Pinned Tweet
یہاں لفظوں کو مہذب بنانے سے زیادہ
سچ کو بے نقاب کرنے کی کوشش ہوگی
انسان کی نفسیات ہو یا سماج کی منافقت
سیاست ہو محبت ہو خواہش ہو یا نفس
ہم وہاں دیکھیں گے جہاں لوگ عموماً نظریں چرا لیتے ہیں
یہ باطن ہے
یہاں چہرے نہیں رویّے پڑھے جائیں گے
ہمارے سماج نے مرد اور عورت کو ایک ساتھ سونا تو سکھایا، لیکن اپنے احساسات، اپنی الجھنوں اور اپنی کمزوریوں کو بیان کرنا نہیں سکھایا. ایک طرف مرد اس خوف میں جیتا ہے کہ کہیں اس کی تسکین یا اس کا طور طریقہ ادھورا نہ رہ جائے، اور دوسری طرف عورت اپنی خواہش کا نام لینے کو بھی گناہ یا
عاشقی اکلوتا ایسا ٹیکس ہے جو انسان ہنس کر بھرتا ہے اور بدلے میں سڑک پر پیدل چلنے کی سزا پاتا ہے
ڈھابے کی سستی چائے چھوڑ کر پوش کیفے میں کڑوی کافی پر ہزاروں لٹانا اور آخر میں یہ سننا کہ مجھے تو سادگی پسند تھی یہ ایسی قانونی ڈکیتی ہے جس کی رپورٹ بھی درج نہیں ہوتی
فحش مواد، بے مقصد چیٹنگ اور ورچوئل آسانی نے حقیقی رشتوں کی تڑپ ختم کر دی ہے۔ لوگ اب آمنے سامنے ملنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ اسکرین پر بلاک کرنا آسان ہے اور اصل زندگی میں تعلق نبھانا مشکل۔ سستی وقتی تسکین نے انسان کو شدید تنہائی کا شکار کر دیا ہے
#ڈیجیٹل_دور #تنہائی #سوشل_میڈیا
ہم سب نے ایک بڑی آسان عادت بنا لی ہے. جہاں کسی کمزور کے ساتھ برا ہوتا دیکھیں وہاں سے چپ چاپ نظریں چرا کر نکل جاتے ہیں. بعد میں دل کو تسلی دیتے ہیں کہ چلو ہم نے کوئی برا تو نہیں کیا. ہمارا جھگڑے سے کیا لینا دینا. لیکن بات یہ ہے کہ یہ خاموشی کوئی شرافت نہیں ہوتی. یہ سیدھا سیدھا
ڈیٹنگ ایپس نے انسانوں کو سبزی منڈی کا مال بنا کر رکھ دیا ہے۔ ایک کلک پر دائیں سوائپ کیا، دوسری پر بائیں۔ پسند نہ ایا تو فورا بلاک کیا اور نیا چہرہ ڈھونڈ لیا۔ اس اسان دستیابی نے نوجوانوں کو بے حس کر دیا ہے۔ اب نہ کسی کے اندر نبھانے کا صبر بچا ہے اور نہ کسی کی عزت کرنے کی تمیز۔
رشتہ طے ہونا دراصل ایسا سرکاری آڈٹ ہے جہاں لڑکے کی اخلاقیات کی اوقات سموسے کے ساتھ والی پودینے کی چٹنی جتنی بھی نہیں رہتی
ساری بات تنخواہ مکان اور گاڑی پر ختم ہوتی ہے اور جب سودا پکا ہو جائے تو دونوں خاندان مٹھائی کھا کر ایک ہنستے کھیلتے انسان کو گھریلو جیل روانہ کر دیتے ہیں
ہمارے ہاں شادی کے لیے رشتہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ کھلم کھلا سودا ہوتا ہے.
لڑکی کے گھر جا کر اس کا چہرہ، رنگ اور قد ایسے پرکھا جاتا ہے جیسے منڈی میں کوئی سامان خرید رہے ہوں. ادھر لڑکے میں شرافت اور انسان ہونا کوئی نہیں دیکھتا، بس تنخواہ، گاڑی اور الگ گھر کی ڈیمانڈ رکھی جاتی ہے.
آگرہ کے محل میں شہزادہ ہمایوں سخت بیمار پڑا تھا اور تمام شاہی طبیب علاج سے مایوس ہو چکے تھے. درباریوں نے شہنشاہ بابر کو مشورہ دیا کہ وہ ہمایوں کی جان بچانے کے لیے اپنی سب سے قیمتی چیز یعنی کوہِ نور ہیرا خیرات کر دے.
بابر نے مسکرا کر کہا کہ میرے بیٹے کی جان سے زیادہ قیمتی چیز صرف
عاشقی دنیا کا واحد کاروبار ہے جس میں بندہ گھاٹا دیکھ کر دکان بڑھانے کے بجائے ادھار پکڑ کر مزید پیسہ جھونک دیتا ہے
ڈھابے کی سستی چائے چھوڑ کر پوش کیفے کی کڑوی کافی پر ہزاروں اڑانا اور آخر میں یہی سننا کہ ارے اس سب کی کیا ضرورت تھی
اس اندھی سرمایہ کاری کی کوئی رسید بھی نہیں ملتی
سب سے زیادہ خوفناک خاموشی وہ ہوتی ہے جو ہنستے کھیلتے انسان کے دل میں اچانک اتر جاتی ہے۔
پاکستان میں ہزاروں لوگ روزمرہ کے کام کاج بالکل عام لوگوں کی طرح کرتے ہیں، دفتر جاتے ہیں، دوستوں میں بیٹھتے ہیں، مگر اندر سے بالکل ویران ہوتے ہیں۔ اسے خاموش ڈپریشن کہتے ہیں۔
یہ کیفیت تب
خود ہی پی جاتا ہے۔
مگر یہ وقتی مسکراہٹ اندر کی جنگ کو ختم نہیں کرتی۔ اکیلے بوجھ اٹھاتے اٹھاتے دل پتھر ہونے لگتا ہے اور انسان آہستہ آہستہ زندگی کی امید ہی کھو بیٹھتا ہے۔
سب سے محفوظ اور درست راستہ یہ ہے کہ اس نقاب کو اتار دیا جائے۔ درد کو تسلیم کرنا اور کسی اچھے ماہر نفسیات
غلام عباس کا افسانہ اوور کوٹ پڑھ کر انسان اندر تک لرز جاتا ہے ایک نوجوان چمکدار کوٹ پہن کر مال روڈ پر مستی کرتا ہے تاکہ دنیا کو لگے کہ وہ بہت خوشحال اور امیر ہے
مگر جب وہ سڑک حادثے میں دم توڑ دیتا ہے اور ہسپتال میں اس کا کوٹ اتارا جاتا ہے تو نیچے سے میلا پھٹا بنیان اور کاغذ
نکلتے ہیں
یہ کہانی ہم سب سفید پوشوں کی ہے جو مہنگائی اور محرومی میں پس رہے ہیں لیکن باہر نکل کر صرف اپنی عزت کا بھرم قائم رکھنے کی جنگ لڑ رہے ہیں
ہمارا اوپر کا چہرہ شاید پرسکون نظر آئے مگر اندر سے ہماری معیشت اور سانسیں تار تار ہو چکی ہیں
#باطن #اردو #اردوقومی_زبان
