Los Angeles, CA
Joined June 2015
Patwario ka Hakeem retweeted
ہر صبح کراچی کے ساحلی گاؤں رہڑی گوٹھ میں ایک عورت اپنی ہلکی کشتی سر پر اٹھاتی ۔۔ ساحل تک لے جاتی ۔۔ پانی میں اتارتی اور اکیلی سمندر کی طرف نکل جاتی تھی۔ 2023 میں جب دنیا نے حکیمہ عمر کی کہانی سنی تو ان کی عمر 63 برس تھی۔ چھ بچوں کی ماں، بیمار شوہر کی شریکِ حیات اور کئی دہائیوں سے اپنے گھر کی واحد کفیل۔ حکیمہ کا یہ سفر کسی شوقیہ adventure سے شروع نہیں ہوا تھا۔ تقریباً تیس سال پہلے ان کے شوہر عمر ہارون گردوں کی شدید بیماری میں مبتلا ہوگئے۔ گھر میں چھ بچے تھے، آمدنی رک گئی اور چولہا جلانے کی ذمہ داری حکیمہ کے کندھوں پر آگئی۔ وہ گھر کے کسی کونے میں بیٹھ کر مدد کا انتظار کرسکتی تھیں۔ مگر وہ اٹھیں، جال سنبھالا اور سمندر کی طرف چل پڑیں۔ تب سے تقریباً چار دہائیوں تک ان کی صبح اسی طرح شروع ہوتی رہی۔ کشتی سر پر، ہاتھ میں جال اور سامنے سمندر۔ وہ کئی میل اندر جاکر جال پھینکتیں، مچھلیاں اور کیکڑے پکڑتیں، کچھ بازار میں فروخت کرتیں اور کچھ گھر لے آتیں۔ اچھے دن میں تقریباً ڈھائی ہزار روپے تک منافع ہوجاتا تھا اور خراب دن میں شاید صرف گھر کے لیے چند مچھلیاں۔ حکیمہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر وہ سمندر میں جاکر مچھلی نہ پکڑیں تو گھر میں صرف سادہ روٹی کھانی پڑتی ہے۔ ان کے بچے کہتے تھے اب آپ بوڑھی ہوگئی ہیں گھر میں آرام کریں۔ مگر حکیمہ کے لیے سمندر صرف روزگار نہیں تھا زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ بارش ہو، طوفان آئے یا پانی چڑھ جائے وہ پھر بھی مچھلی پکڑنے کا کوئی راستہ تلاش کرلیں گی۔ کئی مرتبہ ان کی چھوٹی کشتی الٹ گئی۔ وہ پانی میں گریں اور کسی مدد کے بغیر تیر کر دوبارہ کشتی تک پہنچیں۔ دور سے گزرتے بڑے جہازوں کی لہریں ان کی معمولی سی کشتی کو ہلا دیتیں۔ وہ کنارے کی طرف واپس آتیں، لہروں کے پرسکون ہونے کا انتظار کرتیں اور پھر گہرے پانی کی طرف نکل جاتیں۔ لیکن حکیمہ کی لڑائی صرف سمندر کی لہروں سے نہیں تھی۔ کراچی کی بندرگاہوں سے آنے والا تیل، untreated waste اور آلودگی ساحلی حیات کو مسلسل نقصان پہنچا رہے تھے۔ کبھی مچھلیاں گھر کے قریب کم گہرے پانی میں مل جاتی تھیں ۔۔ اب حکیمہ کو وہی جال بھرنے کے لیے کئی میل دور جانا پڑتا تھا۔ ان کے شوہر ہنستے ہوئے کہتے تھے: پہلے میں گھر کا کفیل اور یہ گھریلو عورت تھیں اب میں گھر سنبھالتا ہوں اور یہ کماتی ہیں۔ یہ ایک ہلکا سا جملہ تھا مگر اس کے پیچھے ایک عورت کی تیس سالہ جدوجہد چھپی تھی۔ ان کے پاس کوئی بڑی کشتی، جدید مشین یا محفوظ ملازمت بھی نہیں تھی۔ حکیمہ کے پاس صرف دو ہاتھ، ایک جال، چھوٹی سی کشتی اور ہار نہ ماننے کی ضد تھی۔ ہم اکثر بااختیار عورت کی تصویر کسی بڑے عہدے، مہنگے لباس یا کامیاب کاروبار میں تلاش کرتے ہیں۔ مگر بااختیار عورت کبھی وہ بھی ہوتی ہے جو 63 برس کی عمر میں کشتی سر پر اٹھائے، بیمار شوہر اور چھ بچوں کے لیے سمندر سے رزق نکال لاتی ہے۔ کراچی نے حکیمہ کو شاید کبھی کوئی تمغہ نہ دیا ہو۔ مگر جس عورت نے تیس سال تک لہروں، غربت، آلودگی اور بڑھتی عمر کو شکست دے کر اپنا گھر سنبھالا وہ اپنے خاندان کی صرف کفیل نہیں تھی۔ وہ اس گھر کی پوری بندرگاہ تھی۔ یہ تحریر کاپی شدہ ہے۔
4
17
99
3,326
Patwario ka Hakeem retweeted
*دنیا کے 50 جعلی ملک:1 جن کا ایک ووٹ امریکہ اور چین کروڑوں میں خریدتے ہیں* *(وہ 50 ممالک جن کے متعلق آپ کو سکول میں نہیں پڑھایا گیا مگر ان کے بغیر دنیا کی سیاست نہیں چلتی)* ہم سب نے سکول میں دنیا کے 7 براعظم اور 195 ملک پڑھے۔ لیکن استاد نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ ان 195 میں سے 50 ایسے ملک ہیں جن کی کل آبادی لاہور کے ایک محلے جتنی بھی نہیں، اور جن کا رقبہ اسلام آباد سے بھی چھوٹا ہے۔ پھر بھی یہ اقوام متحدہ میں بیٹھے ہیں، ان کا جھنڈا ہے، وزیراعظم ہے، اور ان کا ایک ووٹ امریکہ، چین اور روس کروڑوں ڈالر میں خریدتے ہیں۔ یہ مضمون انہی کرائے کے ملکوں کی کہانی ہے۔ *یہ 50 ملک ہیں کون؟* یہ تین جگہوں پر بکھرے ہوئے ہیں۔ پہلا گروہ: پہلا گروہ کیریبین کا ہے۔ آپ نے ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کا نام سنا ہوگا، یہ دراصل کوئی ایک ملک نہیں۔ یہ 15 الگ الگ ملکوں کا جتھہ ہے۔ جیسے سینٹ کٹس اینڈ نیوس (رقبہ 261 کلومیٹر، آبادی 53 ہزار)، انٹیگوا و باربوڈا (رقبہ 440 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ)، ڈومینیکا (رقبہ 750 کلومیٹر، آبادی 72 ہزار)، سینٹ لوشیا (رقبہ 616 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 80 ہزار)، گریناڈا (رقبہ 344 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 12 ہزار)۔ دوسرا گروہ: دوسرا گروہ بحرالکاہل کا ہے، جہاں دنیا کے سب سے چھوٹے ملک ہیں۔ ناورو (رقبہ صرف 21 کلومیٹر، آبادی 12 ہزار)، تووالو (رقبہ 26 کلومیٹر، آبادی 11 ہزار)، پالاؤ (رقبہ 466 کلومیٹر، آبادی 18 ہزار)، مارشل آئی لینڈ (رقبہ 181 کلومیٹر، آبادی 42 ہزار)، مائیکرونیشیا (رقبہ 702 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 15 ہزار)۔ تیسرا گروہ: تیسرا گروہ یورپ کے اندر ہے۔ ویٹیکن سٹی (رقبہ 0.44 کلومیٹر، آبادی 800 افراد)، موناکو (رقبہ 2 کلومیٹر، آبادی 39 ہزار)، لیختنسٹائن (رقبہ 160 کلومیٹر، آبادی 38 ہزار)، سان مارینو (رقبہ 61 کلومیٹر، آبادی 33 ہزار)، انڈورا (رقبہ 468 کلومیٹر، آبادی 77 ہزار)۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے زندہ ہیں؟ ان کے پاس فوج نہیں، زراعت نہیں، صنعت نہیں۔ *یہ ختم کیوں نہیں ہوتے؟ اس ظالم دنیا نے انہیں کیوں زندہ رکھا ہوا ہے؟* 1945 سے پہلے دنیا کا قانون تھا کہ جو طاقتور ہے وہ کمزور کو کھا جائے گا۔ لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد نیا قانون بنا کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک کی سرحد ختم نہیں کرے گا۔ اس ایک قانون نے ان 50 ملکوں کو ہمیشہ کی زندگی دے دی۔ اب ان کو ختم کرنا بہت مہنگا اور زندہ رکھنا بہت سستا ہے۔ ان کو زندہ رکھنے کی چار بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ، یہ بڑی طاقتوں کے لیے ٹیکس چوری کا بینک ہیں۔ آپ نے کیمن آئی لینڈ (رقبہ 264 کلومیٹر، آبادی 68 ہزار) کا نام سنا ہوگا۔ یہ برطانیہ کی کالونی ہے۔ دنیا کی 100 بڑی کمپنیوں میں سے 90 کا دفتر یہاں کاغذ پر موجود ہے۔ دنیا کا تقریباً 2 ہزار ارب ڈالر کا کالا پیسہ یہیں پڑا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کبھی نہیں چاہیں گے یہ جزیرے ختم ہوں۔ دوسری وجہ، یہ سیاحت کے ہوٹل ہیں۔ انٹیگوا میں 365 ساحل ہیں۔ ہر ساحل پر امریکی اور برطانوی سیاح آتے ہیں۔ ایک لاکھ کی آبادی والے ملک میں ہر سال 10 لاکھ سیاح آتے ہیں۔ اگر یہاں بدامنی ہوئی تو امریکی سیاحت کی انڈسٹری کو نقصان ہوگا۔ اس لیے امریکہ خود ان کی حفاظت کرتا ہے۔ تیسری وجہ، یہ پاسپورٹ کی دکان ہیں۔ ان میں سے اکثر ملک اپنا پاسپورٹ بیچتے ہیں۔ 2 لاکھ ڈالر دو اور سینٹ کٹس یا انٹیگوا کا پاسپورٹ لو، جس پر 150 ملکوں میں بغیر ویزے جا سکتے ہو۔ یہ کاروبار ہر سال ان چھوٹے ملکوں کو 500 ملین ڈالر سے زیادہ دیتا ہے۔ اور چوتھی اور سب سے اہم وجہ، جو ہمارے عنوان کی اصل ہے، وہ ہے ووٹ۔ جعلی ممالک کو امریکہ، یورپ، آسٹریلیا نے قائم کیوں رکھا ہوا ہے اور یہ اپنا جھنڈا کیسے بیچتے ہیں؟: ان 50 ملکوں کے زندہ رہنے کی دو قیمتیں ہیں، ایک جھنڈا اور دوسرا ووٹ، اور دونوں ہی بڑی طاقتوں کے لیے سستا سودا ہے۔ پہلا سودا جھنڈے کا ہے جسے Flag of Convenience کہتے ہیں۔ فرض کریں آپ یورپ کے ایک بڑے بحری جہاز کے مالک ہیں۔ اگر آپ اپنے جہاز پر جرمنی یا فرانس کا جھنڈا لگائیں گے تو آپ کو یورپ کا بھاری ٹیکس، مہنگے یورپی ملازم اور سخت قانون برداشت کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر آپ اسی جہاز پر پاناما (رقبہ 75 ہزار کلومیٹر، آبادی 44 لاکھ)، لائبیریا (رقبہ 1 لاکھ 11 ہزار کلومیٹر، آبادی 53 لاکھ) یا مارشل آئی لینڈ (رقبہ 181 کلومیٹر، آبادی 42 ہزار) کا جھنڈا لگا لیں تو نہ ٹیکس دینا پڑے گا نہ کوئی پوچھے گا۔ اسی لیے آج دنیا کے 70 فیصد تجارتی جہازوں پر ان چھوٹے ملکوں کا جھنڈا لہراتا ہے۔ یہ ملک ہر جہاز سے سالانہ 10 سے 20 ہزار ڈالر فیس لے کر اپنی حکومت چلاتے ہیں، اور امریکہ و یورپ کی کمپنیاں اسی سے اربوں کا ٹیکس بچاتی ہیں۔ دوسرا اور اس سے بھی بڑا سودا اقوام متحدہ میں ووٹ کا ہے۔ جاری
5
105
2
309
26,252
Patwario ka Hakeem retweeted
دنیا کے پچاس جعلی ملک۔ 2 وہاں امریکہ کی 34 کروڑ آبادی کا بھی ایک ووٹ ہے اور ناورو (رقبہ 21 کلومیٹر، آبادی 12 ہزار) کا بھی ایک ووٹ ہے۔ تو 20 چھوٹے ملک خرید لو تو 20 بڑے ملکوں کے برابر طاقت مل جاتی ہے۔ اسی لیے چین، امریکہ اور آسٹریلیا انہیں سالانہ 50 سے 100 ملین ڈالر کی امداد، ایک اسٹیڈیم یا ایک سڑک دے کر ان کا ووٹ خرید لیتے ہیں۔ اب حساب لگائیں، ان پر قبضہ کرنے کا مطلب ہے وہاں فوج رکھنا، انتظامیہ چلانا، اقوام متحدہ میں بدنامی لینا جس کا خرچہ اربوں ڈالر ہے۔ جبکہ انہیں آزاد رکھ کر ان کا جھنڈا اور ووٹ کرائے پر لینے کا خرچہ صرف چند کروڑ ڈالر ہے۔ اسی لیے اس ظالم دنیا نے ہوشیاری سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انہیں ختم کرنا مہنگا ہے، زندہ رکھنا سستا ہے۔ *ایک ووٹ کی منڈی کیسے لگتی ہے؟* اقوام متحدہ میں ایک عجیب جمہوریت ہے۔ امریکہ کی آبادی 34 کروڑ ہے، اس کا ووٹ ایک۔ اور ناورو کی آبادی 12 ہزار ہے، اس کا ووٹ بھی ایک۔ یعنی 20 چھوٹے جزیرہ ممالک مل جائیں تو وہ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور جاپان جیسے 20 بڑے ملکوں کے ووٹوں کے برابر ہو گئے۔ اب یہاں منڈی لگتی ہے۔ کہانی نمبر 1: چین بمقابلہ تائیوان تائیوان چاہتا ہے دنیا اسے ملک مانے، چین کہتا ہے کوئی نہ مانے۔ دونوں ان چھوٹے ملکوں کے پاس جاتے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں چین نے وانواتو (رقبہ 12 ہزار کلومیٹر، آبادی 3 لاکھ)، سولومن آئی لینڈ (رقبہ 28 ہزار کلومیٹر، آبادی 7 لاکھ) اور کیریباتی (رقبہ 811 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 20 ہزار) کو اربوں ڈالر کی سڑکیں اور پارلیمنٹ بنا کر دی، اور انہوں نے بدلے میں تائیوان کو چھوڑ کر چین کو اپنا باپ مان لیا۔ تائیوان کے پاس اب صرف 12 ملک رہ گئے ہیں جن میں سے 5 اسی 50 کی فہرست میں سے ہیں۔ کہانی نمبر 2: امریکہ اور اسرائیل جب اقوام متحدہ میں فلسطین پر ووٹ ہوتا ہے تو پوری دنیا فلسطین کے حق میں ووٹ دیتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حق میں صرف 8 یا 9 ووٹ آتے ہیں۔ ان 9 میں ہمیشہ مائیکرونیشیا، مارشل آئی لینڈ، پالاؤ، ناورو جیسے ملک ہوتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا سارا بجٹ ہی امریکی امداد پر چلتا ہے۔ امریکہ ان کو سال کا 100 ملین ڈالر دیتا ہے اور بدلے میں ان کا ووٹ لے لیتا ہے۔ کہانی نمبر 3: موسمیاتی تبدیلی کا ڈرامہ تووالو اور مالدیپ (رقبہ 300 کلومیٹر، آبادی 5 لاکھ) جیسے ملک کہتے ہیں ہم سمندر میں ڈوب رہے ہیں۔ یورپ کہتا ہے ہم تمہیں بچانے کے لیے فنڈ دیں گے، لیکن تم ہمارے حق میں ووٹ دو۔ تو یہ جمہوریت نہیں، یہ منڈی ہے۔ پاکستان میں ایک برادری کا ووٹ 5 ہزار میں بکتا ہے، عالمی سطح پر ایک ملک کا ووٹ ایک اسٹیڈیم یا ایک سڑک کے بدلے بکتا ہے۔ *آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ ملک بے وقوف ہیں؟* نہیں، یہ بہت ہوشیار ہیں۔ ان کے حکمران جانتے ہیں کہ ان کے پاس نہ تیل ہے نہ فوج۔ ان کے پاس صرف تین چیزیں ہیں، اپنا جھنڈا، اپنا ساحل، اور اقوام متحدہ میں اپنی کرسی۔ وہ اسی کرسی کو بیچ کر 100 سال سے زندہ ہیں۔ انہیں ختم کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہ ختم ہو گئے تو امریکہ اور چین اپنے سستے ووٹ کہاں سے خریدیں گے، یورپ کے ارب پتی اپنا پیسہ کہاں چھپائیں گے، اور دنیا کے سیاح سردیوں میں سستے ساحل پر کہاں جائیں گے؟ اس لیے یہ 50 جعلی ملک، اصل دنیا کی سیاست کے سب سے اصلی ستون ہیں۔ بالکل اسی طرح ہمارے ملک چھوٹی چھوٹی جعلی و مصنوعی، نا اہل قیادتیں پیدا کی جاتی ہیں، ان کی تانگہ پارٹیاں رجسٹرڈ کروائی جاتی ہیں، نہ ان کا کوئی تنظیمی اسٹرکچر ہوتا ہے، نہ کوئی قومی خدمت۔ مگر ان کو اتحادوں کے جوڑ توڑ کی سیاست کیلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آخر میں نعرہ لگتا 9 ستاہ، 18 ستارہ اتحاد ۔۔ اس اتحاد کی بدولت ان کو ایک ایک، دو دو سیٹیں پارلیمینٹ میں دے دی جاتی ہیں اور جوڑ توڑ کی سیاست جاری رہتی ہے۔۔ 😂 *اور ہمارا پاکستان اس سے کیا سیکھے؟* یہ 50 جعلی ملک ہم پاکستانیوں کے لیے آئینہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں ایک چھوٹا جزیرہ اپنا جھنڈا اور ووٹ بیچ کر اپنی عوام کو پالتا ہے، اور یہاں ہماری بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اپنا جھنڈا اور اپنا ووٹ بیچ کر اپنی جیبیں بھرتی ہیں۔ ناورو (12 ہزار آبادی) جیسا ملک جب امریکہ سے 100 ملین ڈالر لیتا ہے تو وہ اپنے ہر شہری کے لیے اسکول اور ہسپتال بناتا ہے، جبکہ ہمارے یہاں اربوں ڈالر کی امداد، IMF کے قرضے اور بیرونی آقاؤں کی حمایت کا سودا صرف اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایک چھوٹے جزیرے کے ووٹ کی بھی قیمت ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کے مفاد میں بکتا ہے، لیکن ہمارے پارلیمنٹ میں ہمارے اپنے نمائندے کا ووٹ جس دن بکتا ہے اس دن وہ ملک کے نہیں، لندن، دبئی یا واشنگٹن میں بیٹھے آقاؤں کے مفاد میں بکتا ہے۔ اس لیے وہ 50 ملک جنہیں ہم جعلی کہہ رہے ہیں وہ کم از کم اپنے کرائے سے زندہ تو ہیں، ختم شد
2
12
25
2,945
محترم آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟ ہمارے ملک کے حالات اور اخلاقیات کے حساب سے یہ کم از 90 فیصد سچ ہے یہاں لوگ جائیداد کے لیے اپنے والد کو مروا دیتے ہیں قاتل سے ڈیل کر کے کہ اتنے لاکھ اکٹھے ۔ جتنے دن جیل میں اس کی الگ پیمنٹ ۔ 3,4 ماہ بعد قاتل کو معافی دے کر چھڑوا دیا
Replying to @AfaqSomroo
خدا کی قسم، اس سے بڑی گپ میں نے آج تک نہیں سنی۔۔۔۔ 😀😀😀
22
ثاقب صاحب پچھلی مرتبہ بھی تو یہ پالیسی اناؤس ہوئی تھی ذرا تحقیق تو کریں کہ کتنے لوگوں کو ملے تھے اور حکومت کا کتنا خرچہ ہوا تھا
وزیر اعظم کا مشکل کی گھڑی پیکج ۔۔۔ موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کے لیے خصوصی سکیم کا آغاذ کیا جا رہا ہے۔وزیرِ اعظم خصوصی ریلیف سکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک گاڑی استعمال کرنے والوں کے لیے پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف دیا جائےگا. وزیر اعظم موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی سمیت دو پہیوں اور تین پہییوں والی سواریوں پر ماہانہ بیس لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کا ریلیف دیا جائے گا۔ وزیر اعظم اسی طرح چھوٹی گاڑیوں یعنی 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ تیس لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعظم اسلام آباد کی حدود میں اسکا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کر دیا جائیگا جبکہ پورے پاکستان میں بشمول کشمیر اور گلگت بلتستان، اسکا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں کیا جائیگا. وزیراعظم اس خصوصی ریلیف سکیم کی رجسٹریشن کا اجراء آج سے کر دیا گیا ہے، جس کے طریقہ کار کو آگاہی مہم کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا۔ سکیم میں رجسٹریشن کیلئے موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کی معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے تعاون پر صوبوں کے شکرگزار ہیں. وزیرِ اعظم.
24
اس سکیم کی خصوصیات بھی لکھ دیں 1. جو موٹر سائیکل 2011 سے پہلے کی رجسٹر ہے اسے نہیں ملےگا 2. جن کی اوقات روزانہ 100, 200 کا پیٹرول ڈلوانے کی ہے ان کو نہیں ملے گا بلکہ اکٹھا 5 لٹر ڈلوانے پر ملے گا ۔ 3. آپ کے پاس موبائل ہونا بھی ضروری ہے ، سم اور موٹر سائیکل بھی آپ کے نام ہو
وزیر اعظم کا مشکل کی گھڑی پیکج ۔۔۔ موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کے لیے خصوصی سکیم کا آغاذ کیا جا رہا ہے۔وزیرِ اعظم خصوصی ریلیف سکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک گاڑی استعمال کرنے والوں کے لیے پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف دیا جائےگا. وزیر اعظم موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی سمیت دو پہیوں اور تین پہییوں والی سواریوں پر ماہانہ بیس لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کا ریلیف دیا جائے گا۔ وزیر اعظم اسی طرح چھوٹی گاڑیوں یعنی 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ تیس لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعظم اسلام آباد کی حدود میں اسکا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کر دیا جائیگا جبکہ پورے پاکستان میں بشمول کشمیر اور گلگت بلتستان، اسکا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں کیا جائیگا. وزیراعظم اس خصوصی ریلیف سکیم کی رجسٹریشن کا اجراء آج سے کر دیا گیا ہے، جس کے طریقہ کار کو آگاہی مہم کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا۔ سکیم میں رجسٹریشن کیلئے موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کی معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے تعاون پر صوبوں کے شکرگزار ہیں. وزیرِ اعظم.
