PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
پنجاب میں ڈپٹی کمشنرز کون لگاتا ہے؟ وزیراعلیٰ یا چیف سیکرٹری؟
پنجاب میں ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی کے معاملے پر وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ اور چوہدری سالک حسین کے درمیان جاری بحث نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر پنجاب میں ڈپٹی کمشنرز تعینات کون کرتا ہے؟
پنجاب کی بیوروکریسی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، بظاہر ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی وزیراعلیٰ کرتی ہیں، لیکن عملاً اس پورے عمل کا فیصلہ چیف سیکرٹری پنجاب کی مرضی اور ترجیحات کے تحت ہوتا ہے۔ طریقۂ کار یہ ہے کہ کسی ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کے لیے چند افسران کے ناموں پر مشتمل پینل وزیراعلیٰ کو بھجوایا جاتا ہے۔ کبھی ایک ضلع کے لیے دو، تین یا چار افسران کے نام تجویز کیے جاتے ہیں اور کبھی متعدد اضلاع کے لیے آٹھ سے دس افسران کا پینل تیار کیا جاتا ہے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ان ناموں کا انتخاب کون کرتا ہے؟ یہ تمام افسران چیف سیکرٹری کی مرضی اور منظوری سے پینل میں شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ اگر چار اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز تعینات کرنے کے لیے بارہ افسران کے انٹرویو ہوتے ہیں تو یہ بارہ کے بارہ افسران پہلے ہی چیف سیکرٹری کے منتخب کردہ ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے سامنے انتخاب انہی محدود ناموں میں سے ہوتا ہے۔
اس صورتِ حال میں بظاہر قانونی اور رسمی اختیار وزیراعلیٰ استعمال کرتی ہیں، لیکن عملاً انتخاب کے امکانات اور دائرۂ کار چیف سیکرٹری متعین کرتا ہے۔ یوں ڈی فیکٹو اختیار چیف سیکرٹری کے پاس رہتا ہے، جبکہ ڈی جیور اختیار وزیراعلیٰ کے ذریعے استعمال ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وزیراعلیٰ سے تعیناتی کا رسمی فیصلہ تو کروایا جاتا ہے، لیکن انتخاب کا بنیادی مرحلہ پہلے ہی بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
اس پورے نظام میں ایک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ بیوروکریسی نے سیاسی مداخلت کے خلاف ایک ایسا تصور قائم کر رکھا ہے جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی میں منتخب عوامی نمائندوں کے کردار کو بھی غیر ضروری یا ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ تصور پارلیمانی جمہوریت اور آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ آئین کے آرٹیکل 2A کے مطابق ریاستی اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہونا ہے۔ وزیراعلیٰ خود بھی اپنے اختیارات پنجاب اسمبلی سے حاصل کرتی ہیں۔ لہٰذا انتظامی مشینری کو منتخب حکومت اور عوامی نمائندوں سے بالاتر کوئی خودمختار قوت تصور نہیں کیا جا سکتا۔
پرویز الٰہی کے دورِ حکومت میں ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی کے لیے ایک کمیٹی کے ذریعے افسران کی سفارشات مرتب کرنے کا نسبتاً بہتر طریقۂ کار اختیار کیا گیا تھا۔ اس تجربے سے یہ سبق لیا جا سکتا ہے کہ تعیناتی کا عمل محض چیف سیکرٹری کی صوابدید یا چند ناموں کے محدود پینل تک نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے ادارہ جاتی، شفاف اور جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی رائے میں متعلقہ ضلع کے منتخب ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، یعنی ایم این ایز اور ایم پی ایز، کو ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کے عمل میں باضابطہ اور مؤثر مشاورتی کردار ملنا چاہیے۔ اس کی وجہ محض سیاسی مداخلت نہیں بلکہ جمہوری جواب دہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ضلع میں وسیع انتظامی، ریونیو اور دیگر حکومتی اختیارات استعمال کرتا ہے۔ وہ مقامی ترقی، عوامی مسائل اور حکومتی ترجیحات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے ضلع کے منتخب نمائندوں کے ساتھ مل کر کام نہیں کرے گا تو عوامی نمائندگی، حکومتی کارکردگی اور سیاسی جماعت کی عوامی ساکھ، تینوں متاثر ہوں گی۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیاسی مداخلت اور جمہوری نگرانی دو مختلف چیزیں ہیں۔ اقربا پروری، ذاتی پسند اور غیر قانونی دباؤ کی مخالفت ضرور ہونی چاہیے، لیکن منتخب نمائندوں کو انتظامی فیصلوں سے مکمل طور پر باہر رکھنا بھی جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ڈپٹی کمشنر مریم نواز صاحبہ لگاتی ہیں یا نہی؛ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے نام پر قائم حکومت میں انتظامی اختیارات کا حقیقی مرکز کون ہے؟
پنجاب میں گورننس کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ بیوروکریسی کو منتخب حکومت کے ماتحت، قانون کے تابع اور عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے، نہ کہ اسے ایک ایسا خودمختار نظام بنا دیا جائے جو وزیراعلیٰ کے رسمی اختیار کے پیچھے اپنے فیصلے خود کرتا رہے۔ آخر میں مرہم نواز صاحبہ کو چیف سیکرٹری و بیوروکریسی کے کردار پر بھی تھرڈ پرسن فیڈ بیک ضرور لینا چاہیے ۔
@MaryamNSharif
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
Honourable Chief Minister !
Is There a Different Standard of Justice for Women Officers in Punjab ? 📷
@MaryamNSharif
@CS_Punjab
@GovtofPunjabPK
@AabparaX
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
انتظامی وارداتیں سیریز کی ایک اور واردات عوام اور عوامی نُمائیندوں کی آگاہی کیلئے۔
#CivilServiceReforms #AdministrativeReforms #EqualOpportunity #MeritAndEquality #PunjabGovernment #PunjabAssembly #RuleOfLaw #Transparency
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
@AabparaX
@KlasraRauf
@_Mansoor_Ali
@MalickViews
@najamsethi
@HamidMirPAK
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
انتظامی وارداتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو پنجاب کی عوام سے مسلسل روا رکھا جا رہا ہے۔ ایسی ہی کُچھ وارداتیں عوام اور عوامی نمائندوں کی آگاہی کیلئے۔
#CivilServiceReforms #AdministrativeReforms #EqualOpportunity #MeritAndEquality #PunjabGovernment #PunjabAssembly #RuleOfLaw #Transparency
@GovtofPunjabPK
@MaryamNSharif
@AabparaX
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
Colonial Bureaucracy jealously hides this information .
1. Assets.
2. Fleet of official vehicles
3. Dual nationality.
4. Detail of official accommodations
5. Foreign Tours.
6. Budget utilization/Misuse.
7. Govt servants working in their houses.
@AhmadIqbalCh
@PMSFraternity
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
ایک طرف پمز میں لگی آگ ،15 نومولود بچوں کی ہلاکت دیکھیں اور ساتھ ہی اس سرکاری افسر کے ٹھاٹھ ۔۔۔ ریاست کی بربادی اسی سسٹم کے ہاتھوں ہوئی ہے ، سرکاری ملازموں کے ہاتھ میں ریاست کا اختیار ہے اور سیاست دن ان کے شریکِ جرم ، قصہ مختصر اس ملک پر اشرافیہ کا قبضہ ہے اور بس
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
Why Bureaucracies resist Local Governments?
1. Colonial administrative legacy.
2. Quest for control and concentration of power.
3. Bureaucratic political economy.
4. Control of the Development state.
5. Lowers prestige of Bureaucracy.
6. Shift of resources.
@republicpolicy
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
Why Pakistan’s Bureaucracy Needs Radical Compensation Reform
Pakistan’s civil service remains bound to a colonial-era administrative design that conceals the true cost of governance by favoring complex non-cash privileges over direct, transparent salaries. While public sector employees frequently complain of low base pay, rigorous analysis by the Pakistan Institute of Development Economics (PIDE) demonstrates that total compensation—once prime housing, official vehicles, and utility allowances are accounted for—exceeds executive-level salaries in the private sector.
read more: republicpolicy.com/civil_ser…
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
Why Junior grade officers being posted against senior grade posts???
Unique HRM model which has no precedent in the world.
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
How to convert our colonial masters to public servants?
