Pinned Tweet
سپریم کورٹ کے معروف وکیل بابر ستار کا آج کا یہ کالم پڑھ کر آپ کو سمجھ آجائیگی کہ نوازشریف کیخلاف فیصلہ میں کیا لکھا ھے، اور کتنا غلط اور غیر قانونی فیصلہ دیا گیا ھے۔
@Babar_Sattar
@MurtazaViews
@shazbkhanzdaGEO
@HamidMirPAK
@MoeedNj
@AajKamranKhan
@FrontlineKamran
Ammar BUTT retweeted
Former Manchester City manager Pep Guardiola has urged the world not to forget Palestinians in Gaza.
In a video with the UN agency for Palestinian refugees, UNRWA, he condemns the dehumanisation of victims and the suffering of children.
Pep Guardiola sends message of solidarity to Gaza
More on Aljazeera.com
Ammar BUTT retweeted
اس لڑکے کا نام کاشف علی ہے اور والد کا نام سلیم ہے۔
والدہ زہرہ بتول ۔۔دو بھائی حسن اور ریحان ہیں۔
رہائش قائد آباد کراچی کا بتاتا ہے۔ کم عمری میں گم ہوا تھا۔
گھر کے پاس بڑی مسجد تھی زرد رنگ کا گیٹ تھا۔
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
18 oct 2026
#waliullahmaroof
Ammar BUTT retweeted
مولانا فضل الرحمن تمام تر تجربہ رکھنے کے باوجود اپنی حاليہ گفتگو ميں يہ تعين کرنے سے قاصر نظر آئے کہ وہ اپنی سر زمين کے ساتھ ہيں ياذاتی مفاد کی سياست انہيں لکير کے اس پار لے گئ جہاں امن پر دھشتگردی قوم پر ہجوم،سياست پر انتشار اور حب الوطنی پر ذاتی مفاد حاوی ہو جاتےہيں
Ammar BUTT retweeted
مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ میرا ذاتی تعلق عزت و احترام پر مبنی ہے اور میں ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتا ہوں۔ تاہم، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے، خصوصاً دہشت گردی، قومی سلامتی اور قومی و عسکری قیادت کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے وقت زمینی حقائق، ریاست کو درپیش چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مسلمہ حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتے رہے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ وہ اس حساس قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی ملحوظ رکھیں گے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور عملی عزم کو سامنے رکھنا چاہیے۔
بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اہم مثال ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، اہم فیصلوں اور متعلقہ معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر اس طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی اسمبلی میں حالیہ تقریر بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ یہ سیاسی ہم آہنگی اس بات کا اظہار ہے کہ بلوچستان میں امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات یا سیاسی دعوؤں کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے اور اس جنگ میں پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین کی جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔
مولانا فضل الرحمٰن سینئر سیاست دان ہیں اور ان کی جماعت دہشت گردی کے باعث خود بھی جانی و سیاسی نقصانات برداشت کر چکی ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کیا ہیں، سیاسی قیادت کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کی صورت حال کیا ہے۔ دہشت گردی کے معاملے پر غیر واضح مؤقف یا حقائق سے صرفِ نظر قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اسی لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافِ رائے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، لیکن قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے معاملات پر اتفاقِ رائے اور تعاون ناگزیر ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور اس کے سیاسی و انتظامی نتائج پر بحث ہو یا بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، ہر معاملے میں حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کو معیار بنانا چاہیے۔
سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید جمہوری حق ہے، تاہم دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ریاست کو درپیش چیلنجز، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ میرا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔ قومی یکجہتی، سیاسی قیادت کی ذمہ دارانہ گفتگو، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون اور زمینی حقائق کی بنیاد پر مؤقف اختیار کرنا ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت دی جا سکتی ہے۔
قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے!
Ammar BUTT retweeted
پانچ ہزار معدنیات کے لائسنس خیبرپختونخوا کی حکومت نے ایشو کیے ہیں جی ایچ کیو یا فیڈرل حکومت نے ایشو نہیں کیے
کتنے پختونوں کتنے قبائلیوں کتنے افغانیوں کے نام ہیں سامنے لائیں ہمت کریں
Ammar BUTT retweeted
خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کی حقیقت (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق):
قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس/ٹائٹلز جاری ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ 2020 تک 1,762، فروری 2024 تک 3,962، اور موجودہ وقت میں کل 4,917 مائننگ لائسنسز جاری ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 4,133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں
اس پورے عرصے میں عسکری ادارے FWO کو صرف ایک لائسنس ملا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں دیا گیا تھا، جہاں FWO تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا
اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے
مختصر یہ کہ معدنیات کے لائسنسز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی دورِ حکومت میں جاری ہوئی، جبکہ عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست حصہ سرے سے تھا ہی نہیں.
Ammar BUTT retweeted
میں فیصل آباد کی EN DEE TEXTILE INDUSTRIES، چک نمبر 7 جے بی، سیم نالہ، سمال انڈسٹریل اسٹیٹ روڈ، فیصل آباد میں کام کرتا تھا۔ دورانِ ڈیوٹی میرا ہاتھ مشین کے پنکھے میں آ گیا، جس سے دو رگیں کٹ گئیں اور آخری دو انگلیوں کے پٹھے متاثر ہوئے۔ الائیڈ ہسپتال میں صرف ٹانکے لگوا کر واپس لے آئے، جبکہ ضروری معائنہ اور مکمل علاج نہیں کروایا گیا۔
مالکان نے وعدہ کیا تھا کہ صحت یاب ہونے تک تنخواہ، میڈیکل اخراجات اور معاوضہ دیں گے، مگر صرف پندرہ دن کی تنخواہ دی، جس میں میرے کام کیے ہوئے دن بھی شامل تھے۔ ٹانکے کھلنے کے بعد مجھے کام پر بلایا گیا، ہاتھ کی حالت مزید خراب ہوئی اور انگلیوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ انچارج کے کہنے پر ہسپتال جانے کا کہا تو اگلے دن میرا گیٹ بند کر دیا گیا۔ اب نہ تنخواہ مل رہی ہے، نہ میڈیکل اخراجات اور نہ ہی آپریشن اور چھٹیوں کے پیسے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ براہِ کرم میری مدد کریں اور مجھے انصاف دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین۔
@MaryamNSharif
@ZeshanMalick
@CMComplaintCell
@MaryamkoBatayn
@DCFaisalabad
Ammar BUTT retweeted
مولانا فضل الرحمٰن جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔ نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے۔
جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا میں نااہلی کے انبار لگا دیے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا۔ صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیے۔
جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔
پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ ہر روز کسی ماں کا لختِ جگر، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا شوہر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آتا ہے۔ان شہیدوں کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔
آپ کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں، آپ کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں۔ اور جن کی حمایت میں آج آپ کھڑے ہیں، کل یہی آپ کے بارے میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔
خیبر پختون خواہ میں میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اور کوئی نہیں تحریک انصاف خود ہے۔
Ammar BUTT retweeted
’’فوج معدنیات پر قبضہ چاہتی ہے‘‘ کا بیانیہ اصل میں PTIکا جھوٹا پراپیگنڈہ ہے۔KPمیں 5 ہزار سے زائد معدنی لائسنس خود صوبائی حکومت جاری کر چکی، الاٹمنٹ میں فوج کا کوئی کردار نہیں۔ مولانا صاحب PTIکے اس پروپیگنڈے کامقصدمعدنیات نہیں عوام کو فوج اور ریاست کے خلاف بھڑکانا ہے۔👇👇
Ammar BUTT retweeted
یہ بچہ کس کا ہے؟
اپنا نام اور پتہ بتانے سے قاصر ہے 13 اکتوبر 2026 کو داتا دربار لاہور پر کسی مسافر سے بچھڑ گیا ہے
اگر آپ اس کو جانتے ہیں تو میرا پیارا کو 03090000015 پر اطلاع دیں
case Id 412130961
Ammar BUTT retweeted
صادق ایجرٹن کالج بہاولپور اپنی ڈیڑھ سو سالہ تقریبات کا انعقاد کررھا ھے،کالج کا اس سلسلے میں کوئی بجٹ نہیں،لیکن طلبا،اساتذہ اس قدیم تعلیمی درس گاہ کے ڈیڑھ سو سال کو تین روزہ تقریبات کی شکل میں منانا چاھتی ھے۔اس تقریبات کے لئے شہر اور شہر سے باھر کاروباری حضرات اپنی تشہیر کرسکتے ھیں اور تقریبات کے لئے کچھ تعاون کرسکتے ھیں۔اس کے علاوہ کالج سے شہر کی بڑی شخصیات تعاون کرسکتی ھیں۔
Ammar BUTT retweeted
Notification issued by Pakistan Foreign Office..
A great move to faciliate overseas Pakistanis and intended travellers who want to get their document attested..
There was corruption worth billions in this area and people were gravely suffering before this automation.
آج وزرات خارجہ کے کرپٹ مافیا میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔۔اربوں کی کرپشن کا راستہ بند۔
وزرات خارجہ نے تصدیق کا نظام ڈیجٹل کرکے بہت اچھا کر دیا۔
Good job @MIshaqDar50 sb..
Ammar BUTT retweeted
یہ دو معصوم بچے کس کے ہیں ؟
7 اکتوبر ، 2026 کو مل بازار ، ہربنس پورہ سے لاوارث ملے تھے
اگر آپ ان کو جانتے ہیں تو میرا پیارا کو 03090000015 پر رابطہ کریں
case ID 407957141
#MissingChild #merapyara
Ammar BUTT retweeted
کسی کے لیے رقم کی معمولی مقدار شاید زیادہ اہمیت نہ رکھتی ہو، لیکن کسی دوسرے کے لیے وہی پیسے برسوں کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ڈاکوؤں کی مبینہ واردات میں ایک شہری کی جمع پونجی چھن جانے پر وہ جذباتی ہو گیا اور رو پڑا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر شہریوں کے تحفظ اور اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے۔
Ammar BUTT retweeted
ریاض ائیرپورٹ پر دہشتگردوں کے حملوں بعد سلسلہ مجوسیہ حوثیہ دہشتگردیہ نے بیانیہ چلایا تھا کہ سعودی ولی عہد زیر زمین بنکر میں چھپ گئے ہیں حالانکہ حملوں کے دوران اور بعد میں محمد بن سلمان بہادر سپہ سالار کی طرح میدان میں ہیں
محمد بن سلمان تینوں رب دیاں رکھاں
Ammar BUTT retweeted
آج وزرات خارجہ کے کرپٹ مافیا میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔۔اربوں کی کرپشن کا راستہ بند۔
وزرات خارجہ نے تصدیق کا نظام ڈیجٹل کرکے بہت اچھا کر دیا۔
Good job @MIshaqDar50 sb..
Ammar BUTT retweeted
یہ ننھی سی بچی، جس کا نام #عائلہ دختر عاصم کس کی ہے ؟
8 فروری 2022 کو یکی گیٹ، لاہور سے لاوارث حالت میں ملی تھی۔ عائلہ اپنی شناخت اور اپنے گھر کا پتہ بتانے سے مکمل طور پر قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے تاحال ورثاء کا کچھ پتہ نہٰن چل سکا
اگر آپ عائلہ کو جانتے ہیں یا اس کے اہلِ خانہ کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں تو براہ کرم فوری طور پر سیف سٹی میرا پیارا ٹیم کو اطلاع دیں۔ آپ کی ایک چھوٹی سی مدد عائلہ کی زندگی بدل سکتی ہے اور اسے اس کے پیاروں کے قریب لے جا سکتی ہے۔
یہ کہانی صرف عائلہ کی نہیں، بلکہ ان بے شمار لاوارث بچوں کی ہے جو اپنی پہچان، محبت اور تحفظ کی تلاش میں ہیں۔ ہمیں سب کو مل کر اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہوگا تاکہ عائلہ کے رشتہ دار یا والدین اس تک پہنچ سکیں۔
Contact:03090000015
Case id:136758666
Ammar BUTT retweeted
ایک بھائی جو معذور ھیں ان کو کچھ ضروری میڈیکل ٹیسٹ کروانے ھیں ان کے مالی حالات بہت خراب ھیں ،اگر کوئی بھائی ان کی امداد کرسکیں تو اللہ بہترین اجر عطافرمائے گا۔جزاک اللہ خیر
Ammar BUTT retweeted
اہم الرٹ ‼️‼️‼️
باڑہ، خیبر میں شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز، 50 سے زائد ملزمان گرفتار، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت 4 مقدمات درج
باڑہ، خیبر میں بدامنی اور توڑ پھوڑ میں ملوث 50 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت 4 مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں
پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے آج رات مزید چھاپے مارے جائیں گے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا چکے ہیں
Ammar BUTT retweeted
عوام بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھریں، باڑہ میں صورتحال مکمل قابو میں ہے۔
باڑہ میں کسی پولیس اہلکار کے اغواء کی خبر بے بنیاد ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بدامنی پھیلانے والے تقریباً 50 شرپسند عناصر کو گرفتار کر لیا ہے۔
سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔























