MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti) header
MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti) profile picture

MTI-HMC is a public sector hospital, that provides medical services in 32 specialties. It has internationally acclaimed doctors, and well-trained nursing staff.

Phase IV Hayatabad Peshawar,
Joined October 2015
Photo by MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti)Photo by MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti)Photo by MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti)Photo by MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti)Photo by MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti)Photo by MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti)Photo by MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti)Photo by MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti)Photo by MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti)Photo by MTI - Hayatabad Medical Complex Peshawar (@HmcMti)
Video by Mr Tasawar Hussain Shah Produced by Tauheed Zulfiqar Idea oncived by Waseem Khattak Media Cell MTI/HMC #HMC #HayatabadMedicalComplex #ChildHealth #Pediatrics #ChildrensHealth #Peshawar #Healthcare #HealthAwareness
31
Interview: Dr. Syed Jamal Shah Topic: Children’s Health, Common Diseases & Healthcare Facilities. Watch the interview to learn more about children’s health and the medical facilities available at HMC.
32
Interview: Dr. Syed Jamal Shah Topic: Children’s Health, Common Diseases & Healthcare Facilities Watch the interview to learn more about children’s health and the medical facilities available at HMC.
37
The interview highlights key health concerns affecting children and provides valuable information for parents on disease prevention, early identification of symptoms, and seeking timely medical care. Hayatabad Medical Complex (HMC), Peshawar.
22
Interview Children’s Health & Medical Facilities. An insightful conversation with Dr. Syed Jamal Shah Consultant Pediatrician at (HMC), Pesh about common childhood diseases, preventive healthcare, timely diagnosis & the importance of quality healthcare facilities for children.
24
29 طالبات، 86 میڈلز ! کے جی ایم سی کے کنوکیشن میں فرح اآفشین کے 15 گولڈ میڈلز کا ریکارڈ ۔ ایم بی بی ایس کی اس طالبہ نے پندرہ گولڈ میڈلز اپنے نام کیے۔ جو تینوں سیشنز کی طالبات میں سے سب سے زیادہ تھے ۔ گورنر خیبر پختوں خواہ فیصل کریم کنڈی نے ان اعزازت سے نوازہ ۔
1
74
جدیدطبی ٹیکنالوجی، معیاری طبی تربیت اور جدید طریقہ علاج کے ذریعے ہسپتال میں نظامِ تنفس سے متعلق ہنگامی اور عمومی طبی سہولیات کو مزید مؤثر اور مستحکم بنایا جا رہا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو بین الاقوامی معیار کی صحت کی سہولیات میسر آ سکیں۔ #RespiratoryCareWeek2026
31
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے آئی سی یو، ایمرجنسی، نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈز اور پلمونری کیئر یونٹس میں خدمات انجام دینے والے ریسپائریٹری تھراپسٹس وینٹی لیٹر مینجمنٹ،ایئروے انٹرونشنز,دمہ و سی او پی ڈی جیسے دائمی امراض کے علاج میں بنیادی, کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں
77
جس میں مریضوں کی جان بچانے اور نگہداشت کے شعبے میں ریسپائریٹری تھراپسٹس اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی گراں قدر خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
78
میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے شعبہ ریسپائریٹری تھراپی و الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام عالمی "ریسپائریٹری کیئر ویک 2026" کے موقع پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا،
72
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ریسپائریٹری کیئر ویک کا انعقاد؛ شعبہِ تنفس کے ماہرین کی خدمات کو خراجِ تحسین.
50
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پی ایم او ایس سے نمٹنے کے لیے آگاہی، بروقت اسکریننگ اور گائناکالوجسٹ، اینڈوکرائنالوجسٹ اور ماہرینِ غذائیت پر مبنی مشترکہ طبی ٹیم کا طریقہ کار ناگزیر ہے.
73
ان کے مطابق بروقت تشخیص، طرزِ زندگی میں تبدیلی اور مناسب طبی نگہداشت سے ان میں سے بیشتر پیچیدگیوں سے بچا یا انہیں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ سیمینار میں دیگر ڈاکٹرز اور مقررین نے بھی اس مرض کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی، جبکہ شرکاء نے سوال و جواب کے سیشن میں بھرپور حصہ لیا۔
30
ایچ ایم سی کے گائنیBیونٹ کی انچارج پروفیسرڈاکٹر بشریٰ رؤف نے PMOSکی وجوہات،علامات اورعلاج پرروشنی ڈالی۔انہوں نےبتایاکہ یہ مرض ماہواری کی بےقاعدگی،چہرے پر کیل مہاسوں اورجلدکی تبدیلیوں،وزن میں اضافے، انسولین ریزسٹنس اوردل کے امراض کے بڑھتے ہوئےخطرات کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
48
انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ ابتدائی علامات کو نظر انداز نہ کریں اور بروقت مستند معالج سے رجوع کریں۔ انہوں نے ان غلط تصورات اور خاموشی کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو بہت سی خواتین کو علاج سے روکتے ہیں۔
79
جو سی ایم ای سے منظور شدہ تھا۔ پروفیسر شمشاد بیگم مہمانِ خصوصی تھیں۔ پروفیسر شمشاد بیگم نے کہا کہ پی ایم او ایس کو اب صرف ماہواری کی بے قاعدگی یا بانجھ پن کا مسئلہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ ایک پیچیدہ ہارمونی اور میٹابولک بیماری ہے جو پورے جسم پر اثر انداز ہوتی ہے۔
69
"بیانڈ دی اووریز،بیانڈدی مِتھس" کے عنوان سےہونے والے اس سیمینار کامقصد خواتین میں اس مرض کی بروقت پہچان اور درست علاج کے بارے میں شعوراجاگر کرنا تھا۔ سیمینارکا اہتمام فیمیل فزیشنز سوسائٹی پاکستان نے ایچ ایم سی اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (پی جی ایم آئی) کے تعاون سے کیا،
31