ڈاکٹر حکیم لہڑی کی سیاسی جدوجہد اور بلوچ قومی تحریک میں انکےکردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں
ان کی رحلت بلوچ قومی سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان ہے
انہوں نے مشکل حالات میں بھی قومی سوال کو زندہ رکھنے اور نئی نسل کو سیاسی جدوجہد، تاریخ اور قومی شعور سے جوڑنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
26 اگست بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ دن اور ریاستی جبر کی ایک المناک مثال ہے
نواب بگٹی بلوچ قومی شناخت، سیاسی اختیار اور حقِ حاکمیت کی جدوجہد کا ایک اہم استعارہ ہیں
انہوں نے بلوچ نوجوانوں کو سیاسی شعور، سرزمین سے وابستگی اور قومی و جمہوری حقوق کے لیے منظم سیاسی جدوجہد کا درس دیا۔
سانحہ گدر بلوچستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں سے ایک ہے
عام شہریوں پر حملے، جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل ناقابلِ قبول ہیں
یہ واقعہ گزشتہ 78 برسوں سے جاری جبر، انتقام اور ظلم کا تسلسل ہے
ان عوامل کے شدید اثرات پورےخطے کی امن کو متاثر کر سکتے ہیں
سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیاں ناقابلِ قبول،
ثناء بلوچ اور غنی بلوچ سمیت تمام لاپتہ سیاسی کارکنوں کی فوری بازیاب کیا جائے
اپنے قومی حقوق، وسائل پر اختیار، باوقار سیاسی وجود اور بلوچ سرزمین پر بلوچ عوام کے حقِ حاکمیت کو تسلیم کیے جانے تک ہماری سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔
#NDP
بی وائے سی کیجانب سے اعلانکردہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کرتے ہیں
اینڈیپی بلوچ سیاسی رہنماؤں کو غیر منصفانہ عدالتی فیصلے کے تحت عمر قید کی سزاؤں کے خلاف اعلان کردہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف پرامن احتجاج اور عوامی ردِعمل ایک جمہوری حق ہے۔
آج انسداد دہشتگردی عدالت کا بلوچ راجی مچی گوادر کیس میں دیا گیا فیصلہ جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق پر ایک کھلا حملہ ہے
بلوچ راجی مچی گوادر مقدمے میں پر امن سیاسی رہنماؤں کو انسداد دہشتگردی عدالت سے عمر قید کی سزا دینا عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے
این ڈی پی
بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف غیر شفاف عدالتی طریقہ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں
منصفانہ ٹرائل اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی
#NDP #FreeAndFairTrial #Justice #HumanRightsForAll
نواب خیر بخش مری کی بارہویں برسی کے موقع پر انہیں ان کی فکری و سیاسی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں
نواب خیر بخش مری کی فکری اور سیاسی میراث آج بھی قومی شعور کی تشکیل میں رہنمائی فراہم کرتی ہے
ان کی جدوجہد نے بلوچ قومی تحریک کو ایک واضح نظریاتی سمت فراہم کی.
این ڈی پی
بلوچ اور پشتون اقوام کے مابین نفرت پیدا کرنا جبرواستحصال کے پالیسیوں کو فروغ دینا ہے
باہمی اشتراک اور اعتماد سے نوآبادیاتی طرز پر مشتمل انتظامی تقسیم کے اثرات کو ختم کیے جاسکتے ہیں
محکوم اقوام کو قومی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے اپنے حدود و قومی وحدت میں منظم ہونا چاہیے
عید کی خوشیوں کے سائے میں بلوچ سماج کا اجتماعی کرب اور لاپتہ افراد کا المیہ!
ہزاروں خاندان آج بھی اپنے لاپتہ پیاروں کی جدائی، خوف اور انتظار کے کرب میں مبتلا ہیں۔
جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور سیاسی آوازوں پر دباؤ نے خوشیوں کو اجتماعی غم میں بدل دیا ہے۔
#EID #Balochistan
مرکزی رہنما غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل جنہیں تاحال منظر عام پر نہیں لایا گیا
سیاسی آوازوں کو دبانے، اختلافِ رائے کو جرم بنانے اور آئینی جدوجہد کرنے والوں کو جبری طور پر گمشدہ کرنے کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی
#EndEnforcedDisappearances
پروفیسر غمخوار حیات کا بہیمانہ قتل قومی سانحہ ہے
بلوچستان میں فکری آوازیں بھی اب محفوظ نہیں رہیں، خوف و جبر کا دائرہ سماجی زندگی کے ہر شعبے تک پھیل چکا ہے
ایسے حالات میں خاموشی جرم کے مترادف ہے، اور مسلسل بے عملی معاشرے کو مزید گہرے عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہے۔
این ڈی پی
غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو تقریباً 11 ماہ گزرنے کے باوجود انکا منظر عام پر نہ آنا اور ریاستی اداروں کی خاموشی قابلِ تشویش ہے
پارٹی اور اہل خانہ نے مکمل طور پر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ہر ممکن اقدام اٹھایا ہے، فلوقت سرکاری سطح پر کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
کوئٹہ پریس کلب میں بلوچ خواتین کو پریس کانفرنس سے روکنے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں
این ڈی پی
بلوچ خواتین کو پریس کانفرنس سےروکنادراصل خواتین کی سیاسی شرکت پرقدغن لگانااور بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے سے روکنا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
بلوچستان میں جاری جبر اور سیاسی گھٹن ناقابلِ قبول ہے
سی ٹی ڈی کی ماورائے آئین کاروائیاں اداراتی طرز عمل اختیار کر چکی ہیں
مرکزی ترجمان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی
این ڈی پی بلوچستان میں جاری جبر اور آئینی حقوق کی مسلسل پامالیوں پر گہری تشویش اور سخت احتجاج کا اظہار کرتی ہے۔
موجودہ حکومت اپنی نااہلی اور ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ان کا بوجھ عام عوام پر مسلط کر رہی ہے
پشتون سرزمین پر موجود پشتون عوام کے قومی حقوق اور بالادستی کے اصولی مؤقف کی مکمل تائید کرتے ہیں
مرکزی ترجمان: این ڈی پی
بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں ،ریاستی جبر، مرکزی قیادت کی طویل گمشدگی اور خواتیں کی ماورائے آئین گرفتاریوں پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہیں
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی
کوئٹہ میں گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور سرکاری ملازمین کے پُرامن احتجاج پر ریاستی جبر، تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں
این ڈی پی
We, NDP, observe change of the state policies of involving Baloch women into the heinous act of enforced disappearances–which we term illegal and against the state standards. It is a larger pattern of Baloch repression which will shape worse in time to come if not resisted.





























