چہرے نہیں، رویّے پڑھتا ہوں۔ سیاست سے نفسیات تک، معاشرے کی منافقت سے اپنے باطن تک۔ تلخ مشاہدے • خام جذبات • تھوڑا سا تصوف

Pakistan
Joined June 2010
یہاں لفظوں کو مہذب بنانے سے زیادہ سچ کو بے نقاب کرنے کی کوشش ہوگی انسان کی نفسیات ہو یا سماج کی منافقت سیاست ہو محبت ہو خواہش ہو یا نفس ہم وہاں دیکھیں گے جہاں لوگ عموماً نظریں چرا لیتے ہیں یہ باطن ہے یہاں چہرے نہیں رویّے پڑھے جائیں گے
3
949
ہمارے سماج نے مرد اور عورت کو ایک ساتھ سونا تو سکھایا، لیکن اپنے احساسات، اپنی الجھنوں اور اپنی کمزوریوں کو بیان کرنا نہیں سکھایا. ایک طرف مرد اس خوف میں جیتا ہے کہ کہیں اس کی تسکین یا اس کا طور طریقہ ادھورا نہ رہ جائے، اور دوسری طرف عورت اپنی خواہش کا نام لینے کو بھی گناہ یا
1
10
بے حیائی سمجھ کر چپ کر لیتی ہے. دونوں ایک دوسرے کو خوش کرنے کا ڈرامہ کرتے ہیں، مگر اندر سے ایک دوسرے کے سچ سے انجان رہتے ہیں. یہ خاموشی شروع میں تو محض ایک جھجھک لگتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسا ناسور بن جاتی ہے جو رشتے کو چڑچڑے پن اور بیزاری میں بدل دیتا ہے.
6
عاشقی اکلوتا ایسا ٹیکس ہے جو انسان ہنس کر بھرتا ہے اور بدلے میں سڑک پر پیدل چلنے کی سزا پاتا ہے ڈھابے کی سستی چائے چھوڑ کر پوش کیفے میں کڑوی کافی پر ہزاروں لٹانا اور آخر میں یہ سننا کہ مجھے تو سادگی پسند تھی یہ ایسی قانونی ڈکیتی ہے جس کی رپورٹ بھی درج نہیں ہوتی
13
فحش مواد، بے مقصد چیٹنگ اور ورچوئل آسانی نے حقیقی رشتوں کی تڑپ ختم کر دی ہے۔ لوگ اب آمنے سامنے ملنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ اسکرین پر بلاک کرنا آسان ہے اور اصل زندگی میں تعلق نبھانا مشکل۔ سستی وقتی تسکین نے انسان کو شدید تنہائی کا شکار کر دیا ہے #ڈیجیٹل_دور #تنہائی #سوشل_میڈیا
23
ہم سب نے ایک بڑی آسان عادت بنا لی ہے. جہاں کسی کمزور کے ساتھ برا ہوتا دیکھیں وہاں سے چپ چاپ نظریں چرا کر نکل جاتے ہیں. بعد میں دل کو تسلی دیتے ہیں کہ چلو ہم نے کوئی برا تو نہیں کیا. ہمارا جھگڑے سے کیا لینا دینا. لیکن بات یہ ہے کہ یہ خاموشی کوئی شرافت نہیں ہوتی. یہ سیدھا سیدھا
1
49
ڈرپوک پن ہے. ہم اس لیے چپ رہتے ہیں تاکہ ہماری اپنی دال روٹی پر آنچ نہ آئے. ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ جب تک آگ ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچے ہمیں دھواں نظر ہی نہیں آتا. کبھی سوچا ہے کہ جس دن آپ پر وقت پڑے گا اور سب آپ کی طرح مصلحت کی چادر تان کر بیٹھ جائیں گے تب کیسا لگے گا؟
40
ڈیٹنگ ایپس نے انسانوں کو سبزی منڈی کا مال بنا کر رکھ دیا ہے۔ ایک کلک پر دائیں سوائپ کیا، دوسری پر بائیں۔ پسند نہ ایا تو فورا بلاک کیا اور نیا چہرہ ڈھونڈ لیا۔ اس اسان دستیابی نے نوجوانوں کو بے حس کر دیا ہے۔ اب نہ کسی کے اندر نبھانے کا صبر بچا ہے اور نہ کسی کی عزت کرنے کی تمیز۔
1
55
اج کے لڑکے لڑکی کو لگتا ہے کہ ان کے پاس چوائسز کی کوئی کمی نہیں ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اندر سے پہلے سے زیادہ اکیلے ہیں۔ جب انسان ہر کسی کے لیے اتنی اسانی سے دستیاب ہو جائے تو وہ خود اپنی نظر میں اپنی قدر کھو بیٹھتا ہے۔
52
رشتہ طے ہونا دراصل ایسا سرکاری آڈٹ ہے جہاں لڑکے کی اخلاقیات کی اوقات سموسے کے ساتھ والی پودینے کی چٹنی جتنی بھی نہیں رہتی ساری بات تنخواہ مکان اور گاڑی پر ختم ہوتی ہے اور جب سودا پکا ہو جائے تو دونوں خاندان مٹھائی کھا کر ایک ہنستے کھیلتے انسان کو گھریلو جیل روانہ کر دیتے ہیں
2
32
ہمارے ہاں شادی کے لیے رشتہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ کھلم کھلا سودا ہوتا ہے. ​لڑکی کے گھر جا کر اس کا چہرہ، رنگ اور قد ایسے پرکھا جاتا ہے جیسے منڈی میں کوئی سامان خرید رہے ہوں. ادھر لڑکے میں شرافت اور انسان ہونا کوئی نہیں دیکھتا، بس تنخواہ، گاڑی اور الگ گھر کی ڈیمانڈ رکھی جاتی ہے.
