میں وہ قوسِ قزح ہوں جو بارش کے آنسوؤں کے بعد سورج کی روشنی میں چمکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درد سے کامل یقین تک کا سفر

دنیاسےپرے
Joined February 2020
میرےپاس کبھی کوئی اتنی قیمتی نایاب اوراتنی خاص چیزتھی ہی نہیں جس سےتمہیں تشبیح دیتی تم تینوں خود میں اکلوتےہوبہت قیمتی بہت نایاب بہت خاص میری ترجیحات میں اول💙 #ماشااللہ سمجھےنہ کوئی سرسری ساتذکرہ تمہیں بھرپور ماجرا ہوتم حوالہ نہیں ہو #AbbasKhan251_birthday @AbbasKhan251
24
199
2
120
25,203
حمزہ تراب ☕ retweeted
I don’t know why some days pass as if they never happened. You wake up, you live, you reply to messages, you laugh, you enjoy yourself. And then, at the end of the night, a strange feeling hits you, as if your entire day was just one long attempt to keep yourself from feeling something…
2
9
11
190
مجھےیقین ہےخدا نےمجھےتخلیق کرتےوقت کچھ مٹی تمہارےجسم سےلی ہے ورنہ میرےاندرکی ویرانی کوتمہارےوجودکی آہٹ سےسکون کیوں ملتا؟ میری مٹی میں تمہاری یادکاایک بھی قطرہ اترتاہےتو یہ اندرتک بھیگ جاتی ہے کوئی تورشتہ ہےجو اس مٹی اورتمہارےہونےکے درمیان پایاجاتا ورنہ یہ کون ساجذبہ جوصرف 1/2
3
4
5
77
تمہیں دیکھ کرتمہارانام سن کرپگھلنےلگتا شایدتقدیرنےجب ہمیں گوندھا تودونوں کےحصےکاعذاب اورقرارایک ہی مٹی میں ملادیاتھا اب ہم جتنی بھی زندگی گزرالیں یہاں جب یہ جسم مٹی میں ملنےلگیں گےتومیرےذرےاڑ کروہیں جاگریں گےجہاں تم ہوگے کیونکہ ابتداہی سےہم دونہیں ایک ہی منزل کےمسافرتھے #مشائم
2
2
14
حمزہ تراب ☕ retweeted
یوسف سے بچھڑ کر دلِ کنعان ہے بنجر کچھ بھی یہاں یعقوب کے رب ٹھیک نہیں ہے
12
17
44
733
حمزہ تراب ☕ retweeted
کسی نے کہا ہے کہ مخلص بننے کے لیے پہلے خود خالص بننا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔
1
7
8
84
حمزہ تراب ☕ retweeted
دباؤ ہی شخصیت کو فولاد بناتا ہے بس اپنے راستے پر ثابت قدم رہو۔تمھیں ابھی اپنے وجود کی کئی منزلیں طے کرنی ہیں۔✨🖤☕
14
17
31
659
حمزہ تراب ☕ retweeted
جہاں سے جی نہ لگے تُم وہیں بچھڑ جانا مگر خدا کے لئے بے وفائی مت کرنا۔
23
25
1
57
1,008
حمزہ تراب ☕ retweeted
ہمارے اندر ایک الگ دنیا بستی ہے۔۔ جہاں کبھی تخیل کا راج چلتا ہے اور کبھی حقیقت پانی پت کا میدان سجائے بیٹھی رہتی ہے۔۔۔۔۔ ارمانوں کے دیپ، مایوسی کے اندھیرے، آس کا کینسر اور نا امیدی کا قحط سب ایک ہی جگہ پلتے ہیں۔۔۔۔ کبھی کچھ یاد کرنے پہ بھی یاد نہیں آتا اور کبھی بھلانے والی ہر بات دل کے دروازے پہ ڈیرا جمائے بیٹھی رہتی ہے۔۔۔ ہجر کے صحرا سے لیکر وصل کے نخلستان تک سب انسان کے اندر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس سب کے باوجود کچھ لوگ بظاہر سمندر سے پرسکون لگتے ہیں۔۔۔۔ انکے اندر کا سونامی کناروں تک پہنچ نہیں پاتا یا یوں کہہ لیں انہیں بڑا اختیار ہوتا ہے اور وہ کوئی موج کنارے تک پہنچنے نہیں دیتے۔۔۔۔
18
21
45
918
حمزہ تراب ☕ retweeted
دوستی ٹھہری تو دلدار ہم بھی ہیں اور رہی دشمنی تو تیار ہم بھی ہیں
20
24
1
50
1,104
حمزہ تراب ☕ retweeted
ادھوری باتـــوں ســے آ رہی ہے جو بـــاس تم کــو یہ میرے خوابوں کی لاش آنکھوں میں سڑ رہی ہے
13
27
58
1,407
حمزہ تراب ☕ retweeted
کہاں ہم؟؟ کہاں محبت؟؟ جانے دیجئیے ، رہنے دیجئیے ، بس کیجئیے ۔ ۔ ! یہ جو "ع" ہے ، یہ جو "ش" ہے ، یہ جو "ق" کرتا ہے ، یہ لاحق جس کو ہو جائے اسے برباد کرتا ہے ۔ ۔ ! ریاضی دان بھی حیران ہیں ، اس بات پہ آ کر ، یہ کس کلیے کی نسبت سے جفت کو طاق کرتا ہے ۔ ۔ !
17
21
1
50
1,308
حمزہ تراب ☕ retweeted
الگ جواب (دوسرا اور آخری حصہ ) میں بہت دور چلی جاؤں گی ! کہاں جاؤ گی ؟ ایسی جگہ جہاں میرے علاوہ اور کوئی نہ ہو ! کیوں ؟ بس اور کوئی راستہ نہیں ہے ! کوشش کرو شاید راستہ مل جائے ! کوشش کی ہے صرف ایک ہی راستہ ملا ہے جو کہتا ہے میں چلی جاؤں ! اچھا کہاں جانا ہے ؟ بہت دور کسی اور دنیا میں جانا ہے ! وہاں جا کر کیا کرو گی ؟ اپنی محبت کو صندوق سے نکال دوں گی ! پھر اس کے بعد ؟ اسکو آزاد کردوں گی ! تم اسکو یہاں ہی آزاد کردو نا ! نہیں نا یہ سب میری محبت کے ساتھ زیادتی کریں گے سب اسکی تاک میں بیٹھے ہیں سب اسکو مار دیں گے ! جیسے تمہیں مارا ویسے ہی ؟ اس سے بھی زیادہ وحشی انداز میں محبت کو قتل کر دیں گے ! اچھا ! کیا کروں تم خود بتاؤ میرا دل نہیں کرتا دور جانے کا لیکن محبت کی پرورش کرنی ہے اپنے سکون کیلئے محبت قربان نہیں کرسکتی ! محبت کی پرورش کر لو گی ؟ ہاں کرلوں گی ! پرورش کا مطلب معلوم بھی ہے کیا ہوتا ہے ؟ ہاں معلوم ہے نا وہ ہی جو میری نہیں ہوئی وہ ہی جو مجھے نہیں ملا میں نے بس وہ سب محبت کو دینا ہے ! اتنے زیادہ دکھ میں کیوں ہوں ؟ میں بہت زیادہ دکھ میں ہوں لگتا ہے ابھی قطرہ قطرہ ٹوٹ کر بہہ جاؤں گی اور ہر قطرے سے اذیت چیخے گی ! دکھ کو کم کرو تاکہ محبت کی سہی سے دیکھ بھال کرسکو ! یہ دکھ مجھے استقامت دے گا تم دعا کرو یہ دکھ مزید بڑھ جائے ! میں تمہیں تکلیف میں مبتلا کرنے کی دعا نہیں کرسکتا ہوں ! دوا کر سکتے ہو ؟ نہیں ! پھر دعا بھی مت کرو میں دونوں خود کر لوں گی ! سہارے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تمہیں ! سہارے نوچ ڈالتے ہیں میں سہاروں سے پناہ مانگتی ہوں ! اور کس کس سے پناہ مانگنی ہو؟ اپنے وجود سے پناہ مانگنی ہوں! کیوں ؟ میں لاوجود ہو کر محبت کی تکلیف محسوس کرنا چاہتی ہوں ! کیا محبت تکلیف میں ہے ؟ ہاں نا وہ لاوجود ہے اسکو وجود نہیں مل رہا ہے اس لیے وہ تکلیف میں ہے ! تمہارے پاس تو وجود ہے نا پھر کیوں دکھ میں ہو ؟ کیونکہ ۔۔۔ بس ۔۔۔۔ ! کیا بس ؟ بس یہ کہ مجھے مزید مت زخمی کرو تمہاری باتیں زخم بڑھا رہی ہیں ! اوہ مجھے لگا کہ شاید میری باتیں تمہارے دکھ کو کم کریں گی ! نہیں دکھ کو بس قید میں رکھنا ہوتا ہے جب دکھ ہر ایک سے بیان کردو تو وہ دکھ مزید بڑھ جاتا ہے ! کیوں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ بےپردہ ہوجاتا ہے نا ! جیسے تم بےپردہ ہوئی تھی ؟ میں تو برہنہ ہوگئی تھی تبھی تو میں نے اس کائنات کے تمام دکھوں کو مات دے دی ! تمہاری محبت ؟ وہ فلحال میرے پاس ہے اسکو سب کے سامنے لا کر بےپردہ نہیں کر سکتی ہوں ! کیوں ؟ سب اسکو سنگسار کر دیں گے سب کہیں کہ یہ گناہ ہے ناپاک ہے ! تم سب کو حقیقت بتانے کی کوشش کرنا ! میری کوئی بھی نہیں سنے گا ! کوشش تو کرو ! اور کتنی بار کوشش کروں اور کتنی بار تمہیں بتاؤں کہ میں ہزار بار کوشش کر چکی ہوں میں کوشش کر کر کے تھک چکی ہوں میں شدید تھکن کا شکار ہوں لیکن کسی نے میری کوشش نہیں دیکھی کسی نے محسوس ہی نہیں کیا ! ہممممم! تم چلے جاؤ میری وجہ سے تم درد میں مبتلا ہوجاؤ گے ! تم مت جاؤ ورنہ تم درد کی مکمل جاگیر بن جاؤ گی ! اب جانا نہایت ضروری ہے کچھ قدم ناچاہتے ہوئے بھی اٹھانے پڑتے ہیں ! لیکن کیوں ؟ تاکہ کوئی میری محبت پر شک نہ کرے ! کوئی بھی شک نہیں کرے گا ! رہنا تو محبوب سے دور ہی ہے پھر چاہے اس دنیا رہوں یا دور کسی اور دنیا میں ، کیا فرق پڑتا ہے ! یہاں رہو گی تو محبوب کا علم ملتا رہے گا ! میں انسانی ذرائع اور رابطوں پر یقین نہیں رکھتی ہوں ! پھر ؟ الہام ہوجایا کرے گا ! اگر محبوب کے لمس کی چاہ ہو تو پھر کیا کروگی ؟ اس لال شیشی میں میرے محبوب کا لمس موجود ہے جب اس کے لمس کی تڑپ محسوس ہوگی اس شیشی سے عطر لگا لیا کرونگی ! لیکن محبوب پھر بھی اصل میں تو موجود نہیں ہوگا ! وہ اب اصل میں کبھی بھی میرے لیے موجود نہیں ہوگا مجھے حقیقت کو قبول کرنے سے مت روکو ! صبر رکھو امید ہار جانا حل نہیں ہے! میں امید نہیں ہار رہی ہوں میں مکمل کا مکمل جہاں ہار رہی ہوں اور جب کوئی محبت میں ہار جائے نا تو پھر اس کیلئے یہ سب معنی نہیں رکھتا ! پھر اب کیا معنی رکھتا ہے ؟ جو محبت دل میں موجود ہے اسکو دنیا سے بچانا ہے اسکو زندہ رکھنا ہے ہر حال میں ! یہ اکیلے کر لو گی ؟ کسی کا سہارا لیا تو محبت اسی وقت مر جائے گی اسی لیے یہ سب اکیلے کرونگی ! پھر جا رہی ہو تم ؟ ہاں ! کبھی کبھار آیا کرو گی ؟ نہیں میں تمہیں ختم کر کے جاؤں گی ! یعنی ؟ یہ شیشہ توڑ دونگی جس میں تم نظر آتے ہو ! مکمل تنہائی اوڑھ لو گی ؟ ہاں ! خود کو کس چیز کی سزا دے رہی ہو ؟ محبت کی سزا ! پھر توڑ دو اور سزا کا آغاز کرو ! خدا حافظ (شیشہ توڑ دیا گیا وہ جگہ مکمل خالی ہوگئی جیسے کبھی کوئی موجود ہی نہ تھا صندوق دوسری دنیا پہنچ چکا تھا ) عباس
12
18
32
962
حمزہ تراب ☕ retweeted
الگ ! ہم الگ ہونے والے ہیں نا ؟ ہاں ! تم سچ میں شادی کر رہے ہو ؟ ہاں ! مجھے اپنے ساتھ کیا تھوڑا سا بھی نہیں رکھ سکتے ہو ؟ نہیں ! تھوڑا تھوڑا کر کے الگ نہیں ہوسکتے ہو کیا؟ ایک دم الگ ہوئے تو میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل جائے گی ! تم کبھی اپنا ایموشنل ڈرامہ بند نہیں کر سکتی ہو ؟ ایم سوری اب ایمونشل نہیں ہونگی ! میری بلا سے اب جو مرضی کرو ویسے اب ہم الگ ہو رہے ہیں ! تمہیں کیا تھوڑا سا بھی دکھ نہیں ہوگا ؟ سوال پر سوال عجیب ! کیا وہ بہت خوبصورت ہے ؟ پھر سے سوال ! کیا وہ تم سے اسی طرح محبت کرتی ہے جس طرح تم چاہتے تھے بالکل ویسے جیسی محبت میں نہیں کر پائی ؟ ایک اور سوال ! میں اگر ویسی محبت کر جاتی تو کیا تم مجھ سے شادی کرتے ؟ اپنی بکواس بند کرو ! کیا کوئی ایسا انسان ہے جس کو ایسی محبت چاہیےہو جیسی محبت میں کرتی ہوں؟ نہیں ایسا کوئی انسان نہیں ہے ! پھر میں اس محبت کا کیا کروں یہ تمہارے بعد لاوارث ہوجائے گی ! میری بلا سے آگ لگاؤ کچرے میں پھینکو جو مرضی کرو ! خود کو بھی آگ لگا دوں ؟ میری زندگی میں مشکل مت پیدا کرو ! کب ہے تمہاری شادی ؟ اگلے مہینے کی نو تاریخ کو ! اگلے مہینے کی آٹھ تک اپنے ساتھ رکھ لو نا ! کیوں رہنا چاہتی ہوں کیا تمہارا کوئی کردار نہیں ہے کوئی عزت نہیں ہے ؟ جب تم سےمحبت کی تھی تو اپنا کردار اور عزت بیچ کر محبت خرید لی تھی تاکہ تمہیں پسند آجاؤں ! لیکن تم مجھے کبھی بھی پسند نہیں آئی ہو ! اگر پسند آجاتی تو ؟ نہیں تم مجھے کبھی پسند نہیں آتی کیونکہ میں تمہیں پسند کرنا ہی نہیں چاہتا ہوں ! میں تیسری ہوں نا ؟ نہیں تم تیسری بھی نہیں ہو تم کچھ بھی نہیں ہو ! پھر کیا ہوں میں ؟ فقط ایک مشکل جو میرے گلے پڑ گئی ہے ! دیکھو مجھے میری اوقات معلوم ہے میں یہ نہیں کہتی کہ تم مجھ سے شادی کرلو یا پھر یہ کہ تم شادی نہ کرو میں تو بس کہہ رہی ہوں کہ مجھے خود سے الگ نہ کرو ! جب خود کے بارے معلوم ہے تو کیا یہ نہیں جانتی ہو کہ تم ساتھ رکھنے کے لائق نہیں ہو ! ایک جھوٹی تسلی ہی دے دو بس ایک امید ! کیا کرو گی اس امید کا ؟ امید بڑی کام آتی ہے زندگی کو گزار دینے کیلئے ! یار تم ایسا کرو یہاں سے جاؤ اور جا کر مر جاؤ اپنا کام اور میرا کام آسان کرو ! کیا تمہیں میرے مرنے سے دکھ نہیں ہوگا ؟ نہیں ! پر تم نے ایک بار کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو تم برداشت نہیں کر پاؤ گے ! میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ! تم نے کہا تھا تم کبھی مجھے دکھی نہیں ہونے دو گے ! یہ والے الفاظ بھی واپس لیتا ہوں ! تم نے کہا تھا کہ تم کبھی مجھ سے ناراض نہیں ہوگے ! میں تم سے ناراض نہیں بلکہ بےزار ہوں ! جب کوئی بےزار ہوجائے تو کیا کرنا چاہیے ؟ الگ ہوجانا چاہیے ! لیکن میں تم سے بےزار نہیں ہوں میں تم سے الگ نہیں ہونا چاہتی ! تعلقات باہمی رضامندی پر چلتے ہیں ایک راضی نہ ہو تو تعلق کو ختم کر دینا چاہیے ! تم نے یہ بھی کہا تھا کہ تم تعلق ختم نہیں کرو گے ! میں اپنے یہ الفاظ بھی واپس لیتا ہوں ! کچھ الفاظ واپس مت لو ان سے مجھے سہارا ملے گا ! الفاظ کبھی سہارا نہیں ہوتے اگر انکو ادا کرنے والا ہی ساتھ نہ ہو ! تو تم ساتھ رہ لو نا تھوڑا سا ایڈجسٹ کر لو نا ! خدا کیلئے اب تم بس کر جاؤ خود کو مجھ پر تھوپنا بند کرو میں تمہارا بوجھ اٹھا کر اب تھک گیا ہوں ! تم نے پہلے ہی دن مجھے سب کیوں نہیں بتایا! کیا نہیں بتایا ؟ کہ وقت کے ساتھ ساتھی بدل جاتے ہیں ! وقت کی ضرورت ہوتی ہے اگر نہیں بدلوں گا تو پیچھے رہ جاؤں گا آگے نہیں بڑھ پاؤں گا ! میں پیچھے رہ گئی ہوں ! یہ تمہاری اپنی غلطی ہے ! کیا تم اپنے جیسے کسی اور کو نہیں جانتے ہو ؟ کیوں ؟ تم مجھے اسکو سونپ دینا کہ تمہارے ہونے کا احساس رہے گا ! بس یہ تھی تمہاری محبت کہ نئی تلاش میں ایک سیکنڈ میں نکل پڑی ہو ! پھر بتاؤ کیا کروں اور محبت کیسے نبھاتے ہیں ! محبوب ملے یا نہ ملے نیا محبوب نہیں بناتے ہیں ! محبوب تھوڑی بناؤں گی بس سہارا مانگوں گی ! سہارے دینے والے پہلی ڈیمانڈ یہ کرتے ہیں کہ انکو محبوب بنایا جائے ! بےسہاروں کو تم جیسے لوگ کچل بھی تو دیتے ہیں جیسے تم مجھے کچل رہے ہو ! ہزار بار بولا ہے مجھ سے بحث مت کیا کرو ! اور میں نے ہزار بار بولا ہے کہ مجھے خود سے الگ مت کرو ! تم حد سے تجاوز کر رہی ہو ! حد سے تجاوز نہیں کر رہی ہوں بس ایک التجا کر رہی ہوں ! تمہاری التجا پوری نہیں ہو سکتی ہے ! تم خاموشی سے الگ ہوجاتے مجھے بتانا ضروری تھا کیا ! ہاں بتانا ضروری تھا تاکہ تم کسی آسرے میں نہ رہو ! کل تک ہی ساتھ رہ لو محبت کی قسم کھا رہی ہوں بےسہارگی کی حالت میں موت کو گلے لگاؤں گی ! نہیں ہم ابھی اسی وقت الگ ہونگے اور ایسے الگ ہونگے جیسے کبھی ملے ہی نہیں تھے اب "خدا حافظ "! عباس
21
27
42
1,377
زہر کی بوتل نیند کی گولی پنکھا رسی سب کچھ ہے موت کا جذبہ، زیست سے نفرت اور اداسی سب کچھ ہے میرے بعد زمیں والوں سے میرا خالق نپٹے گا جس کے پاس، عقیم جہنم آگ اور مٹی سب کچھ ہے
4
16
23
235
حمزہ تراب ☕ retweeted
اگر آگہی جان لیوا مرض ہے تو غیر اجتنابی ایک چھپا ہوا دیمک ہے! بےخبر انسان لاشعوری کی دوا کھا کر ہمیشہ جوان رہتا ہے ! آگ اور پانی اگر متضاد ہیں تو پھر دیکھنے والی آنکھ محسوس کرنے والی آنکھ کے برابر کیسے ہوسکتی ہے ؟ عباس
13
27
1
56
1,317
حمزہ تراب ☕ retweeted
میری موت کا سوگ تو منا ہی لو گی - چلتا ہوں میں نکاح میں ضرور آنا کیوں ? اتنی جلدی مجھے مرتا دیکھنا چاہتی ہو ... اتنی آسانی سے کوئی نہیں مرتا - وہ لمحہ بھر چپ رہا اور پھر چل دیا - اگر اس لمحے بین کرنا ممکن ہوتا تو میں کر گزرتی مگر کچھ نہ کر سکی اور نتیجتہََ اب اس کا تحفتہََ دیا ہوا جوڑا پہنے کسی اور کی دلھن بنی بیٹھی تھی - نکاح کے کلمات ادا ہوئے - دل چاہا کے بھاگ جاؤں مگر جھکے سر سے بس اتنا کہہ سکی قبول ہے - اچانک کوئی سیاہ ڈوری اس شخص کے قدموں کے پاس آگری میں جانتی تھی وہ ڈوری کونسی تھی قبول ہے - یکدم کوئی ننھہ سا موتی اُس شخص کے قدموں کو چوم گیا میں جانتی تھی وہ موتی کونسا تھا - لڑکھڑاتی زبان سے ایک بار پھر قبول ہے - اور پل بھر میں ہی وہ شخص پورے قد سے زمین بوس ہوگیا - مگر میں لمحہ لمحہ مر رہا ہوں اُس کی آواز میرے کانوں میں گونجی اور تم دیکھنا میں مر جاؤں گا اتنی آسانی سے کوئی نہیں مرتا - میرے اپنے لفظ مجھے گھائل کر گئے چیخ و پکار میں سب گڈمڈ ہو رہا تھا میں نے سنا کسی نے کہا اُسے دل کا دورا پڑا اور وہ مرگیا کاش میں بتا سکتی اُسے میری محبت نگل گئی - میرا ہونا اُسے کھا گیا محبت نہ مری میرا محبوب مر گیا - گویا ہجر کا موسم آن ٹہرا - لمحہ لمحہ میں بھی مرنے لگی مگر میں اتنی آسانی سے آج تک نہیں مری جیسے وہ مرگیا.
28
35
1
56
2,311
حمزہ تراب ☕ retweeted
تقدیر کا لکھا کیا ہوتا ہے میں نہیں جانتی مگر کبھی کبھی یہ لکھا بڑا سنگ دل ہوتا ہے - جیسے اُس لمحے تھا - وہ میرے نکاح کی رات تھی - ایک اَن چاہا نکاح- - مولوی صاحب آنے ہی والے تھے - ایسے میں ہر طرف گہما گہمی تھی مگر کہیں گہرا سکوت بھی تھا - جہاں وہ کھڑا تھا - جہاں میں بیٹھی تھی - اور جہاں سینے میں بائیں طرف ہمارے دل دھڑکتے تھے - وقت کا کام تھا گزرجانا تو وہ دھیرے دھیرے گزرتا رہا -اُس ظالم کو اِس سے کیا کہ اُس کے گزرجانے سے کس کس پر کون کون سی قیامت گزر جاتی ہے- اُسے اس سے کیا - وہ تو بے پرواہ ہے - وقت کو بھی بھلا کبھی کسی کی پرواہ ہوئی ہے جو وہ میری اور اُسکی پرواہ کرتا- ہماری سات سالہ محبت اِس قابل تھی ہی کہاں کے کوئی اس کی پرواہ کرتا - سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہوجانے کے بعد بھی میں اُسی شخص کو سوچ رہی تھی جو آج میرے سامنے سر جھکائے جانے کیسے ہمت کیے کھڑا تھا - سفید شلوار کُرتے میں وہ مجھے ہمیشہ بے حد اچھا لگا کرتا تھا اور آج اُسی رنگ کے جوڑے میں پتہ نہیں وہ مجھے اچھا لگ رہا تھا یا برا بس میرا دل چاہ رہا وہ یہاں سے پلک جھپکتے میں اوجھل ہوجائے مگر ... ہاں مگر مجھے اپنے کُشادہ سینے میں چھپائے - اس بے درد دنیا سے زرا پرے لے جائے خیر دل کے چاہنے سے بھلا ہوتا ہی کیا ہے -جو اب کچھ ہوتا- میں نے نظریں اُٹھا کر اُس کی جُھکی نظریں دیکھیں تو سینے میں بہال ہوتیں سانسیں اٹکنے لگیں تھیں - وہ نظریں جُھکائے مجھے کبھی کیسا دلکش لگا کرتا تھا اور آج انہیں نظروں کو جھکائے وہ کتنا شکست خردہ لگ رہا تھا- میری آنکھ بھٹکتی ہوئی اُس کی کلائی پر بندھی کالی ڈوری پہ اٹک گئی ... جسے کبھی میں نے اس کے ہاتھ پر باندھا تھا وہی ہاتھ جسے تھام کر میں کبھی گھنٹوں چلا کرتی تھی - وہی کالی ڈوری جس پر کبھی میں وقت بے وقت اپنی شہادت کی انگلی پھیرا کرتی تھی اور یکدم اس کی چلتی نبض پر ہاتھ رکھ کر میں اُسے محبت سے تکا کرتی تھی - پلکیں جُھکائے اُسے اُس کی چلتی نبض کی اہمیت بتایا کرتی تھی - اور آج جیسے وہ چلتی نبض میں خود ہی روکنے والی تھی - سفید جوڑے پر لال چُنری اوڑھے میں اپنے لباس سے اس شخص کی مہک محسوس کرسکتی تھی جو میرا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں رہا تھا - کل ہی کی تو بات تھی جب وہ میرے کمرے میں یہ جوڑا لیے آیا تھا - مائیوں کے پیلے جوڑے میں کرسی سے کمر ٹکائے خاموشی کی قفل سجائے آنکھیں موندیں شاید میں اُسے کوئی اُداس غزل لگی تھی - وہ عین میرے قدموں میں آ کر بیٹھ گیا - میں بند آنکھوں سے بھی اُس کی موجودگی کو دیکھ سکتی تھی - مجھے اُس کے قدموں کی چاپ حفظ تھی - مجھے اُس کے جسم سے اُٹھتی خوشبو ازبر تھی - خاموش کمرے میں اُس کی آواز گونجی تو میرا دل تھم سا گیا یہ شادی مت کرو - پتہ نہیں التجا تھی یا کوئی بھیک مگر میری بولنے کی سکت کھو گئی تھی - بند آنکھوں سے کوئی شے کسی لکیر کی صورت میرے گالوں پہ لڑھک گئی تھی - میری خاموشی پر اُس نے اپنا بھرم رکھنے کو بات جاری کی - یہ شادی مت کرو اگر میں تم سے یہ کہوں گا تو تم نہیں مانو گی جانتا ہوں اِسی لیے کہنے سے گریز پا ہوں - مگر ایک بات تو مان سکتی ہو نہ ? کیا - میری بند آنکھیں کھلنے سے انکاری تھیں مجھے لگا میں آنکھیں کھولوں گی تو وہ غائب ہوجائے گا اور مزید آنکھیں بند رکھوں گی تو میں خود پتھر کی ہوجاؤں گی - اسی لیے پتھر کا ہوجانا قبول کیا- مگر میں پتھر کی ہو نہ سکی- یہ جوڑا ہمارے نکاح کے لیے خریدا تھا میں نے میں چاہتا ہوں یہ ہمارے نکاح پہ نہ سہی تم اپنے نکاح پر پہن لو - کیا ایسا ممکن ہے - کمال ضبط تھا اُس کا - میں نے چاہا وہ غائب ہوجائے تو میں نے آنکھیں کھول دیں مگر وہ غائب نہ ہوا- تم ... میرا جملہ میری زبان کی دہلیز پر ہی رہ گیا میری گود میں رکھا اُس کا سر مجھے گونگا کر گیا - انکار مت کرنا - میری ہچکیوں کے ساتھ اُس کی بوجھل آواز اُبھری - پھر وہ بہت دیر تک میری گود میں سر رکھے بیٹھا رہا پھر یکدم اُٹھا اور جانے لگا تھوڑی دیر اور رک جاؤ - میرے لفظ اُس کے قدم روک گئے میں اس کی پشت دیکھتی رہی- آنکھوں کی پیاس بجھاتی رہی - پھر یہ پیاس کہاں مٹ پانی تھی- پھر یہ لمحہ مُیسر ہی کب آنا تھا میں تم سے کہوں کہ تم رُک جاؤ تو کیا تم رُک جاؤگی - نہ جانے وہ مجھے بتا رہا تھا یا پوچھ رہا تھا - تم جانتے ہو ابا مرنے والے ہیں میں انکار کر کہ انھیں اپنے ہاتھوں سے وقت سے پہلے نہیں مار سکتی- تم چاچو کو نہیں مارسکتی اِسی لیے مجھے مار رہی ہو - یوں مت کہو - میں بھلا تمھیں کیسے مار سکتی ہوں - مگر میں لمحہ لمحہ مر رہا ہوں اور تم دیکھنا میں مرجاؤں گا - جی تو میں بھی نہیں رہی مگر تم مر بھی تو نہیں رہی تم چاہتے ہو میں مرجاؤں ? نہیں میں چاہتا ہوں تم مجھے مرتا دیکھو تم میری محبت کا جشن نہ منا سکی تو کیا ہوا
24
72
3
100
7,133
حمزہ تراب ☕ retweeted
جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اسے بلا تفریق محبت ملتی ہے اور موت کے بعد بھی ہر کوئی اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے بس درمیانی مدت جو زندگی کہلاتی ہے اسمیں محبت کا کاروبار چلانا ہے
10
26
114
حمزہ تراب ☕ retweeted
ایسا ھے کہ میں تو اپنے اندر بولتے بولتے اتنا تھک گیا ھوں کہ مجھے اپنے سینے کو سکھ پہنچانے کیلئے موت سے بھی زیادہ کوئی لگاتار خاموشی چاہئیے!! فرنود
9
39
2
142