20
محترم وہ پچھلی مرتبہ بھی اعلان ہوا تھا تب کس کس کو ملا تھا؟
وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی استعمال کرنے والوں کو ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف 800cc تک گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف مزید معلومات pmfuelrelief.pk #عوام_کیلئے_ریلیف
28
محترم اتنا بڑا ٹویٹ کیا ہے اگر ساتھ ہی رجسٹریشن کا لنک بھی شیئر کر دیتے تو اچھا ہوتا ۔ آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی رجسٹریشن کا لنک شیئر کر دیں ۔ آپ کا پاکستان کی عوام پر احسان عظیم ہوگا شکریہ
وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عوام پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کرنے کے لیے خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کر دیا۔ ▪️ موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
▪️ 800cc تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
▪️ اسلام آباد میں اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب سے، جبکہ ملک بھر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے ہوگا۔
▪️ اسکیم کے لیے رجسٹریشن آج سے شروع کر دی گئی ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ @CMShehbaz
22
جہاں اتنا خرچہ کیا ہے حکومت کو چاہیے کہ اس طرح کی سچویشن کو کنٹرول کرنے کے لیے CCTV کیمرے بھی لگا دیں
سرگودھا کے ایک رہائشی کی اچانک طبیعت خراب ہوئی جب وہ ہسپتال پہنچا تو کیا ہوا اسکی کہانی اسی کی زبانی سنیں انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اس قوم کے ساتھ سیریز ہے ہی کوئی نہیں
25
Patwario ka Hakeem retweeted
سرگودھا کے ایک رہائشی کی اچانک طبیعت خراب ہوئی جب وہ ہسپتال پہنچا تو کیا ہوا اسکی کہانی اسی کی زبانی سنیں انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اس قوم کے ساتھ سیریز ہے ہی کوئی نہیں
99
7
199
7,093
Patwario ka Hakeem retweeted
ہنسی روک کر دکھائیں یہ دعویٰ ہے اس فنکار کا میرا خیال ہے سچ ہی کہہ رہا ہے۔
11
158
2
674
52,007
انڈیا کی گوگی
मेरा भारत महान....👇👇
31
نہیں سر عدالت نے کنزیومر کورٹ سب سے بہترین آپشن ہے اگر مسئلہ پھر بھی حل نہ ہو تب کورٹ
1
15
درست فرمایا لیکن ایک چیز ایسی ہے جس پر تمام فرقوں کا 100 فیصد اتفاق ہے اور ماشاءاللہ تمام فرقے ہی جتنا ممکن ہو اس پر عمل نہیں کرتے وہ ہے "جھوٹ" تمام فرقے متفق ہیں کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے اور تمام فرقے ہی دبا کر جھوٹ بولتے ہیں
وہابی خود کو وہابی یا اہل حدیث کہلاتے ہیں اپنا حلیہ ، لباس اور داڑھی کا ڈیزائن تک الگ بنا رکھا ہے تاکہ ان کی الگ پہچان پیدا ہو دیوبندی حضرات کا بھی یہی طریقہ ہے گنجے سر ، منڈی ہوئی مونچھیں ، ٹخنوں سے اوپر شلوار اور سر پہ مخصوص ٹوپی، ایسے ہی بریلوی حضرات سروں پر رنگ برنگی بھاری پگڑیوں ، مخصوص داڑھی مونچھوں اور کاسٹیوم کے ساتھ دور سے پہبچانے جاتے ہیں اہل تشیع کے اندر بھی جو کٹر مذہبی گروہ ہے اس نے کالے لباس ، ہاتھوں میں کنگن ، گلے میں زنجیر اور دیگر کچھ رسومات کو دین کا لازمی حصہ بنا رکھا ہے ایسے ہی دیگر مذہبی جماعتیں بھی اپنا الگ الگ حال حلیہ رکھتی ہیں اور صرف یہاں تک محدود نہیں ہے ہر فرقے ہر گروہ کی عبادت گاہ اور مدرسہ سسٹم بھی الگ الگ ہے جبکہ دین اسلام ایسی کسی ایک چیز کی اجازت بھی نہیں دیتا میرے نزدیک وہ عام مسلمان جو کسی قسم کا مخصوص حلیہ اختیار نہیں کرتے ، کسی خاص فرقے یا گروہ کا حصہ نہیں بنتے وہی حقیقی مسلمان ہیں #دین_اسلام
1
14
Well said After passing the statements against each other PPP vote for PMLN Prime minister and PMLN vote for PPP president is not a UTurn This is called "بغض"
Replying to @umardarazgondal
Imran is master of hypocritical U-Turns, you are talking about his 20 years ago divorced wife over whom IK preferred his lust for throne? She was 21 and IK was 42 when she fell for her cousin Sita's lover cum father of illegitimate daughter. No one believes IK, he is OCD liar.
35
1۔ صحت کارڈ 2. کرونا کے دوران پرفارمینس کی تمام دنیا میں بہترین 3. 6.2 فیصد گروتھ ریٹ 4. پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انڈسٹری اپنی 100 فیصد کپیسٹی پر چلی۔ 5. کارکے پاور پلانٹ کا بلینز آف ڈالرز کا جرمانہ مذاکرات کرکے معاف کروایا 6. ریکوڈک کا اربوں ڈالر کا جرمانہ معاف کروایا
Replying to @IG_Zahra
رمیز راجہ عمران خان کی کلٹ فالوونگ رکھنے کے علاوہ کوئی ایک کامیابی بتا سکتے ہیں جو اپنے دور اقتدار میں حاصل کی ہو نیز kpk میں 17 سالہ اقتدار میں کسی شعبہ میں کامیابی کے نشان؟
39
مزے کی بات ہم سے کپیسٹی چارجز اس لیے وصول کر رہے ہیں کہ" ہم نے تو آپ کیلئے بجلی بنانے کا میٹیریل لے لیا تھا لیکن آپ نے کم بجلی استعمال کی ہے تو اس میں حکومت کا کیا قصور اس لیے کپیسٹی چارجز ادا کریں" جب ہم کہتے ہیں کہ ہماری ضرورت کے مطابق بجلی دو تو جواب ملتا ہے کہ" وہ تو نہیں ہے"
اسلام آباد میں آئیسکو کی جانب سے سہی ہاتھ رکھا گیا ہے۔ جب بھی بجلی بند کرتے ہیں چھ گھنٹے کے لیے مسلسل لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ یہ بھی نہیں ہوتا کہ یہ چھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ 24 گھنٹے میں تقسیم کر دی جائے بلکہ بجلی بند کرتے ہیں تو چھ گھنٹے تک بجلی دیتے ہی نہیں۔ نہ موسم خراب نہ کوئی اور ہنگامی صورتحال لیکن اسلام آباد میں یہ حال ہے تو پورے ملک میں کیا عذاب مسلط ہوگا یہ سمجھنے کے لیے کوئی زیادہ جمع تفریق کی ضرورت نہیں ہے
1
21
Patwario ka Hakeem retweeted
تین مرلے کے کچے مکان میں جب بیوہ عورت اپنے تین ننھے منے پھولوں کو صبح سویرے سکول کے لیے تیار کرتے ہوئے دودھ والے سے خریدے ہوئے ادھا لیٹر دودھ کو تین پیالیوں کو ادھا ادھا بھر کر اور پانی ڈال کر پوری پیالیاں بھر کر پلانے کے بعد پھٹے پرانے سکول بیگز کے ساتھ روانہ کرتی ہے تو اس کے علم میں یہ نہیں ہوتا کہ جس ادھے لیٹر دودھ میں پانی ملا کر تین پیالیاں بھری گئی تھیں دراصل اس ادھا لیٹر دودھ میں دودھ والے نے ادھا لیٹر پانی بھی ملایا ہوا تھا دودھ میں پانی ملانا محض ایک جرم ہے اور ہر معاشرے میں مجرم بھی ہوتے ہیں اس عورت کی غربت بھی کوئی نئی بات نہیں اور کارل مارکس غربت کے ہاتھوں اپنے تین بچوں کو کھو کر اس موضوع پر کافی بڑا فلسفہ پیش کر چکا ہے مسئلہ یہ ہے کہ اس دودھ والے کا ضمیر اس کا سوچ کر بھی نہ جاگا جس نے نو عمری میں عرب معاشرے میں الصادق کی شہرت پائی. مگر وہ بے شرم تو اپنےمنہوس چہرے پر غلیظ مسکراہٹ کے ساتھ عاشق رسول ہونے کا دعوی دار ہے. لوگو ! قیامت تو اچکی ہے محض پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہونا باقی ہے.
7
46
3,022
Patwario ka Hakeem retweeted
جب تھکن ہم پر بھاری ہو جاتی ہے تو ہم اس کے بارے میں بات کرنے کی نسبت اسے چھپانے میں زیادہ ماہر ہو جاتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ کوئی یہ جانے کہ ہم ٹھیک نہیں ہیں اس کے باوجود ہم اپنی گہرائیوں میں صرف ایک ایسے شخص کی تمنا کرتے ہیں جس کے سامنے ہم اس تمام ضبط کو اتار پھینکیں اور بغیر کسی وضاحت کے کہیں کہ ہم ٹھیک نہیں ہیں اور ہمیں صرف اس شخص کی ضرورت ہے جو ہمیں سمجھے اور ساتھ رہے مجذوبؔ
7
23
144
41,452