1
1
64
باہر سے سب بہت نیک اور دین دار بنتے ہیں، مگر اندر صرف دنیا کا لالچ بھرا ہوتا ہے. لڑکی والوں سے جہیز کی امیدیں اور لڑکے والوں سے بینک بیلنس کا حساب، یہی ہماری منافقت کا اصلی چہرہ ہے. ​ہم دو روحوں کا تعلق نہیں جوڑتے بلکہ دو خاندانوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں.
2
1
37
آگرہ کے محل میں شہزادہ ہمایوں سخت بیمار پڑا تھا اور تمام شاہی طبیب علاج سے مایوس ہو چکے تھے. درباریوں نے شہنشاہ بابر کو مشورہ دیا کہ وہ ہمایوں کی جان بچانے کے لیے اپنی سب سے قیمتی چیز یعنی کوہِ نور ہیرا خیرات کر دے. بابر نے مسکرا کر کہا کہ میرے بیٹے کی جان سے زیادہ قیمتی چیز صرف
1
1
67
میری اپنی جان ہے. بابر نے ہمایوں کے بستر کے تین چکر لگائے اور دعا کی کہ یہ بیماری مجھ پر آ جائے اور میرا بیٹا تندرست ہو جائے.تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ اس دن کے بعد ہمایوں کی صحت بہتر ہونا شروع ہو گئی اور بابر کی طبیعت بگڑتی چلی گئی، یہاں تک کہ کچھ ہی عرصے بعد بابر کا انتقال ہوا
1
50
عاشقی دنیا کا واحد کاروبار ہے جس میں بندہ گھاٹا دیکھ کر دکان بڑھانے کے بجائے ادھار پکڑ کر مزید پیسہ جھونک دیتا ہے ​ڈھابے کی سستی چائے چھوڑ کر پوش کیفے کی کڑوی کافی پر ہزاروں اڑانا اور آخر میں یہی سننا کہ ارے اس سب کی کیا ضرورت تھی ​اس اندھی سرمایہ کاری کی کوئی رسید بھی نہیں ملتی
1
39
سب سے زیادہ خوفناک خاموشی وہ ہوتی ہے جو ہنستے کھیلتے انسان کے دل میں اچانک اتر جاتی ہے۔ پاکستان میں ہزاروں لوگ روزمرہ کے کام کاج بالکل عام لوگوں کی طرح کرتے ہیں، دفتر جاتے ہیں، دوستوں میں بیٹھتے ہیں، مگر اندر سے بالکل ویران ہوتے ہیں۔ اسے خاموش ڈپریشن کہتے ہیں۔ یہ کیفیت تب
1
62
خود ہی پی جاتا ہے۔ مگر یہ وقتی مسکراہٹ اندر کی جنگ کو ختم نہیں کرتی۔ اکیلے بوجھ اٹھاتے اٹھاتے دل پتھر ہونے لگتا ہے اور انسان آہستہ آہستہ زندگی کی امید ہی کھو بیٹھتا ہے۔ سب سے محفوظ اور درست راستہ یہ ہے کہ اس نقاب کو اتار دیا جائے۔ درد کو تسلیم کرنا اور کسی اچھے ماہر نفسیات
1
23
یا معالج سے بات کرنا کمزوری نہیں، بلکہ اپنی جان بچانے کا پہلا قدم ہے #باطن #اردو
16
غلام عباس کا افسانہ اوور کوٹ پڑھ کر انسان اندر تک لرز جاتا ہے ایک نوجوان چمکدار کوٹ پہن کر مال روڈ پر مستی کرتا ہے تاکہ دنیا کو لگے کہ وہ بہت خوشحال اور امیر ہے مگر جب وہ سڑک حادثے میں دم توڑ دیتا ہے اور ہسپتال میں اس کا کوٹ اتارا جاتا ہے تو نیچے سے میلا پھٹا بنیان اور کاغذ
1
88
نکلتے ہیں یہ کہانی ہم سب سفید پوشوں کی ہے جو مہنگائی اور محرومی میں پس رہے ہیں لیکن باہر نکل کر صرف اپنی عزت کا بھرم قائم رکھنے کی جنگ لڑ رہے ہیں ہمارا اوپر کا چہرہ شاید پرسکون نظر آئے مگر اندر سے ہماری معیشت اور سانسیں تار تار ہو چکی ہیں #باطن #اردو #اردوقومی_زبان
1
50