Asad Jamal retweeted
The PPP continues to boast about the 18th Amendment while voting in favour of emergency and supporting governor’s rule.
Is suspending an elected government and imposing technocrats on the people of Khyber Pakhtunkhwa PPP’s idea of democracy and provincial autonomy?
کسی ملزم کی اپنے وکیل کے ساتھ ملاقات کے بغیر فیئر ٹرائل کا کوئ تصور نہیں۔ بنیادی حقوق کی ایسی پامالی نہ سنی نہ دیکھی۔
دوسری جانب حکومتی نمائندگان ہیں کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے حق میں self serving آئینی تشریحات پیش کرتے تھکتے نہیں۔ جمہوریت بہترین انتقام کیسے ہے اب سمجھ میں آیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف بیریئر ہٹانے کا کیس اتنا عجیب و غریب طریقے سے چل رہا ہے آپ حیران ہو جائیں گے
ایک تو یہ کیس روزانہ کی بنیاد پر چل رہا ہے ۔۔ جہاں اسی انسداد دہشت گردی عدالت میں باقی کیسز روزانہ کی بنیاد پر نہیں چل رہے روٹین میں چل رہے ہیں
چلیں روزانہ ہی عدالت کیس چلائے ۔۔۔ لیکن وکلا کی جیل میں قید ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے ملاقات مشاورت تو ضروری ہے نا ۔۔۔ فئیر اور شفاف ٹرائل کا تقاضا بھی ضروری ہے
لیکن یہاں وکلا کی ملاقات و مشاورت نہیں ہو رہی نا ہی عدالت کروا پا رہی ۔۔۔ وکیل عدالتی حکم پر ملنے جیل گئے وہاں ان کو جیل کے قریب بھی نہیں جانے دیا گیا
دوسری جانب سے انسداد دہشت گردی عدالت نے وکلا اور ملزمان کی غیر موجودگی میں تین گواہوں کے بیانات تین دن پہلے ریکارڈ کئے آج مزید تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر دئیے
ایمان و ہادی کے وکلا نے نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ ایک تو بغیر وجہ عدالت ذاتی حیثیت میں ایمان ہادی کو پیش نہیں کیا جا رہا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا رہا ہے ۔۔ جہاں کنکشن کے مسائل بھی ہوتے ہیں وکلا کے ساتھ اس طرح مشاورت بھی نہیں ہو سکتی نا ہی وکلا کو کلائنت سے جیل میں ملنے دیا جا رہا ہے ۔۔۔ اس وجہ سے وکلا اور ملزمان نے کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا کہ جب ہمیں ہدایات نہیں مل رہی تو کیس کی پیروی کیسے کریں
اب جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے مزید گواہان کو طلب کر لیا ہے
ایسے لگتا ہے یہ ٹرائل ملزمان و وکلا کے بائیکاٹ کی صورت میں ہی چلے گا ۔۔ اور دوسرے کیس میں ضمانت کے معاملے سے پہلے اس کا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے
Asad Jamal retweeted
How slowly but surely states and societies take steps towards implosions… I now have lived through enough to tell this tale
Asad Jamal retweeted
غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا
کار_مضر سے کچھ نہ کرنا اچھا
اکبر نے سنا ہے اہل_غیرت سے یہی
جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا.
اکبر اللہآبادی
The crisis of state coercion today is not merely about isolated instances of police brutality and aggression; it is about how the "state of exception" has quietly become normalized across global politics.
In such environment, law enforcement operates under a pervasive shield of impunity. This physical enforcement on the streets works hand-in-hand with administrative censorship and surveillance to construct a broader culture of intimidation.
Asad Jamal retweeted
Amid the destruction of Gaza’s schools and universities, Niveen Al-Gharabli has built a makeshift book stall from books salvaged from rubble and damaged homes.
She restores and sells them at low price, or gives them away to students and those who cannot afford them.
Gaza woman rescues books from rubble to keep education alive
More on Aljazeera.com
Asad Jamal retweeted
Since 2014, communal violence is changing in India: it was eruptive, instrumental & collective; it is now more routinised, ethnocidal & individual. My take on this change.
thewire.in/communalism/from-…
@CERI_SciencesPo @KingsIndiaInst @BASASofficial @SAsiaSolidarity @HimalSouthasian
انکے ہاتھ کیسے بندھے ہیں؟ ہائ کورٹ کا براہ راست اختیار بنتا ہے آرٹیکل 199 کے تحت۔ بنیادی حقوق کے نفاذ کا معاملہ ہے۔ ہاتھ کیسے بندھے ہیں؟!
وکلا حضرات اس مکالمے پر تھوڑی اپنی رائے دیں
سلمان صفدر نے آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے کہا میری بطور پروفیشنل وکیل کے اپنے کلائنٹ سے آخری ملاقات اپریل میں ہوئی تھی کلائنٹ سے میری ملاقات کرانے کا اڈیالہ جیل کو حکم دیا جائے
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا وہ معاملہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں ہے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں
ججوں کو بروقت فیصلے کرنے چاہئیں۔ سخت لہجے میں برھمی کا اظہار کرنے کی کوئ ضرورت نہیں۔ 13 اکتوبر تک درخواست کو التوا میں ڈال دینے کا کوئ قانونی یا اخلاقی جواز نہیں۔
جج صاحب کو یہ سب کرنے کی نا تو ضرورت تھی نہ ہی انکو سخت لہجے میں بات کرنی چاہئیے۔ ججوں کو زیب نہیں دیتا۔
سیدھا کام کریں:
درخواست گزار کے وکیل کی بحث سنیں۔ سرکار کی بحث اور تفتیشی کےلئے آج کا ہی وقت مقرر کریں۔
کورٹ روم سے فیصلہ کئے بغیر وہاں سے نہ نکلیں۔ انصاف ہوتا ہوا نظر آئیگا۔
ا
جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کا ڈی ایس پی پر شدید برہمی کا اظہار
عدالت نے ہتھکڑی منگوا لی
عدالت نے سیکورٹی انچارج کو بھی بلوا لیا
کدھر ہے کیس کا ریکارڈ ؟ جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کا استفسار
ڈی ایس پی کے انگریزی میں بات کرنے پر جج پھر برہم
میرے ساتھ اردو میں بات کرو ، جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کا ڈی ایس پی سے مکالمہ
میری معلومات کے مطابق تفتیشی آؤٹ آف سٹی ہے ، ڈی ایس پی کا جواب
آپ ایسے ہی آگئے ہیں مجھے زبانی کلامی باتیں پسند نہیں ، عدالت کا اظہار برہمی
مجھے کچھ وقت دے دیں میں بتاتا ہوں ، ڈی ایس پی کی استدعا
ریکارڈ پر کوئی چیز ، آپ کو بھی اور ایس پی کو بھی چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دوں گا ، جج
شرم آنی چاہیے آپ کو لوگوں کو ، بدمعاشی بنائی ہوئی ، عدالت ڈی ایس پر برہم
ادھر کٹہرے میں الٹا منہ کرکے کھڑا کروں گا یہ کوئی طریقہ ہے ، جج
لائیں مجھے ثبوت دیکھائیں میں ابھی چھ ماہ کے لیے آپ کو جیل بھیج دوں گا ، جج
پھر عدالتوں پر بات آتی ہے ، ڈرامہ بنا ہوا ، جج
یونیفارم سمیت جیل بھیج دوں گا میں نہیں مانتا آپ کی بات ، جج
عدالت نے ڈی ایس پی کو کچھ وقت دیتے ہوئے سماعت میں وفقہ کر دیا
Asad Jamal retweeted
Jinnah's response, in March 1948, to a deputation of Hindu MLAs who came to complain about the worsening conditions for Hindus in East Pakistan. (1/3)
Sit on a commercial flight instead. Crazy entitlement.
My new book, The Architecture of Complicity: How India Helped Israel Conduct a Genocide in Gaza, will be published by @PlutoPress in January 2027.
The book shows how India, which presents itself as a leader of the Global South, helped enable Israel’s genocide in Gaza alongside its Western allies.
It traces media complicity, diplomatic shielding at international forums and the replacement of Palestinian workers with Indian labour. It also examines how and why Palestine failed to become a national political issue in India.
Drawing on previously unpublished military trade data, the book reveals the scale of Indian military exports to Israel during the genocide.
It will be available in the US, UK, South Africa and, hopefully, India.
Asad Jamal retweeted
Replying to @RidaHosain
@RidaHosain's timely piece was temporarily taken offline for editorial review. It has been republished with only the addition of this phrase: “from settled law as previously understood”. The writer’s original headline has been retained as well.
dawn.com/news/2033991/how-th…
Asad Jamal retweeted
And it is back up.
Rida Hosain’s brilliant piece on the FCC’s regressive judgments.
dawn.com/news/2033991/how-th…
Asad Jamal’s (@LegalPolitical) thread in response to my post is one of those rare interventions that takes a discussion much deeper rather than simply agreeing with it.
This thread 🧵 deserves to be read in full.
Replying to @AliArqam
Public discussion on crime is already very limited. It is limited due to absence of curiosity, laziness of intellect and difficult path to access relevant information. I have seen even the best to reduce the commission of grave crimes to an individual's doing.
1/
Asad Jamal retweeted
I understand the sentiment but it’s very easy to destroy things, much harder to build.
It’s hard to imagine 120 countries coming together in today’s polarized climate and agreeing to police each other on atrocity crimes. The fact that this happened decades ago was a major feat.
Asad Jamal retweeted
Replying to @AliArqam
نہ شاخِ گل ہی اونچی ہے نہ دیوارِ چمن بلبل
تری ہمت کی کوتاہی تری قسمت کی پستی ہے
امیر مینائ
























