Pinned Tweet
جب مجھے پولیس نے اغواء کرکے ایم آئی کے حوالے کردیا تو مجھے ٹارچر سیل میں ایک ایم آئی افسر نے
گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ تم TTP یا BLA کیوں جوائن نہیں کرتے؟
میں نے کہا:
آپ مجھے کہہ رہے ہو کہ میں TTP یا BLA جوائن کروں؟
1/1
د قلعه سیف الله ولسوالۍ تکړه او بااستعداده ځوان یوسف افغان، (انځورګر) چې د خپلو لاسونو په هنر ښکلي انځورونه جوړوي.
#YousafAfghan #QilaSaifullah #PashtunTalent #YoungArtist
سندھ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ
سندھ حکومت کی اپیل مسترد، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی مستقل بریت اور بڑی قانونی جیت
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے قائدآباد تھانے میں درج مقدمے سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بریت (بری ہونے) کے خلاف سندھ حکومت کی اپیل کو خارج کر دیا ہے۔
1/1
کیونکہ وہ ماہ رنگ بلوچ کے خلاف الزامات کو عدالت میں سچا ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
دوسری طرف، اس فیصلے کو ڈاکٹر ماہ نگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے موقف کی ایک بڑی اور اہم قانونی جیت دیکھا جا رہا ہے، جس سے یہ ثابت ہو گیا ہے 1/3
پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے دی ہیگ جسٹس ڈائیلاگ میں بڑا اہم خطاب
"اردو سب ٹائٹل" میں ملاحضہ فرمائیں۔
پشتون تحفظ تحریک (PTM) کے سربراہ منظور پشتین نے دی ہیگ جسٹس ڈائیلاگ میں کہا ہے کہ پاکستان کی فوج اور خفیہ ادارے خیبر پختونخوا میں مسلح گروہ بناتے، انہیں مالی معاونت فراہم کرتے اور تربیت دیتے ہیں، پھر انہی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر لوگوں 1/1
منظور پشتین نے اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں کہا کہ گزشتہ 23 برسوں کے دوران خیبر پختونخوا کے لاکھوں باشندے جنگ کے باعث شدید مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ ان کے مطابق، خطے کے مختلف علاقوں میں آج بھی ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیاں، فوجی آپریشنز اور جبری بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے۔
منظور پشتین نے کہا کہ
"حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہر دہش-ت گرد گروہ پاکستان فوج اور پاکستان کے خفیہ اداروں کی جانب سے بنایا، مالی طور پر سپورٹ کیا اور تربیت دیا جاتا ہے۔
پاکستان فوج کے اعلیٰ عہدیداروں، جیسے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل مشرف، 1/1
خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل حمید گل، کرنل امام، جنرل عبدالقادر بلوچ اور دیگر کئی افراد نے حتیٰ کہ براہِ راست ٹیلی ویژن انٹرویوز میں کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ انہی کے ہاتھوں بنائے گئے تھے۔"
1/2
پشتین نے پاکستان فوج کے حوالے سے کہا کہ دہش-ت گردی کے خلاف آپریشنز کے نام پر خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل سے مالا مال علاقوں کے رہائشیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
1/1
منظور پشتین نے کہا کہ
پہلے اپنے مبینہ نیابتی دہشت گرد گروہوں کے ذریعے بدامنی اور انتشار پیدا کرکے خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں کو غیر مستحکم کیا جاتا ہے، پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر فوجی آپریشنز شروع کیے جاتے ہیں 1/1
منظور پشتین نے کہا کہ
"2004 سے اب تک خیبر پختونخوا میں درجنوں بڑے فوجی آپریشنز اور ہزاروں ہدفی کارروائیاں کی جا چکی ہیں، لیکن ان کے نتیجے میں علاقے کے عوام کو امن اور تحفظ فراہم نہیں ہو سکا۔"
1/1
منظور پشتین نے کہا کہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں سیکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ منظور پشتین کے مطابق، ان دھماکوں میں 1,250 شہری جاں بحق جبکہ 278 افراد مستقل طور پر معذور ہوئے ہیں۔
منظور پشتین کے مطابق، گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران 76 ہزار پشتون شہری جاں بحق، 6,700
1/1
پشتون تاحال لاپتہ، جبکہ 2 لاکھ 50 ہزار گھر اور 35 ہزار دکانیں تباہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے ان اعداد و شمار کے حوالے سے دستاویزات، شواہد اور عینی شاہدین کی موجودگی کا بھی ذکر کیا۔
پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ نے کہا کہ ان مسائل کے خلاف ایک پُرامن مزاحمتی تحریک کے طور پر
1/2













