمران خان کے کارکن گلی محلوں، دیہات اور شہروں میں عوامی سطح پر منظم انداز میں چلائیں۔ یوں جدوجہد کے دو محاذ کھلیں گے اور رجیم پر بیک وقت سیاسی اور عوامی دباؤ بڑھے گا۔ یہ بوجھ نہی اٹھا پائیں گے۔
PAKISTAN: Responding to the declaration of a state of emergency in Khyber Pakhtunkhwa, as well as the imposition of governor rule and the deployment of armed forces in the province, Amnesty International said:
“Reports of arbitrary detentions of key leaders – including the provincial chief minister – and internet disruptions across the province raise concerns about the proportionality of these emergency measures. While states may, in strictly limited circumstances, derogate from their human rights obligations to respond to a public emergency that threatens the existence of the nation, emergency measures are not a blank cheque to crack down on human rights, silence dissent, or concentrate power.”
READ MORE: amnesty.org/en/latest/news/2…
”اب کون لیڈ کرے گا؟“ اپنی یہ سوچ تبدیل کریں۔ جو بھی قیادت کرے گا، اسے اغوا یا گرفتار کر لیا جائے گا اور تحریک اگلے لیڈر کے آنے تک رک جائے گی۔ اگر تحریک کو کامیاب بنانا ہے تو دستیاب قیادت کو اپنا کام کرنے دیں، لیکن احتجاجی تحریک کو بغیر کسی مرکزی قیادت کے عوامی سطح پر منظم کریں۔ اسے گلی، کوچوں اور محلوں تک لے جائیں۔ جب عوام خود تحریک کی قیادت سنبھال لیں گے تو رجیم کو شکست دینا ممکن ہوگا۔
اگر اس حکمتِ عملی کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو تاریخ کا مطالعہ کریں اور نیلسن منڈیلا کی کتاب Long Walk to Freedom پڑھیں۔ عوامی تحریکوں میں گلی محلوں کی سطح پر موجود مقامی قیادت کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔
آپ کا اصل لیڈر ایک ہی ہے، عمران خان۔ باقی سب، بشمول سہیل آفریدی، آپ ہی کی طرح اس تحریک کا حصہ ہیں اور اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔


