فہیم ولی ٹویٹر پر اے این پی کے سینئر کارکن ہوا کرتے تھے ۔۔ اب ماشاءاللہ سے ہائیکورٹ کے جج لگے ہوئے ہیں ۔
پشاور ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر @BarristerGohar اور اپوزیشن لیڈر @MKAchakzaiPKMAP کی پختونخواہ میں ایمرجنسی / گورنر راج کے نفاذ کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کردیں، سینئر پیونی جج جسٹس اعجاز انوار کی سربراہی میں سنیارٹی میں نویں نمبر کے جسٹس فہیم ولی پر مشتمل ڈویژن بنچ کل سماعت کرے گا۔
جیسے مولویوں کے پاس دلیل ختم ہو جائے تو گستاخی اور کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں۔۔۔
ایسے ہی اقتدار پر قابض فوجیت کمیونیٹی کے پاس چونکہ کوئی اخلاقی اور اصولی جواز تو ہے نہیں ۔۔ لہذا ہر مخالف ملک دشمن اور دہشتگردوں کا سہولت کار ہے ۔
Pazal retweeted
اس خبر کا سورس قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے پیش کئے جانے والے اعدادوشمار ہیں لیکن جہالت کا یہ عالم ہے کہ حکومت کے اپنے ہی پالے ہوئے جعلی صحافیوں نے اس خبر پر سینہ کوبی شروع کر دی اور اس خبر پر تشویش کا اظہار کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دینا شروع کر دیا شاید ان جعلی صحافیوں کا ہینڈلر بھی اخبارات غور سے نہیں پڑھتا اس ہینڈلر کے پالے ہوئے سب تنخواہ دار عجیب قسم کی ہذیانی کیفیت اور احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں
یہ برین ڈرین بھی ہے،امید ڈرین بھی ہے اور مستقبل ڈرین بھی ہے ،خدارا اشرافیہ/اسٹیبلشمنٹ اس ملک پر رحم کرے۔یہ ذہانت کا انخلاء ہے،یہ ملک کےمستقبل پر اعتماد کا خاتمہ ہے۔
ترسیلات زر کی گردان کرنے والو: ریمیٹنسز اس کا ازالہ نہیں ہے متبادل نہیں ہے۔۔
یہ ہے اس کرپٹ غلام اشرافیہ کی پالیسیاں۔۔۔3 سال میں 18 لاکھ 71 ہزار باصلاحیت،ہنر مند افراد ڈاکٹرز،انجینئرز،آئی ٹی پروفیشنلز اور دیگر شعبوں کے ماہرین(حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے) بیرون ملک چلے گئے۔۔
اس کرپٹ اشرافیہ نے پاکستان زندہ باد کے بجائےپاکستان سے زندہ بھاگ کی روش دی۔
Pazal retweeted
جب کسی ملک کے باصلاحیت لوگ اچھی ملازمتوں کے باوجود وطن چھوڑنے لگیں تو یہ محض ذہانت کا انخلا نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل پر اعتماد کے فقدان کا اظہار ہے۔
پاکستانی صرف بہتر تنخواہوں کی تلاش میں ملک نہیں چھوڑ رہے۔ وہ عزتِ نفس، میرٹ، انصاف اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے خواہاں ہیں۔
المیہ یہ نہیں کہ لوگ وطن چھوڑ رہے ہیں، المیہ یہ ہے کہ وطن میں رہنے کی امید چھوڑ رہے ہیں۔ قوموں کا اصل زوال تب شروع ہوتا ہے جب ان کے باصلاحیت لوگ ملک چھوڑنے سے پہلے اس کے مستقبل پر یقین چھوڑ دیتے ہیں۔ /2
Pazal retweeted
ذرا سوچئے : "یہ برین ڈرین نہیں، برین گین ہے!"
یعنی ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی پروفیشنلز باہر جا کر دوسروں کی جی ڈی پی بڑھا رہے ہیں… اور ہم کہہ رہے ہیں "شکریہ، ہماری تعلیم و تربیت اور ٹریننگ کامیاب رہی!"
جو جا رہے ہیں، زیادہ تر وہ پڑھے لکھے ہیں۔
جو رہ رہے ہیں، وہ موقع کا انتظار کر رہے ہیں۔
Pazal retweeted
He is member of Council in Emergemcy Districts for Governor
He is a terrorist
@MehmoodJan1 saraay mo Sambaaal kai
ایک طرف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت ختم کر دی، اور ملک بھر سے تحریکِ انصاف کے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔
مؤقف یہ اختیار کیا جا رہا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں اور گرفتار افراد پر دہشت گرد عناصر کی حمایت کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب یہ سوال اٹھ رہا ہیں کہ خیبر پختونخوا میں نافذ کیے گئے گورنر راج اور اس سے متعلق بعض تقرریوں میں ایسے افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں جو ماضی میں شدت پسند تنظیموں یا عسکریت پسند گروہوں سے تعلقات رہے ہیں۔
اسی تناظر میں خیبر سے فاٹا ایڈوائزری کونسل کے لیے منتخب رکن عزت اللہ کی ایک مبینہ پرانی ویڈیو بھی زیرِ بحث ہے۔
سوشل میڈیا پر کیے جانے والے دعووں کے مطابق ان پر ماضی میں شدت پسند سرگرمیوں، مجاہدین گروہوں سے وابستگی، اور لوگوں کو جہاد و عسکریت پسندی کی ترغیب دینے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
#StopPashtunGenocide #پخیر_پختونخوا #دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ #گورنر_راج_نامنظور
Pazal retweeted
فاٹا کونسل میں تمام وہ سرکاری مرعات یافتہ ملکان شامل ہیں جو دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کےحامی ہیں اور فیض حمید کے اس جرگے کے ممبر تھے۔ جس کے بعد پختونخوا میں دہشتگردوں کی دوبارہ آباد کاری ہوئی۔
پھر پی ٹی آئی بھی دہشتگردوں سے بات چیت کی حامی تھی،اسکی منتخب حکومت کیوں ختم کر دی گئی؟
🫣
US navy is now operating within the territory of Pakistan against Iran. This is the 2nd day of us navy operating here. Likely means the dictator asim munir has given US green light to use it's airspace and territory for Iran ops. Also comes as reports of Pakistan cutting of Trade waiver with Iran. Iran–Pakistan Border have been Closed to All Trade and Movement
Pazal retweeted
طریقہِ واردات بہت پرانا اور فرسودہ ہے، جنرل ضیاء دور میں پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ منور ایک تاریخی اور نادر مقدمے میں بطور ملزم پیروی کے لیے جایا کرتے تھے۔ مقدمہ یہ تھا کہ آپ سرکاری گاڑی پر ایک اداکارہ کے گھر گئے تھے، آپکی سرکاری گاڑی ہوٹل سے کھانا لینے بھی جاتی تھی۔ جس سے قومی خزانے کو شدید نقصان ہوا۔ اس طرح کے چار مقدمات میں دو سال قید بامشقت ہوئی۔ پھر وقت بدلا تو وہی جنرل ضیاء تھے اور وہی راجہ منور انکے الیکشن سیل کے سربراہ تھے۔
Pazal retweeted
مقید چینل کہتا ہے جمیل چوک پشاور پر مشینری موجود ہے اور کام جاری ہے۔ چیٹ جی پی ٹی سے جوابات ڈھونڈیں گے تو یہی ہوگا۔ یہ وڈیو دیکھ لیں۔ ناردرن بائی پاس کا جواب بھی تفصیل سے دیتا ہوں۔ صحافیوں کی ٹرولنگ نہ کریں، جو پراپیگنڈہ آپ کا کام ہے وہی کریں، وگرنہ بہت دور تک چھوڑ کر آؤں گا۔
یہ حلف عاصم منیر نے بھی اٹھایا ہے لیکن عمل نہیں کرتا۔۔۔یعنی ہر روز ہر گھنٹہ ہر منٹ اِس وطن سے غداری کا مرتکب ہو رہا ہے ۔
Pazal retweeted
کسی نے جہاز خرید لیا، اور تانگے کی طرح استعمال کرنا شروع کیا، کروڑوں کی گاڑیاں آرڈر کردیں، ایک ایک تقریب پر کروڑوں کا خرچ اور دوسروں طرف مائیکروسکوپ سے چیزوں کو دیکھا جارہاہے۔
Pazal retweeted
خواجہ آصف آپ نے بات چھیڑ دی، تو پھر لو جی کچھ ریکارڈ درست کردیں۔
یہ سوال بھی جناب احمد کنڈی صاحب نے جمع کیا تھا، جس کا جواب محمکہ معدنیات نے کمیٹی میں پیش کیا۔۔۔۔ FWO شمالی وزیرستان کاپر مائننگ!!!!
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
Pazal retweeted
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کی حقیقت (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق):
قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس/ٹائٹلز جاری ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ 2020 تک 1,762، فروری 2024 تک 3,962، اور موجودہ وقت میں کل 4,917 مائننگ لائسنسز جاری ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 4,133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں
اس پورے عرصے میں عسکری ادارے FWO کو صرف ایک لائسنس ملا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں دیا گیا تھا، جہاں FWO تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا
اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے
مختصر یہ کہ معدنیات کے لائسنسز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی دورِ حکومت میں جاری ہوئی، جبکہ عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست حصہ سرے سے تھا ہی نہیں.
انصافیوں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں انکو پتہ ہے ہم 20لوگ اکٹھے نہیں ہوسکتے مار پڑے گی گرفتاریاں ہونگی اٹھائے جائینگے
لہزا وہ کہتے ہیں بھئی یہ ہمارا کام ہی نہیں پارٹی ہی کرے جو کرنا ہے جبکہ دوسری سانس میں پارٹی کو غدار بھی کہتے
جب وہ غدار ہیں تو پھر آپ کو ہی کچھ کرنا پڑیگا
اپنے ملک میں چند ہزار ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشتگردوں کو ختم نہیں کر سکتے اور سوویت یونین کو ٹوٹے ٹوٹے کر دیا ۔۔ فوجیت کنجروں کی بھی اپنی دنیا ہے ۔۔




































