Faheemkhan retweeted
Spot on. Funding this regime means supporting the murder of peaceful protestors, the imprisonment of innocent civilians and the complete and utter disregard for democracy.
Speak out or forever regret being on the dark side of history.
@Ed_Miliband @andyburnham @realDonaldTrump
No one has seen or heard from my father since August, when he explicitly said that he was being tortured and that the regime was trying to kill him like Egypt’s government did Morsi. The UN Special Rapporteur on torture has repeatedly stated that his treatment amounts to torture. Pakistan’s fascist regime, led by military dictator Asim Munir, continue to ignore the Supreme Court order from August for my father to be assessed and treated at the private Shifa International Hospital, as well as for regular access to family visits and access to his lawyers. It is clear that they are trying to kill him as he is by far the most popular political figure in the country, and they fear him. If the worst happens, no one should make any mistake who is responsible. It is Asim Munir with the approval of the illegitimate Pakistani government. Every government that continues to legitimise this regime will be complicit in this and the resulting chaos and destabilisation it causes in the region. No state that is engaging in friendly relations with this fascist Pakistani regime can truly claim to uphold the values of democracy or human rights.
Faheemkhan retweeted
Follow Imran Khan’s son @SulaimanKNiazi , he has joined X (Twitter) to amplify voices speaking for his father.
#ReleaseImranKhan
Faheemkhan retweeted
سلیمان خان کا آفیشل اکاؤنٹ ۔
No one has seen or heard from my father since August, when he explicitly said that he was being tortured and that the regime was trying to kill him like Egypt’s government did Morsi. The UN Special Rapporteur on torture has repeatedly stated that his treatment amounts to torture. Pakistan’s fascist regime, led by military dictator Asim Munir, continue to ignore the Supreme Court order from August for my father to be assessed and treated at the private Shifa International Hospital, as well as for regular access to family visits and access to his lawyers. It is clear that they are trying to kill him as he is by far the most popular political figure in the country, and they fear him. If the worst happens, no one should make any mistake who is responsible. It is Asim Munir with the approval of the illegitimate Pakistani government. Every government that continues to legitimise this regime will be complicit in this and the resulting chaos and destabilisation it causes in the region. No state that is engaging in friendly relations with this fascist Pakistani regime can truly claim to uphold the values of democracy or human rights.
Faheemkhan retweeted
جیسے ہی عمران خان روس پہنچے بریگیڈئیر شفیق عرف گنجے شیطان نے صحافیوں کو کال کرکے عمران خان کے دورہ روس کی مذمت کرنے کا کہا ، مرزا شہزاد اکبر
کس کس تبصرہ پاڑ نے عمران خان کے دورہ روس کی مذمت کی تھی؟
Faheemkhan retweeted
حامد میر ڈاکٹر معید پیرزادہ کو اپنے شو میں لائیو لے لیں ، ایک گھنٹہ گفتگو کرلیں۔ ڈاکٹر معید کو اسرائیل کا ہمدرد بھی ثابت کرلیں ، فوج کا سابقہ تنخواہ دار بھی اور ساتھ ان جھوٹی افواہوں کی بھی کمر ٹوٹ جائے گی کہ پاکستانی نیوز چینلز کے اینکرز فوج کے تابعدار ہیں اور میڈیا آزاد نہیں ہے۔
Faheemkhan retweeted
“چوروں کی داڑھیوں میں تنکا ہوتا تھا
یہاں تو پورا جھاڑو ہے”
1/2
سلمان اکرم راجہ صاحب، آپ کا حالیہ بیان نہایت افسوس ناک، غیر ذمہ دارانہ اور پاکستان تحریک انصاف کے داخلی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پارٹی غیر معمولی سیاسی مشکلات سے دوچار ہے، اپنے ہی منتخب نمائندوں کے خلاف مبہم الزامات اور تضحیک آمیز زبان استعمال کرنا کسی ذمہ دار قیادت کو زیب نہیں دیتا۔
آپ نے ’’غیر جمہوری فیصلہ سازوں‘‘ اور ایک مبینہ گروپ کی سازش کا ذکر کیا ہے۔ پہلے یہ واضح کریں کہ یہ لوگ کون ہیں؟ کن اراکینِ اسمبلی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عمران خان اور سیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر یا آئندہ وزیراعلیٰ کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کے پاس شواہد ہیں تو نام سامنے لائیں۔ اسی طرح یہ سنگین الزام کہ کسی گروپ نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم سے رابطہ منقطع کرکے ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی، کس بنیاد پر لگایا جا رہا ہے؟
آپ تحقیقات کی بات کرتے ہیں۔ کون سی تحقیقات، کس کے حکم پر اور کس مجاز فورم کے تحت ہو رہی ہیں؟ اگر تحقیقات جاری ہیں تو پارٹی کو ان کا علم کیوں نہیں؟ جنید اکبر ہمارے بھائی اور صوبائی صدر ہیں، جن کی جلد بازیابی کے لیے ہم دعاگو ہیں۔ اگر ان کی غیر موجودگی میں علی اصغر خان کو قائم مقام صدر مقرر کیا گیا ہے تو اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن کہاں ہے اور یہ اختیار کس نے استعمال کیا؟
آپ شاید بھول رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا ہمیشہ عمران خان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ یہ وہ صوبہ ہے جہاں کے کارکنوں اور منتخب نمائندوں نے گرفتاریاں برداشت کیں، تشدد اور نو مئی کے بعد پیدا ہونے والی شدید مشکلات کا سامنا کیا، مگر اپنے قائد اور نظریے سے وابستگی نہیں چھوڑی۔ انہی لوگوں نے 2024 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اپنے مینڈیٹ کا دفاع کیا اور مشکل ترین حالات میں بھی پارٹی کا پرچم بلند رکھا۔
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی طویل سیاسی کامیابیوں اور مختلف ادوار میں اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کے پیچھے انہی وفادار کارکنوں اور نمائندوں کی برسوں کی جدوجہد ہے۔ انہی لوگوں نے عمران خان کی کال پر بار بار اسلام آباد کی جانب مارچ کیا، تین سے زائد مرتبہ غیر معمولی خطرات اور رکاوٹوں کا سامنا کیا۔ افسوس کہ ان مشکل مواقع پر بعض مرکزی ذمہ داران کا عملی کردار اور موجودگی وہ نہیں تھی جس کی کارکن توقع رکھتے تھے۔ اس کا حساب بھی پارٹی کے سامنے آنا چاہیے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران قیادت کے متعدد فیصلوں اور سیاسی حکمتِ عملی کے نتائج پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ ان فیصلوں کے اثرات صرف عمران خان اور جیلوں میں قید ہمارے ساتھیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ملک بھر کے کارکنوں نے بھی ان کی قیمت ادا کی ہے۔ آج پارٹی جس سنگین سیاسی اور تنظیمی بحران سے گزر رہی ہے، اس میں الزام تراشی کے بجائے قیادت کی کارکردگی، فیصلوں اور ذمہ داریوں کا شفاف جائزہ ضروری ہے۔
اگر خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اپنے اندر مشاورت کرکے موجودہ بحران کا کوئی آئینی اور سیاسی حل تلاش کرنا چاہتی ہے تو چند افراد کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ان منتخب نمائندوں کو غدار، سازشی یا غیر جمہوری قرار دیں؟
ایک بنیادی سوال کا جواب بھی دیجیے۔ جب قومی اسمبلی کے اراکین کے استعفوں کے معاملے پر یہ مؤقف اختیار کیا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی واضح ہدایت کے بغیر سیاسی کمیٹی یا کور کمیٹی کا فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا، تو خیبرپختونخوا کے اراکینِ اسمبلی کے لیے یہی اصول کیوں نہیں؟ اگر وہ کہتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات اور براہِ راست رہنمائی ممکن ہونے تک صوبے کے اہم سیاسی و پارلیمانی معاملات پر اپنی پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے، تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ ایک ہی جماعت میں ایک ہی اصول کا اطلاق سب پر یکساں کیوں نہیں ہونا چاہیے؟
آپ گزشتہ ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ ’’سانپوں اور سنپولیوں‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کر رہے ہیں۔ واضح کیجیے کہ ان الفاظ سے آپ کی مراد کون لوگ ہیں؟ اگر یہ اشارہ خیبرپختونخوا کے اراکینِ اسمبلی کی جانب ہے تو یہ ان لوگوں کی توہین ہے جنہوں نے بیس، پچیس برس عمران خان کے ساتھ سیاسی جدوجہد کی اور آج بھی تمام مشکلات کے باوجود پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ جماعت عمران خان کی ہے۔ ہمیں کسی سے وفاداری کے سرٹیفکیٹ درکار نہیں، اور نہ ہی کسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہماری سیاسی وفاداری پر فیصلے صادر کرے یا ہمیں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے۔ پارٹی سے وفاداری کا فیصلہ چند افراد کی پسند و ناپسند سے نہیں بلکہ برسوں کی جدوجہد، قربانیوں اور عملی کردار سے ہوتا ہے….
Continued
Faheemkhan retweeted
عمران خان جیل کے اندر ہو باہر ہو حکومت میں ہو یا جلاوطن ہماری جنگ یہ ہے کہ
فوج کی سیاست سے اور انتظامیہ سے مکمل بیدخلی
ماورائے عدالت قتل عام کا خاتمہ عدالتی نظام کی مضبوطی
ہر کسی کو مذہبی آزادی اور مذہب کی بنیاد پر تعصب کا خاتمہ
تعلیم اور صحت ترجیح ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ
وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مرد و خواتین کے لیے برابر مواقع
ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز کا خاتمہ مذاکرات امن اور ترقی
انصاف اور قانون ، جمہوریت اور آئین کی بالا دستی
بیوروکریسی اراکین پارلیمنٹ فوجی افسروں کی غیر ضروری مراعات کا خاتمہ
Faheemkhan retweeted
تحریک انصاف کو اسمبلیاں چھوڑ دینی چاہییں !!
سب سے پہلے تو یہ کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کسی قسم کی قانون سازی نہیں روک سکتی کسی بل کسی ترمیم کو نہیں بلاک کرسکتی۔ پھر دوسری بات یہ کہ جنید اکبر انکشاف کرچکے کہ ان اسمبلیوں میں محسن نقوی ، فارم سینتالیس اور دہشتگردی جیسے مسائل پر بولنے کی اجازت نہیں۔ یعنی یہاں آواز اٹھانا بھی ناممکن ہے۔ پھر یہ نشستیں مولانا نسیم علی شاہ اور جنید اکبر کا اغواء نہیں روک پائیں۔
پھر تحریک انصاف کی ان اسمبلیوں میں موجودگی کی وجہ سے فوج اس جعلی جمہوری سیٹ اپ کو دنیا کے سامنے حقیقی جمہوریت بنا کر پیش کررہی ہے۔پھر عمران خان کئی مرتبہ ماضی میں اسمبلیوں سے استعفے دے چکے قبل از وقت اسمبلیاں تحلیل کرچکے۔ یعنی یہ کوئی نئی روایت بھی نہیں۔ اب بھی جب عمران خان سے ملاقاتیں بحال ہوں گی عمران خان پہلا حکم ان اسمبلیوں سے علیحدگی کا دیں گے یہ بات تحریک انصاف کے ایک ایک رکن اسمبلی کو اچھی طرح معلوم ہے۔
تحریک انصاف اسمبلیاں چھوڑے گی تو یہ پورا نظام ننگا ہوگا اس جعلی جمہوریت کے کپڑے اتر جائیں گے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی فوج کو مجبوری ختم ہوگی یہ مکمل یئیں یئیں پارٹیاں رہ جائیں گی۔ پھر یہ آئینی ترامیم روکیں یا نہ روکیں ان کا مسئلہ۔ یہ تحریک ایک عوامی تحریک بننے کی راہ پر چل سکے گی۔ ان اسمبلیوں میں موجودگی کے باوجود اگر عمران خان گیارہ ماہ سے قید تنہائی میں ہے تو پھر یہاں بیٹھے رہنا عمران خان سے بھی غداری ہے۔
بجائے اس نظام کو ٹیک دیتے رہنے کی اسکی بیساکھیاں کھینچنی ہیں۔
Faheemkhan retweeted
اتنا بہادر لیڈر ہے,
جس کے ڈر پورا نظام لرز رہا ہے, نظام کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بھی, عمران خان سے ڈر اتنا ہے کہ اگلو کی نیندیں حرام ہے!!🔥
Faheemkhan retweeted
ایک اور لیک ہوگئی - عمران تاحیات قیدِ تنہائی میں رہے کی خواہش کہ پیچھے ملک کہ دو بڑے بڑے نامور طاقتور وکیل
Faheemkhan retweeted
دائیں دیکھیں ، بائیں دیکھیں ، اب اوپر دیکھیں ، اب نیچے دیکھیں ، اب ادھر میری طرف دیکھیں اور بتائیں کیا نور ایسا ہوتا ہے یا اللہ کا راز ایسا ہوتا ہے؟ یا اسلام کا قلعہ ایسا ہوتا ہے؟
آپ ایک بدنصیب تباہ حال ملک کے شہری ہیں جو قابضوں کے نرغے میں ہے۔ اس سے نہ کچھ زیادہ نہ کچھ کم۔جتنی جلدی سمجھ جائیں گے اتنی جلدی پلٹ جائیں گے۔
Faheemkhan retweeted
پختونخواہ میں ایک ایس ایچ او شہید ہوا ہے۔ آرمی چیف اور اس کا سالا اس کا جنازہ پڑھنے جائیں گے؟ کیونکہ سہیل آفریدی کو ہٹائے جانے کی ایک وجہ جنازے نہ پڑھنا بھی بتائی گئی۔
Faheemkhan retweeted
عمران خان کی بہنیں بھی سہیل آفریدی کے مارچ کی حمایت کررہی تھیں۔ اسی کی پاداش میں وہ بھی جیل اور قید تنہائی میں ہیں۔ ان کا کیا سٹیٹس ہے؟ کیا وہ بھی سہیل آفریدی کے سکرپٹڈ عسکری پلان میں شامل ہیں؟
Faheemkhan retweeted
جتنے بھی صحافی سہیل آفریدی وہاں ہے ، یہاں ہے ، اِدھر ہے ، اُدھر ہے کررہے ہیں سب کو فوج فیڈ کررہی ہے۔
Faheemkhan retweeted
نشر مکرر
کسی بھائی نے ایک دفعہ کسی پوسٹ پر رپلائی کیا تھا کہ نہتے نکلے تو سامنے بندوق آگئی۔ بندوق نکلی تو سامنے ٹینک آجائیں گے۔ ٹینک لے کر نکلے تو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے ماریں گے۔ نو مئی کو تین درجن لوگ شہید ہوئے۔ چھبیس نومبر کو درجن بھر کارکنان کی لاشیں ملیں اصل تعداد آج بھی معلوم نہیں ہوسکی ۔ اگر چند ہزار لوگ لیکر ایک بار پھر چند لاشیں مزید اٹھا کر واپس جانا ہے تو خدا کے لیے ماوں کی گودیں اجاڑنے کی تمنا بند کردیجیے۔
اس فوج نے مشرقی پاکستان میں ہزاروں لوگ مار دیے پھر جب اپنے ترانوے ہزار گھیرے میں آگئے تو پتلونیں چھوڑ کر بھاگے۔ بلوچستان میں سارا مسئلہ قبضے کا ہے۔ فوج ہزاروں لوگ مار چکی ہے ابھی تک سلسلہ جاری ہے لیکن فوج کورس کریکشن کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایک اور پوسٹ مشرقی پاکستان کے حوالے سے کی کہ پہلی دفعہ فوج نے گولی فروری 1952 میں چلائی۔ بنگلہ دیش آزاد 1971 میں ہوا۔ یعنی اگر انیس سال بعد بھی ہم آزادی لیں تو وہ کامیابی ہے۔ اس پر آپ میں سے بہت سوں نے اسے مایوسی پھیلانا قرار دیا۔
عسکری منرلز بل کے لیے تحریک انصاف کی آدھی قیادت تڑپ رہی ہے۔ کسان لٹ گیا ہے کسی نے اسکے لیے آواز نہیں اٹھائی۔ ڈاکٹرز نے احتجاج کیا تحریک انصاف ان کے ساتھ شامل نہیں ہوئی۔ گزشتہ برس اربوں روپے کے گندم سکینڈل پر تحریک انصاف کسانوں کو موبلائز نہیں کرپائی۔ پختونخواہ میں حکومت ہونے کے باوجود نہ کوئی قانون سازی ہوئی ، نہ رجیم چینج کے بعد سے مظالم میں ملوث لوگوں کے خلاف کاروائی ہوئی۔ الٹا کور کمانڈر ہاوس میں افطاریاں ہوئیں۔ کسی میٹنگ یا اجلاس کے بائیکاٹ کرنے تک کے اصولی فیصلے پر قیادت کی ایک بڑی تعداد کا منہ گول گپے جیسا ہوجاتا ہے۔
ہم نے قاتلوں سے آزادی لینی ہے ریہڑی سے نان چھولے نہیں لینے جو دس منٹ میں مل جائیں گے۔ اسکے لیے ایک طویل جدوجہد ، نظریاتی قیادت ، چھوٹی سے چھوٹی سطح پر موبلائزیشن اور لمبے چوڑے ویژن کی ضرورت ہے۔ اس کا احوال ایک مفصل پوسٹ میں تحریر کیا جاچکا۔ خلاصہ پیش خدمت ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں سے ماہانہ بنیادوں پر فنڈنگ جنریٹ کرنی ہوگی
شیڈو اوورسیز قیادت قائم کرنی ہوگی جو سخت اور کھلا موقف اپنا سکے
سالانہ یا ششماہی بنیادوں پر تحریک انصاف کے آن لائن انٹرا پارٹی انتخابات کروانے ہوں گے تاکہ لوگ انگیج رہیں
چھوٹے چھوٹے عوامی مسائل پر عوام کو تھوڑا تھوڑا موبلائز کرنا ہوگا
عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی پر پختونخواہ حکومت کو عدم تعاون تحریک کا اعلان کرنا ہوگا
سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کے سبھی اجلاسوں کا ویڈیو لنک سوشل میڈیا پر لائیو چلانا ہوگا تاکہ عوام کو دکھائی دے کیا ہورہا ہے اور کیا کیا جارہا ہے
سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو حقیقی معنوں میں انفلوئنسر بننا ہوگا اپنے اپنے بھگوان کا پالشیا نہیں
ایکس / فیس بک / ٹک ٹاک یہ سب سے بڑے ہتھیار ہیں ان کے ذریعے عوام تک لٹریچر ویڈیوز گرافکس اور پوسٹس کے ذریعے لگاتار جنریٹ کرنا ہوگا اور ہر پلیٹ فارم کی آڈینس کے حساب سے ڈیٹا تیار کرنا ہوگا
بار کے سبھی الیکشنز میں وکلاء کی حمایت کے بدلے تحریری مطالبات منظور کروانا ہوں گے۔ جیسے کہ حمایت یافتہ کامیاب امیدوار لاپتہ افراد کے کیسز میں خود پیش ہوتا رہے
ہم نے خود کو ایک طویل جنگ کے لیے تیار کرنا ہے۔ ہماری لڑائی اس سوچ سے ہے جو عوام کا مینڈیٹ چھینتی ہے۔ کسی ایک جرنیل سے ہرگز نہیں۔ جب تک یہ سوچ ختم نہیں ہوگی لڑائی جاری رہے گی۔













