Hum'mal retweeted
16 year old fisherman, Muhammad Musa Abu Jiab, was attempting to fish near Gaza's legal coast when the occupation naval gunfire martyred him.
Hum'mal retweeted
The unlawful arrest of ANP Balochistan President @AsgharAchakzaii exposes the state’s design for managing Balochistan, where speaking for one’s people comes at a price. Asghar Khan has already received the dead bodies of his father, brother and cousin. How much more must he pay?
Hum'mal retweeted
اصغر خان اچکزئی کا عدالت میں ضمانت منسوخی کے بعد میڈیا سے خطاب، کارکنوں کو پُرامن رہنے کی ہدایت
عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے چمن کی عدالت میں اپنی ضمانت منسوخ ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری اقدار اور انصاف کی فراہمی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری جدوجہد کسی تصادم یا محاذ آرائی کے لیے نہیں، بلکہ اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔
اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ آج جس مقدمے میں ہماری ضمانت منسوخ کی گئی، اسی مقدمے کے مدعی نے گزشتہ روز عدالت میں حلفاً بیان دیا تھا کہ ان کی اصغر خان اچکزئی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں، بلکہ وہ انہیں اپنے علاقے کا محترم مشر سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول، مدعی نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اصغر خان اچکزئی کے خلاف ان کے نام سے درج ایف آئی آر سے نہ ان کا اور نہ ہی ان کے خاندان کا کوئی تعلق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں توقع تھی کہ عدالت ان حقائق اور مدعی کے بیان کی روشنی میں اس مقدمے کا جائزہ لے گی، تاہم توقعات کے برعکس ہماری ضمانت منسوخ کر دی گئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے ہونا اور ہر شہری کو منصفانہ قانونی عمل کا حق ملنا جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
اے این پی بلوچستان کے صدر نے کہا کہ ہماری سیاست ہمیشہ پُرامن جدوجہد، جمہوری اصولوں اور آئین کی بالادستی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ہم نے ہمیشہ قانون کا احترام کیا ہے اور آئندہ بھی اپنے حقوق کے حصول کے لیے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ متعلقہ ادارے تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔
انہوں نے پارٹی کارکنوں اور ہمدردوں کو ہدایت کی کہ وہ پُرامن رہیں، کسی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور جذبات میں آ کر کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے امن و امان کی صورتِ حال متاثر ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس واقعے کے خلاف کسی قسم کے احتجاج یا ہڑتال سے گریز کیا جائے اور انتظامیہ و پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے۔
اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی اصل طاقت ان کا شعور، نظم و ضبط، جمہوری طرزِ عمل اور پُرامن جدوجہد ہے۔ ہم کسی کے خلاف محاذ آرائی نہیں چاہتے، بلکہ اپنے آئینی حقوق، قانون کی حکمرانی اور انصاف کے اصولوں کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں، بلکہ آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری روایات کے استحکام اور انصاف کے حصول کے لیے ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ حق و سچ کی فتح ہوگی اور ہم اپنی سیاسی جدوجہد پُرامن اور جمہوری انداز میں جاری رکھیں گے۔
#AsgharKhanAchakzai |#AwamiNationalParty |#ReleaseAsgharKhanAchakzai
Hum'mal retweeted
Tomorrow marks six months since my brother, Dad Shah Baloch, was taken before our eyes, and we hold the state and the CTD accountable for answering where he is.
Six months. Tell us under what law can a citizen be taken away, and his facebook.com/share/p/1CciNe1…
#ReleaseDadShahBaloch
عمر چیمہ صاحب کی اس ٹویٹ اور ان کے قائم کردہ بیانیے پر، بلوچستان کے تناظر میں چند سوالات:
پہلا، چیمہ صاحب! جب بلوچستان 1954 سے پاکستان کی صنعتی و زرعی ترقی کے لیے 99 فیصد گیس فراہم کر رہا تھا اور کوئٹہ کو گیس دریافت کے 30 سال بعد دی گئی، تو اپنے ہی قدرتی وسائل پر حق مانگنا اور اس معاشی ناانصافی پر بات کرنا "خود ترسی" ہے یا آئینی و معاشی حق کا تقاضا؟
دوسرا، بلوچستان کے ذخائر کو اوگرا کے بننے سے پہلے بغیر کسی سائنسی پیمانے (BTU) اور انتہائی ارزاں نرخوں پر بیچ کر رائلٹی اور گیس ڈیولپمنٹ سرچارج سے محروم رکھا گیا، تو کیا یہ محض شہریوں کا نفسیاتی عارضہ ہے جسے آپ کے موٹیویشنل خطبات سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے، یا یہ ریاستی پالیسیوں کی سٹرکچرل ناکامی ہے؟
تیسرا، آپ قومی حقوق کی جدوجہد کرنے والے رہنماؤں پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں، لیکن جب وفاقی اور مرکزی جماعتیں دہائیوں تک صوبوں کو ان کا این ایف سی حصہ، پانی کے حقوق، یا این ایف سی کا تین فیصد حصہ نہیں دیتیں، تو لوگوں کا اپنے مقامی بیانیے پر اعتماد کرنا ایک طبیعی سیاسی ردِعمل ہے یا محض ووٹ بٹورنے کا ڈرامہ؟
چوتھا، اصلاح کی ضرورت ان اقوام کو ہے جو دہائیوں سے سیکیورٹی آپریشنز، معاشی استحصال اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا شکار ہیں، یا پھر اسلام آباد اور پنڈی کے اس مرکزی ڈسکورس کو، جو ساختی ناانصافیوں کا ملبہ مظلوم قومیتوں کی "اخلاقی حالت" پر ڈال کر وفاقی اداروں کو جواب دہی سے مبرا کر دیتا ہے؟
خود ترسی ایک بیماری ہے اسکا شکار افراد خود اصلاحی کیطرف مائل نہیں ہوتے انہیں دوسروں پر غصہ اور اپنے آپ پر ترس آتا ہے وہ اپنی زندگی میں جاری ناآسودگی کا ذمہ دار ہمیشہ دوسروں کو تصور کرتے ہیں اسی خودترسی کو قوم پرست راہنماؤں نے فروغ دیا ہے انہیں ووٹوں سے غرض ہے ناں کہ عوام کی اصلاح سے، اسکے برعکس وہ لوگ جو دوسروں کا مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنے اصلاح کیطرف مائل ہوتے ہیں وہ دن بدن بہتری کیطرف مائل ہوتے ہیں اور وہی لوگ ترقی کرتے ہیں
Hum'mal retweeted
میرے بیٹے غلام حیدر کو 12 مارچ کو مشرقی بائی پاس، کوئٹہ سے ملکی اداروں کے اہلکاروں نے تفتیش کے بہانے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کیا۔ اگر اس پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، بے قصور ہے تو فوری رہا کیا جائے۔
بی بی شاہ نور کی التجا
#EndEnforcedDisappearances
Hum'mal retweeted
Syria/Syrian Kurds: Protests continue in Qamishlo, demanding the right to education in Kurdish.
Hum'mal retweeted
ابا واتر کن یار نو بس ایں۔ بی بی تئ بازیں راھچاری ءَ سک نزور تر بیتگ۔پھک ءَ ھلاس انت ۔تئ گندگ ءِ واستہ تلوسگ ءَ انت۔ زوت واتر باتے ۔۔۔
#ReleaseRafiqOman
Hum'mal retweeted
My father Rafiq Oman was a honest teacher. He always guided his students to learn and succeed in their life. Is giving education and awareness is crime?????
#ReleaseRafiqOman
Hum'mal retweeted
"Jin, Jiyan, Azadi" didn't begin in 2022. Its roots trace back to Kurdish women's organizing within the PKK in the 1980s, the Saturday Mothers' vigils, and Jineolojî theory, before reaching global recognition at Jina Amini's funeral in Saqqez.
theamargi.com/posts/the-tran…
Hum'mal retweeted
What the fuck is interior Sindh?
Why they have normalised this word containing hateful undertones?
They aren't even interested to know which part of Sindh is called what, but never tired of lecturing about 'development'.
This quoted post is unavailable.
Hum'mal retweeted
سوراب فضائی بمباری کے زخمیوں میں سے ایک اور زخمی خاتون، بی بی سارہ، آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئیں۔ ان کی شہادت اس حقیقت کی ایک اور دردناک گواہی ہے کہ بلوچستان کے عوام صرف ریاستی جبر ہی نہیں، بلکہ میڈیا، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی کی قیمت بھی اپنی جانوں سے ادا کر رہے ہیں۔
جس روز سوراب میں بمباری ہوئی، اسی روز متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں لے کر سڑکوں پر آئے تھے۔ ان کے بنیادی مطالبات میں یہ بھی شامل تھا کہ زخمیوں کو بہتر اور فوری علاج کے لیے کوئٹہ یا کراچی منتقل کیا جائے۔ انتظامیہ نے یقین دہانی تو کرائی، مگر عملی طور پر مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
اسسٹنٹ کمشنر سے لے کر دیگر متعلقہ سرکاری ذمہ داران تک، جنہوں نے اس سانحے کے بعد اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں غفلت برتی، انہیں اس انسانی المیے کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔ ریاستی اداروں کی غفلت اور بے حسی انسانی جانوں کے ضیاع کا ایک اہم سبب بن رہی ہے۔
سوراب کے علاوہ قلات اور شعبان میں بھی فضائی بمباری کی اطلاعات سامنے آئیں، اگرچہ وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ دوسری جانب زہری، مولہ، وڈھ، خاران اور مستونگ میں ڈرون حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ واقعات محض الگ الگ سانحات نہیں بلکہ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے عسکری تشدد، جبری گمشدگیوں، فضائی حملوں اور جبری بے دخلیوں کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان واقعات پر ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا، سیاسی قوتوں، عدلیہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی بھی برقرار ہے۔
ہماری خاموشی اس خونریزی کو مزید بڑھا رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں، فضائی حملوں، شہری آبادیوں پر تشدد اور جبری بے دخلیوں کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہو چکا ہے۔
Hum'mal retweeted
فتنه الخوارج اور فتنه الہندوستان کی کھڑکی توڑ کامیابی کے بعد پیشِ خدمت ہے، ناظرین، فتنۃ الپڑوسیصوبَتُن
Hum'mal retweeted
پڑوسی ملک کو دہشت گردی کے الزام سے بری قرار دینے کا کارنامہ بھی صرف پنجاب کی وزیراعلیٰ سرانجام دے سکتی ہے سندھ، پنجاب یا بلوچستان کا وزیراعلیٰ ایسی بات کردے تو اسکی زندگی عذاب ہو جائے
Hum'mal retweeted
ڈوب مرو
پختونخوا سے دہشتگرد نہیں بلکہ آپ کے فیکٹریوں کے لئے بجلی، پانی، معدنیات ارہے ہیں۔
آپ کی فیکٹریاں ہماری پیدا کردہ بجلی سے چل رہی ہے۔ اور آپ نے جو جہاز خریدہ وہ جو آپ کے ہینڈلرز نے جو ڈالری جنگ مسلط کی ہماری سرزمین پر ان ڈالرز سے خریدہ ہے۔
شرم کرو!
لیکن حساب تو ہم لینگے۔
Hum'mal retweeted
Abdul Sattar Umrani wasn't involved in honor-killing case. Infact, he has history of apposing Sardari-nizaam which is anti-women. He has always stood against those butcherers involved in case. Tania bazai and puppets like her has nothing to do with women rights.
Hum'mal retweeted
وہ بھی دن تھے جب سارا ملبہ "افغانیوں" پر ڈال دیا جاتا تھا۔ اب ان کو نکال دیا تو کسی کو تو مورد الزام ٹھرانا ہے۔ کیونکہ ڈان لیکس نے یہ سبق سلھا دیا تھا کہ اصلی مسلئے کی نشاندہی کبھی بھی نہیں کرنی۔






























