Pinned Tweet
جہاں ماں بہن کی ننگی گالیاں عورت کے منہ سے سن کر "شعور" کا جشن منایا جائے، جہاں "صنم، پنکی، گوگی" جیسی فیشن گڑیاں قوم کی نمائندہ ہوں
تو وہاں اگر کوئی پڑھی لکھی، باحیا، غیرت مند بیٹی حق کی بات کرے۔۔۔۔
تو وہ یوتھیے جلیں گے نہیں تو اور کیا کریں گے؟
انہیں تحقیق سے نفرت ہے، شرافت سے الرجی ہے اور سچ سے ڈر لگتا ہے
کیونکہ اگر سچ مان لیا
تو ان کا بت خاک میں مل جائے گا
اور جھوٹی تحریک کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔
ان یوتھیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ
نیازی اگر بولے تو "شعور"
مگر کوئی اور بولے تو "بے غیرتی"؟
جنہیں تمیز ہو نہ تہذیب
وہ آج قوم کو لیڈر چُننے کا سبق سکھا رہے ہیں؟
پڑھنے والی، سوچنے والی بیٹیاں تمہارے منہ پر آئینہ ہیں
اس لیے چیخو، چِلّاؤ، گالیاں دو، کردار کشی کرو
مگر سن لو!
اب قوم کی بیٹیاں خاموش نہیں بیٹھیں گی
اب کوئی صنم، فلک یا گوگی نہیں
آمنہ، فاطمہ، زینب اور ایمان بولیں گی!
پاکستان ہم سب کا ہے۔ اور ہم اسے یرغمال نہیں بننے دیں گے۔
پاکستان زندہ باد⚔🇵🇰⚔
تمہارا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، کسی بھی لیڈر کے پرستار ہو، مگر جب تم شہداء کی توہین کرتے ہو تو سیاست نہیں، اپنی انسانیت کا جنازہ نکالتے ہو۔ شہید کسی پارٹی کا نہیں، پوری قوم کا قرض ہوتا ہے 🇵🇰
ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی، اور ایسی کسی بھی سرگرمی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، سید علی ناصر رضوی
بلوچستان پاکستان کا حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جس نے بھی اس پر آنکھ اٹھانے کی ہمت کی، کیا آپ کو لگتا ہے ہم اسے چھوڑ دیں گے؟ ہرگز نہیں! ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور اپنی دھرتی کی حفاظت کریں گے🇵🇰
واشک: آپریشن ردّ الفتنہ 3 میں کواڈ کاپٹر اسٹرائیک، فتنہ الہندوستان کے متعدد دہشت گرد ہلاک، بھاری اسلحہ برآمد
🇵🇰
پاکستان کی جانب سے ایک ہفتے میں چوتھا میزائل تجربہ NOTAM جاری
پاکستان نے ایک اور میزائل تجربے کے لیے نیا نوٹس ٹو ایئرمین (NOTAM) جاری کر دیا ہے، جو صرف سات دنوں کے اندر چوتھا ایسا نوٹس ہے۔
تجربات کا یہ مسلسل سلسلہ اعلیٰ درجے کی عملی تیاری اور دفاعی صلاحیت میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نظم و ضبط، تیاری اور عزمِ مصمم کا مظاہرہ کرتی چلی آ رہی ہیں 🇵🇰
بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کی ویڈیوز سامنے آگئی ہیں، جس میں ایک دہشت گرد کو ہلاک جبکہ فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دیگر دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
آپریشن کے دوران ڈرونز کے ذریعے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کے ٹھکانوں کا گھیراؤ کرکے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا 🇵🇰
اس ٹریفک حاد۔ ثے نے لیفٹیننٹ جنرل(ر) نگار جوہر کی زندگی بدل دی۔ یہ وہ موقع تھا جب یہ اپنے والدین اور دو بہنوں سے محروم ہوگئیں۔ یہ 1990 کا واقعہ تھا جب وہ زندگی کے ابتدائی دور میں تھیں اور انہیں اپنے والدین کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
ان کے والد کرنل قادر پاک فوج کے افسر تھے اور دو جنگو۔ ں میں حصہ لینے پر انہیں ستارۂ بسالت سے بھی نوازا گیا تھا۔ نگار جوہر نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ والدین کی مو۔ ت ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس سا۔ نحے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ زندگی میں مادی چیزوں سے زیادہ اہم انسان اور اس کی خدمت ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر میں مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور بالآخر پاکستان آرمی کی تاریخ میں اپنا نام درج کروا لیا۔
