Pinned Tweet
پرنٹنگ سے متعلق کسی بھی قسم کا کام ہو ڈیزائینگ
وزٹنگ کارڈ لیٹر ہیڈ لیٹر پیڈ
پبلیسٹی پیڈ شادی کارڈ
کیٹالاگ میگزین ڈایری کیلنڈر پوسٹر پمفلٹ ٹشو باکس گولی ٹافی باکس بسکٹ باکس مسالہ جات باکس میڈیسن پیکجنگ
مناسب قیمت میں اچھا کام
"اس زمانے میں لوگوں کے بدل جانے پر حیران ہونے کی بجائے ان کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا کیا کریں
شام بخیر
کافی عرصے سے ایک لڑکی کے ساتتھ انباکس پر رابطہ تھا کل نمبروں کا تبادلہ ہوا
میں نے ایمن کے نام سے اس کا نمبر سیو کیا ہی تھا کہ نوٹیفکیشن شو ہوا
Goga waraich is on imo now
@Sarfrazmirza16
@SarbulandMian
صحرائی گرداب retweeted
اَللّٰھُمَّ صَلِِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ
کَماصَلَّيتَ عَلٰی اِبْراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْراھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُ اَللَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍکَمَا بَارکتَ عَلٰی اِبراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبراھيمَ اِنَّك حَمِيدُ مَّجِيد
ﷺ❣️
کبھی حال چال بھی پوچھ لیا کرو
میں کون سا آپ کی طرف چائے پینے
آجانا
دن بخیر
فرام صحراے چولستان
ریاست بہاولپور
کچھ لوگ آپکے جذبات کے ساتھ اتنی چالاکی سے کھیلتے ہیں کہ آپ ہر چیز کا قصور وار خود کو سمجھتے ہیں...!!
صحرائی گرداب retweeted
2023 میں میری گاڑی چوری ہوئی، آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ سیف سٹی کیمرے کام آئے، نہ پولیس نے مدد کی۔ بینک لیز گاڑی کو ایک رشتہ دار مانگ کر لے گیا اور آگے بیچ آیا۔ ایف آئی آر کے لیے درجنوں بار تھانے کے چکر لگائے، کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ آخرکار ٹریکر کی مدد سے گاڑی خود سرگودھا سے اسلام آباد تک ٹریس کرکے پکڑوائی، مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ مزید افسوسناک ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے گاڑی سے سامان نکالا گیا، ملزم کا نام تک ریکارڈ میں درج نہ ہوا، ایف آئی آر ایسی درج کی گئی کہ ملکیت ہی متنازع بن گئی۔ پولیس بلاتی رہی، لیکن ملزم تھانے آنے سے گریز کرتے رہے۔ سپرداری کے لیے گیا تو بیسیوں فون کالز کے بعد لوگ آئے اور معاملہ مزید الجھا دیا گیا۔ اب 15 لاکھ روپے کی گاڑی واپس لینے کے لیے مجھے مزید کتنی رقم اور کتنے چکر لگانے پڑیں گے؟ آخر میں انصاف کے لیے کہاں جاؤں؟ اگر اسلام آباد میں شہری اپنی گاڑی خود ٹریس کرکے پکڑوائے، پھر بھی پولیس سے انصاف نہ ملے تو سیف سٹی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مقصد کیا ہے؟ @ICT_Police @dcislamabad
یہ فقط وقتی ترجیح نہیں کہ تمہیں چنا ہے میں نے یقین رکھو اگر مجھے دوسروں میں روشنی دکھائی دی میں تب بھی تمہارے اندھیروں کا انتخاب کروں گی۔
اللہ دا واسطہ جے مینوں حصہ دیو
نیں تے میں نیں جے رولا پانوں ہٹنا
شہباز شریف صاحب کے ساتھ صبح سات بجے ملاقات ہوئی،میں نے تفصیلی بات کی،انہوں نے میرے استدلال کو تسلیم کیا پھر نو بجے دو گھنٹے کے اندر اندر وہ پھر گئے،ایسے مجبور حکمران ہیں، وہ جس گھوڑے پر سوار ہیں اس کی لگام ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