@nadeemhaque
@Bureaucracy3533
@PMSPUNJAB
@PMSFraternity
#civilservice
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
Today at Peshawar civil Secretariat, I held my first discourse among civil servants on my governance model ( Democratic Governance Model ) based on my books:
Fixing the Executive, Fixing the Legislature, Fixing the Judiciary, and The Bureaucratic Coup
Had a great conversation.
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
یہ لیٹر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں گورننس اور سول سروس اصلاحات نہ ہونے کی بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہے جو کہ وفاقِ پاکستان میں ایک وحدانی بیوروکریسی کو ہر صورت قائم رکھنا چاہتا ہے۔
وفاقی نظام میں پاکستان کی وحدانی بیوروکریسی ہی پاکستان کے نظام کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔
ریپبلک پالیسی کی گورننس ریفارم سیریز فکسنگ دی ایگزیکٹو، فکسنگ دی لیجسلیچر، فکسنگ دی جوڈیشری اور دی بیوروکریٹک کو میں اس موضوع پر بحث کی گئی ہے۔
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
پاکستان کی سول سروس میں بنیادی طور پر تین نسلیں گزری ہیں۔
پہلی نسل سول سروس میں وقار (Prestige) کے لیے آئی۔
دوسری نسل اختیار (Power) اور سماجی حیثیت (Social Status) کے حصول کے لیے آئی۔
تیسری نسل، خصوصاً 2000ء کے بعد سول سروس میں آنے والی نسل، بنیادی طور پر دولت کمانے (Money Making) کی طرف مائل رہی۔
یہ تبدیلی محض افراد کی ترجیحات میں تبدیلی نہیں، بلکہ پاکستان کی سول سروس کے ادارہ جاتی زوال اور بدلتے ہوئے سماجی محرکات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
کتاب کی ایک کاپی حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔
واٹس ایپ:
0341-4222501
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
Sir Tariq Awan @PMScivilservant belongs to 3rd Batch of @PMSPUNJAB . He has been OSD/awaiting posting for last 3 years. instead of complaining did research on governance, produced 4 books and requested for another year as OSD to finalize work on 4 books on philosophy.
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
چیف سیکرٹری پنجاب کو گورننس ریفارمز پر مکالمہ کی دعوت!
> پاکستان میں گورننس کی بہتری کے لیے ایک سنجیدہ، علمی اور قومی بحث ناگزیر ہے۔ ریاست، سیاسی قیادت، بیوروکریسی، عدلیہ، جامعات، دانشوروں، میڈیا اور شہریوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو گورنمنٹ کےاس مکالمے میں شریک ہونا چاہیے.
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
ئینِ پاکستان ریاست کا ایک مقدس ڈاکومنٹ۔
پھر آئین کے آرٹیکل 240B کی مسلسل بے توقیری کیوں ؟
آئینِ پاکستان پہ عمل کریں اور صوبائی افسران کو اُن کا حق دیں۔
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
اعلامیہ اجلاس پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن (PMSA)
لاہور، 17 جولائی 2026
پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن (PMSA) کی ایڈوائزری کونسل کا ایک اہم اجلاس آج فلیٹیز ہوٹل لاہور میں منعقد ہوا، جس میں گریڈ 17 سے گریڈ 21 تک کے 100 سے زائد پی ایم ایس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف میڈیا اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
اجلاس سے جن سینئر افسران نے خطاب کیا ان میں جناب طارق محمود اعوان، جناب رائے منظور ناصر، جناب ظفر حسین نقوی اور صدر PMSA جناب قمر زمان قیصرانی شامل تھے۔
صدر PMSA جناب قمر زمان قیصرانی نے پنجاب میں گورننس سے متعلق مسائل اور پی ایم ایس افسران کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک پر مفصل پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جہاں PAS افسران کی تعداد تقریباً 326 ہے، وہاں PMS افسران کی تعداد 1200 سے زائد ہے، جو پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے انتہائی شفاف، میرٹ پر مبنی مسابقتی امتحان کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں اپنے کیریئر میں مسلسل ناانصافی اور امتیازی رویے کا سامنا ہے جس سے ان میں شدید احساسِ محرومی اور بددلی پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ:
• پروموشن بورڈز بروقت منعقد نہ ہونے اور محدود آسامیوں کی وجہ سے PMS افسران کی ترقی غیر معمولی تاخیر کا شکار ہے۔
• اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں اور تبادلوں میں PAS افسران کو غیر متناسب ترجیح دی جاتی ہے جبکہ PMS افسران کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
• سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر GOR-I لاہور میں حالیہ الاٹمنٹس میں تقریباً تمام مکانات PAS افسران کو دیے گئے جبکہ کسی بھی PMS افسر کو الاٹمنٹ نہیں ملی۔
• سرکاری قرضہ سکیموں میں بھی واضح عدم توازن موجود ہے جہاں تقریباً 80 فیصد کیسز PAS اور صرف 20 فیصد PMS افسران کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔
• اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب کا طرزِ عمل PMS افسران کے حوالے سے جانبدارانہ محسوس ہوتا ہے، جس سے سروس کے مورال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اجلاس میں بہتر طرزِ حکمرانی اور انتظامی اصلاحات کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کی گئیں:
کیڈر کی نشستوں کی باقاعدہ کیڈرائزیشن کی جائے تاکہ پروموشن کا منصفانہ اور پائیدار ڈھانچہ قائم ہو۔
• پروموشن بورڈز مقررہ اوقات میں باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
• اہم عہدوں پر تعیناتیاں اور تبادلے مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں اور PMS افسران کو ان کے جائز تناسب کے مطابق نمائندگی دی جائے۔
• مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط، بااختیار اور فعال بنایا جائے۔
• بہتر عوامی خدمت کی فراہمی کے لیے نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں۔
• وفاقی حکومت کی طرز پر صوبہ پنجاب میں سیکرٹری کابینہ کا علیحدہ عہدہ تخلیق کیا جائے تاکہ چیف سیکرٹری کے اختیارات میں مناسب توازن پیدا ہو۔
• چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا عہدہ وفاقی پلاننگ کمیشن کی طرز پر ایک منتخب عوامی نمائندے کے سپرد کیا جائے۔
• افسران کے پروموشن بورڈز سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے بجائے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منعقد کیے جائیں تاکہ مکمل غیرجانبداری اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
• سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل اور آن لائن کیا جائے تاکہ صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ ہو۔
• سیکرٹریز اور دیگر افسران کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی مؤثر نگرانی کی جائے اور غیر ضروری سرکاری گاڑیوں کو مونیٹائز کیا جائے۔
• عوامی وسائل کے استعمال اور سرکاری اخراجات کی مکمل تفصیلات ایک عوامی آن لائن پورٹل پر دستیاب کی جائیں تاکہ شفافیت اور احتساب کو فروغ ملے۔
• سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور سرکٹ ہاؤسز کی بکنگ کا نظام بھی مکمل طور پر آن لائن کیا جائے تاکہ ہر اہل افسر کو مساوی اور شفاف سہولت میسر آ سکے۔
* شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی ایم ایس افسران کو اعتماد میں لئے بغیر پی ایم افسران کو متاثر کرنے والے کسی بھی نئے انتظامی تجربے کو کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے مشترکہ مطالبہ کیا کہ پنجاب میں حکومت کے گُڈ گورننس اور بہترین پبلک سروس ڈیلیوری کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے صوبائی افسران کے ساتھ مسلسل ناانصافی اور امتیاز کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ انصاف اور میرٹ پر مبنی انتظامی تعیناتیاں ہی مؤثر گورننس، عوامی خدمت اور ادارہ جاتی استحکام کی ضمانت ہیں۔
آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پی ایم ایس افسران کے تحفظات دور نہ کرنے کی صورت میں آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے آئیندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ @MaryamNSharif @GovtofPunjabPK
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
Punjab’s creation of 101 AAC posts by executive fiat is a blatant encroachment on legislative power. Bypassing assembly debate to restructure the civil service invites systemic chaos. It hollows out the secretariat and compromises democratic checks.
#NoToAAC
#NoTo(mis)Governance – at Muzaffargarh, Pakistan
PMS Fraternity 🇵🇰 retweeted
اعلامیہ ہنگامی اجلاس پی ایم ایس ایسوسی ایشن پنجاب
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK






