نگار جوہر پاکستان آرمی کی پہلی خاتون ہیں جو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچیں۔ جون 2020 میں انہیں اس عہدے پر ترقی دی گئی اور وہ پاک فوج کی پہلی خاتون سرجن جنرل بھی مقرر ہوئیں لیکن انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی طرح کی رکاوٹوں کا سامنا بھی کیا۔ وہ امراض قلب کی ماہر ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں لیکن ان کے مطابق اس وقت فوج میں خواتین ڈاکٹروں کے لیے کارڈیالوجی میں انتخاب کے مواقع محدود تھے۔ انہوں نے راستہ بدلنے کا فیصلہ کیا اور میڈیکل ایڈمنسٹریشن کے شعبے میں اپنی صلاحیتیں منوانے پر توجہ دی۔ بعد میں انہوں نے فیملی میڈیسن میں ایم سی پی ایس، پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز اور ایڈوانسڈ میڈیکل ایڈمنسٹریشن میں ایم ایس سی سمیت مختلف اعلیٰ تعلیمی اسناد حاصل کیں۔
نگار جوہر نے فوجی ہسپتالوں کے انتظامی امور اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی میں اہم ذمہ داریاں ادا کیں۔ وہ 2017 میں میجر جنرل بننے والی پاکستان آرمی کی تیسری خاتون افسر تھیں۔ 2020 میں لیفٹیننٹ جنرل بننے کے بعد انہوں نے ایک اور تاریخ رقم کی جبکہ نومبر 2021 میں انہیں آرمی میڈیکل کور کی پہلی خاتون کرنل کمانڈنٹ مقرر کیا گیا۔ ان کے پیشہ ورانہ تجربے میں ہسپتالوں کا انتظام، طبی خدمات کی فراہمی اور ہنگامی حالات میں طبی سہولتوں کی نگرانی شامل رہی ہے۔ کورونا وبا کے دوران بھی فوجی طبی نظام کے تحت صحت سے متعلق اقدامات میں ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا گیا۔
ان کی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے گاؤں پ نج پیر سے ہے۔ وہ معروف عالم دین مولانا محمد طیب طاہری کی بھانجی اور مولانا محمد طاہر پن ج پیر۔ی کی نواسی ہیں۔ مولانا طیب طاہری جما۔ عت ا۔ شاعت التو۔ حید وا ۔لسنۃ کے امیر ہیں اور پن ج پی ر میں درس قرآن کے حوالے سے معروف ہیں۔
نگار جوہر کی زندگی پر 2021 میں ماہرہ خان کی اداکاری میں ٹیلی فلم 'ایک ہے نگار' بھی بنائی گئی جس میں ان کے پیشہ ورانہ سفر اور مشکلات کو پیش کیا گیا۔ فلم کو پذیرائی بھی ملی تاہم بعض مکالموں اور کہانی کو پیش کرنے کے انداز پر تنقید ہوئی۔ خاص طور پر سویلین ڈاکٹرز اور فوجی ڈاکٹرز کے تقابل سے متعلق مکالمے پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا۔
اب نگار جوہر ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ آج یعنی 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے قائم کی گئی 11 رکنی خصوصی ایڈوائزری کونسل میں ان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کونسل میں انہیں صحت کے شعبے سے متعلق امور پر مشاورت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
‼️ہماری بچیوں کو فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں سے خطرہ ہے، مگر افسوس کہ جب ہم خیبر پختونخوا کی PTI حکومت سے تحفظ کی اپیل کرتے ہیں تو مدد ملنے کے بجائے TTP سے وابستہ عناصر کو علاقے میں پناہ دیتے ہیں
پولیس بھی اگر ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرے تو عام شہری آخر کس سے فریاد کریں؟ ہماری وفاقی حکومت اور آرمی چیف سے اپیل ہے کہ ہماری بچیوں اور خاندانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
8 اکتوبر 2026 | خضدار، بلوچستان
سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر خضدار میں کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران درست نشانہ لگانے والے کواڈ کاپٹر حملوں سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔
سیکیورٹی فورسز ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں 🇵🇰
پاکستان نے نیویارک ٹائمز کے اس دعوے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے کہ پاک فضائیہ کے جنگی طیارے یمن میں حوثیوں کے خلاف براہِ راست فضائی حملوں میں شریک ہیں 🇵🇰
وزارتِ اطلاعات نے عالمی میڈیا کو خبردار کیا ہے کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کی تعیناتی سے متعلق قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ رپورٹس سے گریز کیا جائے۔ اگر کسی پیش رفت کے بارے میں اطلاع دینا ضروری ہوا تو متعلقہ پاکستانی حکام خود اس کی تصدیق کریں گے۔
غربت کا نام لیا گیا، حق نہ دینے کا الزام لگایا گیا، پھر ہاتھ میں سات لاکھ روپے کی امریکی ساخت کی بندوق تھما دی گئی ایسی مہنگی اور جدید اسلحے تک ایک عام نوجوان کی رسائی آخر کیسے ہوئی؟ یہ سوال اس پورے نیٹ ورک سے ہے جو بلوچ نوجوانوں، خصوصاً خواتین، کو اپنی سوچ اور مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
محرومی اور غربت حقیقی مسائل ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا حل ریاست کے خلاف بندوق اٹھانا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون ان لوگوں کی ذہن سازی کر رہا ہے، انہیں اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور انہیں تشدد کی طرف دھکیل رہا ہے؟
بی ایل اے جیسے مسلح گروہوں کے لیے خواتین اور نوجوانوں کو استعمال کرنا بلوچستان کے امن اور خود انہی لوگوں کے مستقبل کے لیے ایک خطرناک راستہ ہے
شمالی وزیرستان میں عزمِ استحکام کے تحت سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں 🇵🇰
پالنگزئی، ندیم کوٹ اور کوٹ خزری میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنۃ الخوارج کے 9 دہشتگرد مارے گئے، جن میں 4 اہم خوارج خالد رضا، کامران، موسیٰ اور مفتون بھی شامل ہیں۔
کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا جبکہ متعدد کمین گاہیں بھی تباہ کر دی گئیں
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جی ایچ کیو راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے 🇵🇰
ملاقات میں مسئلہ کشمیر، سندھ طاس معاہدے، خطے کی سیکیورٹی اور افغانستان سے دہشتگردی جیسے اہم معاملات پر بات چیت ہوئی۔ عالمی سطح پر پاکستان کے اہم مؤقف اور سیکیورٹی خدشات کا اس سطح پر زیرِ بحث آنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔
ڈی آئی خان میں حملے کے بعد زخمی کسٹمز اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس تک دستیاب نہ تھی، جبکہ سیاسی لانگ مارچ کے ساتھ ایمبولینسز موجود ہیں۔ سوال صرف ایمبولینسوں کا نہیں، ترجیحات کا ہے کہ عوامی وسائل کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
اگر سرکاری مشینری اور عوامی وسائل کے سیاسی اجتماعات میں استعمال پر قانونی پابندیاں موجود ہیں تو پھر ان پر عمل درآمد بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں 🇵🇰
مستونگ کے علاقوں سیاہ پشت اور کلی گشتری میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جبکہ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ باقی خطرات کا بھی خاتمہ کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز کا عزم واضح ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی





