Pinned Tweet
کسی کو اگر اب بھی کوئی شک ہے تو پچھلے 3 ماہ کی کڑیاں ملالے تو 9 مئی کے واقعات کے پیچھے گھناؤنے عزائم واضح ہو جائیں گے۔
سعودیہ، چین و ایران کی قربت، پاکستان کے روس، ترکمانستان، آزر بائیجان سے معاہدے، سی پیک کی بحالی و 58 ارب ڈالر کا ٹرین پراجیکٹ، اس دوران زلمے اور بریڈ شرمین کا
ابھی تو میاں صاحب نے اس ہی پچ پہ اپنی اننگ کا آغاز کرنا ہے جس پچ پہ یہ میچ شروع ہوا۔ اس کے بعد "مرسوں مرسوں" کی چیخیں سنائی دینی ہیں۔
حل صرف پنجاب کی تقسیم نہیں بلکہ سندھ میں کراچی و حیدرآباد، KPK میں ہزارہ و DI خان ڈویژن، بلوچستان کے 3 ایڈمنسٹریٹو حصے۔ تب ہی سسٹم ری سیٹ ہوگا۔
موجودہ کھچڑی پکنے کی اصل وجہ پنجاب میں کسی کی بھی دال نہ گلنا ہے۔
پیپل پالٹی کو الگ تکلیف کہ نہ نوکریاں بانٹنے کو، نہ کسی ٹرانسفر پوسٹنگ کی شنوائی، نہ ٹھیکے نہ کوئی ترقیاتی فنڈ، محسن نقوی و ہمنوا الگ لال پیلے، PTI کا بیڑا غرق، اوپر سے ریکارڈ ترقیاتی و فلاحی منصوبے۔
بھائی لوگو، ایک ضروری بات سن لو۔
بلاول اپنے باپ کی کون سی عزت کرتا ہے جو عمر میں اپنے باپ سے بڑے نوازشریف یا خواجہ آصف کی کرے گا۔
اکڑ و تکبر میں یہ نیازی نشئی سے دو چار سوتر ہی پیچھے ہے۔ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب آصفہ بھٹو نے PPP کی کمان سنبھالنی ہے اور بلاول کو اس کی بدتہزیبی و بدزبانی نے ہی کھڈے لائن لگانا ہے۔
عمر کے اس حصے میں یا تو جاوید ہاشمی صاحب کی یادادشت چلی گئی ہے یا پھر عقل سلیم فنا ہو چکی یا پھر یوتھیائی کیڑا پورا مغز چاٹ گیا ہے۔
قیام پاکستان سے لیکر 1951 تک پاکستان آرمی میں چیف ڈگلس گریسی سمیت چیف آف جنرل اسٹاف اور باقی تمام جرنیل برطانوی تھے جو پاک فوج کو منظم کر رہے تھے۔
ایک میجر جنرل افتخار خان کے علاوہ کوئی مسلمان جنرل نہیں تھا اور وہ بھی فضائی حادثے میں شہید ہوگئے۔ کل ملا کر ایک دو بریگیڈیئر، آٹھ دس کرنل کے علاوہ کوئی مسلمان پاکستانی افسر آرمی میں سینئیر پوزیشن پہ موجود نہ تھا۔
اس وقت مملکت کے نظام پر سیاستدان اور بیوروکریٹس کا مکمل کنٹرول تھا جو ایک نوزائیدہ ریاست کو سنبھالنے میں مصروف تھے۔
جاوید ہاشمی کو عمر کے اس حصے میں یاد آ رہا ہے کہ قائداعظم کو جرنیلوں نے اغواء کر لیا تھا اور مولانا کو مشرف کو وردی میں صدر منتخب کروانے کے 24 سال بعد یاد آ رہا ہے کہ کارگل کے شہداء کو ہندوؤں کے پاس چھوڑ دیا گیا۔ مزید یہ کی ان سب کا قصوروار بھی موجودہ آرمی چیف ہے۔
یہ پیشن گوئی بھی درست ثابت ہونے جا رہی ہے کہ "ایک وقت آئے گا کہ دنیا میں پانی پہ جنگیں ہوں گی"۔
تمام عرب ممالک میں پانی صاف کرنے والے پلانٹ موجود ہیں جو ان ممالک کی تمام آبادی کو صاف پانی مہیا کرتے ہیں۔ ان پلانٹس کے علاوہ میٹھے پانی کا کوئی اور زریعہ نہیں۔ یہ ان ممالک کی لائف لائن بھی ہیں اور ریڈ لائن بھی۔
پاسداران موساد نے کویت کے ڈی سیلینیشن پلانٹ پہ حملہ کر دیا ہے اور اب دیگر ممالک کے پلانٹس بھی نشانہ بنائے جائیں گے۔ جس کے بعد ایران پہ کسی ملک نے رحم نہیں کھانا اور پھر اسرائیل کا شیطانی کھیل عروج پر ہوگا۔
اسرائیل امن معاہدے کے خلاف تھا اور دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ میں بھی امن معاہدہ کرنے والوں کو غداری کے سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا،۔پاسداران موساد نے عرب ممالک پہ حملے شروع کر دئے اور حوثی باغیوں کو سعودیہ پہ چھوڑ دیا تاکہ امن معاہدے کا نہ کوئی وجود باقی رہے اور نہ ہی آبنائے گھڑمس میں سکون۔
اب صورتحال یوں ہے کہ عباس عراقچی اور ایرانی صدر کے ٹوئٹر اکاؤنٹس ایک ہفتے سے خاموش ہیں، ایک دو روایتی ٹوئٹس کے علاوہ کوئی انقلابی، انتقامی یا جنگی قسم کے اعلانات نہیں۔ ایرانی سیاسی قیادت کا یہ گروہ بھی دل گرفتہ ہو کر سائیڈ پہ ہو گیا۔ اب یا تو ایران بچے گا یا پھر پاسداران موساد۔
2 سال سے پٹرول و ڈیزل کو ڈھائی سو سے 280 کے گیڑے میں رکھا، ڈالر کے اسمگلر کے جبڑے چیر کر اسے 280 پہ لا کر کھونٹے سے باندھا، اشیاء و خورد و نوش کی قیمتوں میں استحکام آیا، پھلوں، سبزیوں و مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں ہبڑ دبڑ روکی۔
جنگ زدہ ماحول میں ڈیزل 520 روپے تک پہنچا اور واپسی 310 روپے تک آیا، پاکستان میں اس دوران نہ پٹرول و ڈیزل کا قحط پڑا اور نہ گیس کی سپلائی رکی۔
دنیا بھر میں تماشے لگتے رہے لیکن پاکستان اپنی عوام کی پھٹتی پہ ہی دوڑیں لگاتا رہا کہ امن قائم ہو جائے ورنہ ایران، اسرائیل و امریکہ کے رن میں لسن پاکستان کے ہی لگنے تھے۔
بھائی لوگو، حالات سنگین تو تھے ہی لیکن اب مزید سنگین ہونے جا رہے ہیں، اسٹیل کے لنگوٹ بنوا لو، ماتم ہمیں ویسے ہی پسند ہے، سوشل میڈیائی ذاکرین کے ہلکے میوزک پہ نوحے جاری ہونے والے ہیں۔
مختصر یہ کہ ایران کی سیاسی قیادت لاچار، بے بس و اپاہج ہو چکی ہے۔ اس کا پاسدارن "اسرائیل" پہ کوئی کنٹرول نہیں، پاسداران ان کے احکامات، معاہدوں اور بیانات کو روزانہ کی بنیاد پر ٹھڈے مار رہے ہیں۔
پاسداران پہ اسرائیل اپنا مکمل کنٹرول حاصل کر چکا، اپنے ایجنٹس کے ذریعے ایران کی تمام سینئر سیاسی و عسکری قیادت کو راستے سے ہٹا چکا۔ مجتبی خامنہ ای بس ایک علامتی نام رہ گیا ہے جن کے بارے میں خود ایرانی تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔
کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ چین و روس ایران کو خطے میں موجود امریکی تنصیبات کے بارے میں مدد فراہم کر رہے ہیں، یہ مدد پاسداران کو اسرائیل سے مل رہی ہے جس کے نتیجے میں دنیا کا سب سے بڑا شیطان اسرائیل عرب ممالک کو پاسداران کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے اور خود اب باہر بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہا ہے۔
ایرانی حکام کے آپسی اختلافات کے بارے میں مجتبی خامنہ ای کے نام سے آج ایرانی TV چینل پر نشر کیا گیا پیغام ہی سارے معاملے کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔
جب یوتھیوں کی دو غیر ملکی بہنیں پولیس کو رپورٹ کئے بغیر پاسپورٹ و سامان سمیت سیدھا ائرپورٹ کی طرف لپک رہی تھیں تو یہ پنجاب پولیس ہی تھی جس نے انہیں مقدمہ درج کرنے، اپنا تحریری بیان دینے، میڈیکل کروانے اور عدالت میں پیش ہونے کیلئے اپنی تحویل میں لیا، فارن آفس کے ذریعے ان کی متعلقہ ایمبیسیز سے رابطے کئے، ان کے اہل خانہ کو بھی اعتماد میں لیا اور 164 کے بیان کے مطابق تمام ملزمان کو گرفتار بھی کیا۔
یوتھیوں نے اپنی ان غیر ملکی بہنوں کو لوٹ مار پہ لگایا ہوا تھا اور آگے سے بہنوئی بھی لفنگا تلنگا نکلا تو اب خود بھگتیں۔ کیا علی ڈار یا اسحاق ڈار یوتھیوں سے ان کی بہنوں کا رشتہ مانگنے آئے تھے جو قصوروار ٹہریں؟
پاکستان میں جب تک نام و نہاد آزادئ اظہار رائے، انسانی حقوق کے نام پر نوٹنکی، جمہوریت کے حسن جیسی باسی کڑی، صحافتی آذادی کے نام پر غلاظت کو بند نہیں کیا جائے گا اس وقت تک پورا ملک کباڑ خانے جیسا منظر ہی پیش کرے گا اور ہر طرف ٹین ٹبے ہی بجتے رہیں گے۔
سعودیہ، روس، چین، UAE یا ترکی میں کوئی اپنی اوقات سے باہر نکلنے کی کوشش بھی کرے تو اگلے اس کی گدی سے زبان کھینچ کر باہر نکال لیتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ اپنے سامنے سوال کرنے والے صحافی کے ساتھ کتے والی کر دیتا ہے، پورے یورپ میں کسی بھی ملک میں کوئی اس کا جھنڈا جلا کر دکھائے یا اس ملک کو مردہ باد کہہ کر دکھائے وہ اگلے دن روئے زمین پر کہیں زندہ نظر نہیں آئے گا۔
پولیس کے سامنے چھری لہرانے والی عورت کو کل ہی امریکہ میں فائر ٹھوکے گئے ہیں۔
سیکھ لو بھائی لوگو سیکھ لو، دنیا سے کچھ سیکھ لو۔
معلومات عامہ:
دنیا کے ہر ملک میں ہر درجے کی عدالت کے ججز روٹین کے مطابق 24 گھنٹے کیلئے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں۔ ججز کی یہ ڈیوٹیز دنیا بھر عدالتی نظام کا حصہ ہیں۔
ضلعی عدلیہ ہو، ہائیکورٹ ہو یا سپریم کورٹ، ان عدالتوں کا کوئی نہ کوئی جج روسٹر کے مطابق 24 گھنٹے کیلئے ڈیوٹی پہ موجود ہوتا ہے۔ تاکہ کسی بھی ایمرجنسی یا ناگہانی صورتحال میں فوری عدالتی احکامات حاصل کئے جا سکیں۔
لہذا منہ پھاڑ پھاڑ کر کچھ بھی بولنے سے پہلے خود ساختہ مفکرین و محققین مروجہ قوانین کی طرف تھوڑا بہت رجوع کر لیا کریں تو علم میں اضافہ ہی ہوگا۔ اس بات کی 100 فیصد گارنٹی ہے کہ علم میں اس اضافے سے صحت پہ کوئی برا اثر نہیں پڑنا۔
کے پی کے اور سندھ میں فرشتوں اور جنات کی حکومتیں ہیں۔ وہاں تو ایمانداری سے ایک ہی رات میں ایسے بوسیدہ گھروں کو ڈھا کر اگلی صبح تک پکے لینٹر ڈال دئے جاتے ہیں۔ فیملی ذیادہ بڑی ہو تو ایک دن اور ایک رات لگا کر دو منزلہ گھر تعمیر کرکے دیا جاتا ہے۔
دنیا کے کون سے ملک میں حکومتیں مفت گھر بنا بنا کر دیتی ہیں؟ سوشل سیکیورٹی والے بھی اگر عارضی پناہ دیتے ہیں تو اس گھر کی ملکیت نہیں حوالے کر دیتے۔ جو دنیا جہان کے بھکاری دماغ ہیں وہ پاکستان میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔
سارے حرامخور یوتھئے یہ ثابت کرنے کیلئے ہلکان ہو رہے ہیں کہ باس یا تو علی ڈار ہے یا اسحاق ڈار۔
حرام کے بیوپاری خود ساختہ صحافیوں اور یوٹیومر کو کوئی جا کر بتائےکہ اسحاق ڈار اور علی ڈار پہ اتنا برا وقت نہیں آیا کہ ایسی سڑک چھاپ لنڈوریوں کے ساتھ سرمایہ کاری کریں۔
جس کے تعلقات دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے ساتھ ہوں، جو خود معاشیات کا ماہر ہو، دنیا کے بڑے بڑے اداروں میں اپنی خدمات دے چکا ہو کیا وہ اور اس کی اولاد ایسے چلتے پھرتے کسی کے ساتھ سرمایہ کاری کرے گی بھلا؟
یہ صرف لچر پن و نوٹنکیوں میں مبتلا نوجوان کی مستی تھی جس کا حساب ضرور ہونا چاہئے اور سزا بھی قانون کے مطابق۔
ٹریفک قوانین پہ سختی سے عملدرآمد کروانے پر حکومت کو کوسنے والے، تجاوزات و قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن پر ماتم کرنے والے، کرائے کے قاتلوں، عادی مجرموں و منشیات فروشوں کے خلاف CCD کی کاروائیوں پر اپنا گریبان پھاڑنے والے، ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانے ٹھوکنے پہ اپنے سر میں خاک ڈالنے والے، پبلک سیفٹی قوانین کو لاگو کرنے پر نوحہ خوانی کرنے والے پنجاب حکومت کو ذمے دار ٹہرا رہے ہیں کہ گھروں کی چھتوں کا سروے کیوں نہیں کیا گیا؟ ٹیوشن سنٹرز کی رجسٹریشن کیوں نہیں کی گئی؟
غربت ایک ملک گیر المیہ ہے لیکن بڑا وارداتیا اپنی ذہنی صلاحیت و قابلیت کے مطابق کل سے پنجاب حکومت پہ تبرا بھیج رہا ہے تاکہ مرتی ہوئی ریچ کو نئی روح پھونک سکے۔
پنجاب میں غربت کو پاکستان بھر میں سب سے زیادہ باور کروانے پہ تلا ہوا ہے لیکن نہ اس نے اکنامک سروے کو غور سے کبھی دیکھا ہے اور نہ کسی اور غیر جانبدار رپورٹ کو۔
پورے پاکستان میں سب سے ذیادہ غربت کی شرح بلوچستان میں 47 فیصد، اس کے بعد KPK میں 35 فیصد، تیسرے نمبر پر سندھ 32 فیصد اور سب سے آخر میں پنجاب 23 فیصد۔
جبکہ وارداتئے نے ملک گیر غربت کی شرح 28 فیصد کو پنجاب کی شرح بنا دیا۔