آپ جعلی حکومت ہیں، آپ ہارے ہوئے لوگ ہیں، جو لوگ آپ کو دھاندلیوں کے ذریعے اقتدار میں لائے ہیں یہ کرسی ان کی مرہون منت ہے اور آپ حق نمک ادا کر رہے ہیں اور کچھ نہیں ہے۔
آج ہمیں ان تمام حالات کی طرف دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اس ملک اور وطن عزیز کو ان کے حوالے کر دیں؟ جیسے چاہیں ہماری قسمت کے ساتھ کھیلتے رہیں گے، جس طرح چاہیں ہمارے نظام کو تل چٹ کرتے رہیں گے، ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا اور میں یہ واضح طور پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ:
ابھی آنکھوں کے شمعیں چل رہی ہیں، پیار زندہ ہے
ابھی مایوس مت ہونا، ابھی بیمار زندہ ہے
ہزاروں زخم کھا کر بھی میں ظالم کے مقابل ہوں
خدا کا شکر ہے، اب تک دل خوددار زندہ ہے
کوئی بیعت طلب جا کر خبر دے کہ میں زندہ ہوں
جب تک جرات انکار زندہ ہے
صحرائی گرداب retweeted
یہ سال 1995 کی بات ہے جب سخت سردیوں کے دن چل رہے تھے۔
صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں مقامی لوگوں نے ایک سفید کار دیکھی۔۔
کار بہت تیزی میں آئی رکی۔۔اور کچھ پھینک کر تیزی کے ساتھ نکل گئی۔
گاؤں والے تجسس میں دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے۔۔یہ دیکھنے کے لئے کہ کار والے نے کیا پھیکا ہوگا۔۔!!
جب موقع پر پہنچتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں۔۔۔ سانسیں لیتی ہوئی نیلے رنگ کی فراک میں ملبوس حضرت حوا کی ایک بیٹی۔۔۔
جسکی عمر تقریبا دو سال تک تھی۔۔بھیڑ میں سے ایک نیک دل انسان نے بچی کو اٹھاکر ہر طرف سے دیکھا خیریت دریافت کی اور گلے سے لگاکر کار کی طرف دیکھ کر پیچھا کرنے کا سوچا لیکن تب تک کار اپنی تیزی سے اٹھنے والی دھول میں گم نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی۔
سو منہ اور سو باتیں ہورہی تھیں۔۔۔لیکن وہ نیک دل انسان بچی اپنے گھر لایا۔۔اسکی اچھی پرورش کی۔۔اس گھر میں جوان ہوئی اور گھر بس گیا۔۔ پرورش کرنے والے بہت ساری نیکیاں لیکر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اب بنت حوا کا امتحان شروع ہوا۔
پرورش کرنے والے والدین دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔اپنے ماں باپ کون تھے کیسے تھے؟ابھی کہاں کس حال میں ہونگے؟ بہن بھائی کیسے ہونگے؟ یہ سوالات اندر سے کھائے جارہے تھے۔
دوسری طرف بات بات پر گندے خون اور لاوارث جیسے الفاظ کے طعنے بھی ملنا شروع ہوگئے اللہ اس بہن پر رحم فرمائے۔
ہمیں یہ اسٹوری سن کر غالب گمان ہے کہ یہ اغ*واء کا کیس ہوگا۔ کسی نے کہیں سے اٹھاکر راستے میں بچی کو پھینک دیا ہوگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اپنی اس بہن کے دکھ درد کا احساس کرتے ہوئے اس پوسٹ کو دنیا بھر میں خوب عام کریں۔
بچی کی جو تصویر دی گئی ہے یہ اس کے ملنے کے کچھ عرصے بعد کی ہے گھر والے دیکھ کر ضرور پہچانیں لیں گے۔
آپکا ایک شئیر ایک لاچار بہن کو اپنوں سے ملانے کا سبب بن سکتا ہے۔ خوب زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
یہ پوسٹ 16 اکتوبر 2026 کو بوقت صبح حرم مکی میں بیٹھ کر لکھی ہے۔خاندان ملنے کی دعا کے ساتھ ساتھ آپ سب کے لئے بھی بہت ساری دعائیں۔
#waliullahmaroof






















