(An Anti-war movement, struggling for peace and humen rights in Pashtun belt)

Killa saifullah
Joined December 2020
جب مجھے پولیس نے اغواء کرکے ایم آئی کے حوالے کردیا تو مجھے ٹارچر سیل میں ایک ایم آئی افسر نے گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ تم TTP یا BLA کیوں جوائن نہیں کرتے؟ میں نے کہا: آپ مجھے کہہ رہے ہو کہ میں TTP یا BLA جوائن کروں؟ 1/1
30
113
5
1,146
85,436
د قلعه سیف الله ولسوالۍ تکړه او بااستعداده ځوان یوسف افغان، (انځورګر) چې د خپلو لاسونو په هنر ښکلي انځورونه جوړوي. #YousafAfghan #QilaSaifullah #PashtunTalent #YoungArtist
1
26
420
سندھ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ سندھ حکومت کی اپیل مسترد، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی مستقل بریت اور بڑی قانونی جیت کراچی سندھ ہائی کورٹ نے قائدآباد تھانے میں درج مقدمے سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بریت (بری ہونے) کے خلاف سندھ حکومت کی اپیل کو خارج کر دیا ہے۔ 1/1
1
6
25
933
کیونکہ وہ ماہ رنگ بلوچ کے خلاف الزامات کو عدالت میں سچا ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ دوسری طرف، اس فیصلے کو ڈاکٹر ماہ نگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے موقف کی ایک بڑی اور اہم قانونی جیت دیکھا جا رہا ہے، جس سے یہ ثابت ہو گیا ہے 1/3
1
1
40
کہ ان کے خلاف بنایا گیا یہ مقدمہ قانونی طور پر کمزور اور بے بنیاد تھا۔
15
پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے دی ہیگ جسٹس ڈائیلاگ میں بڑا اہم خطاب 1/2
20
86
672
پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے دی ہیگ جسٹس ڈائیلاگ میں بڑا اہم خطاب "اردو سب ٹائٹل" میں ملاحضہ فرمائیں۔
28
1
86
1,064
پشتون تحفظ تحریک (PTM) کے سربراہ منظور پشتین نے دی ہیگ جسٹس ڈائیلاگ میں کہا ہے کہ پاکستان کی فوج اور خفیہ ادارے خیبر پختونخوا میں مسلح گروہ بناتے، انہیں مالی معاونت فراہم کرتے اور تربیت دیتے ہیں، پھر انہی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر لوگوں 1/1
1
5
20
285
کو ان کے علاقوں سے جبری طور پر بے دخل کیا جاتا ہے۔ منظور پشتین کی گفتگو کے دوران احتجاجاً پاکستان کے نمائندے اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے۔ 1/2
1
30
منظور پشتین نے اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں کہا کہ گزشتہ 23 برسوں کے دوران خیبر پختونخوا کے لاکھوں باشندے جنگ کے باعث شدید مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ ان کے مطابق، خطے کے مختلف علاقوں میں آج بھی ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیاں، فوجی آپریشنز اور جبری بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے۔
16
46
444
منظور پشتین نے کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہر دہش-ت گرد گروہ پاکستان فوج اور پاکستان کے خفیہ اداروں کی جانب سے بنایا، مالی طور پر سپورٹ کیا اور تربیت دیا جاتا ہے۔ پاکستان فوج کے اعلیٰ عہدیداروں، جیسے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل مشرف، 1/1
1
3
4
124
خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل حمید گل، کرنل امام، جنرل عبدالقادر بلوچ اور دیگر کئی افراد نے حتیٰ کہ براہِ راست ٹیلی ویژن انٹرویوز میں کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ انہی کے ہاتھوں بنائے گئے تھے۔" 1/2
1
2
28
انہوں نے مزید کہا کہ دہش-ت گرد گروہ پاکستان فوج اور خفیہ اداروں کی جانب سے بنائے، مالی معاونت دیے اور تربیت کیے گئے ہیں۔ 1/2
2
17
پشتین نے پاکستان فوج کے حوالے سے کہا کہ دہش-ت گردی کے خلاف آپریشنز کے نام پر خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل سے مالا مال علاقوں کے رہائشیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ 1/1
5
20
330
منظور پشتین نے کہا کہ پہلے اپنے مبینہ نیابتی دہشت گرد گروہوں کے ذریعے بدامنی اور انتشار پیدا کرکے خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں کو غیر مستحکم کیا جاتا ہے، پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر فوجی آپریشنز شروع کیے جاتے ہیں 1/1
2
12
34
391
اور انہی آپریشنز کے ذریعے ان علاقوں کے اصل اور مقامی باشندوں کو ان کے گھروں اور علاقوں سے نکال دیا جاتا ہے۔ 1/2
18
منظور پشتین نے کہا کہ "2004 سے اب تک خیبر پختونخوا میں درجنوں بڑے فوجی آپریشنز اور ہزاروں ہدفی کارروائیاں کی جا چکی ہیں، لیکن ان کے نتیجے میں علاقے کے عوام کو امن اور تحفظ فراہم نہیں ہو سکا۔" 1/1
2
4
16
315
منظور پشتین نے مزید کہا کہ فوجی آپریشنز کے نتیجے میں لوگوں کے گھر، بازار اور باغات تباہ ہوئے، جبکہ بے گھر افراد کی واپسی کے دوران انہیں بارودی سرنگوں، سیکیورٹی چیک پوسٹوں اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑا 1/2
11
منظور پشتین نے کہا کہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں سیکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ منظور پشتین کے مطابق، ان دھماکوں میں 1,250 شہری جاں بحق جبکہ 278 افراد مستقل طور پر معذور ہوئے ہیں۔ منظور پشتین کے مطابق، گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران 76 ہزار پشتون شہری جاں بحق، 6,700 1/1
1
4
14
291
پشتون تاحال لاپتہ، جبکہ 2 لاکھ 50 ہزار گھر اور 35 ہزار دکانیں تباہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے ان اعداد و شمار کے حوالے سے دستاویزات، شواہد اور عینی شاہدین کی موجودگی کا بھی ذکر کیا۔ پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ نے کہا کہ ان مسائل کے خلاف ایک پُرامن مزاحمتی تحریک کے طور پر 1/2
1
1
15
پشتون تحفظ تحریک قائم ہوئی، تاکہ ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیوں، بارودی سرنگوں اور قدرتی وسائل کی مبینہ لوٹ مار کے خلاف آواز اٹھائی جا سکے۔ 1/3
1
10