خموشی کو مری سمجھو نہ تم کمزوریِ فطرت دبے پاؤں جو آئے، وہ بھی اک 'طوفان' ہوتا ہے 🚨

Joined November 2021
کچرا کنڈی راج 😷
1
36
مستری کا 😟
آپ کی نظر میں اس دیوار کے بننے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوگا؟ 🤨
1
35
نکاح نامہ جعلی ہے تو ۔۔۔۔۔۔
3
36
جنرل سلمان اکرم راجہ کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟
27
واہ جی واہ مصنفہ اے سی والی ٹیکسی میں بیٹھی یہ تمام مناظر دیکھتی رہی ان کو اللہ نے بس اتنی توفیق دی کہ یہ دوسروں کی ہمدردی اور ایثار کو صرف رپورٹ کریں جبکہ ڈرائیور کو کہہ کر مریض کو ہسپتال بھی پہنچا سکتی تھیں
آج صبح اتوار بازار جانے کے لیے نکلے۔ رائڈ کے ڈرائیور نے گاڑی میں تلاوت لگا رکھی تھی۔ اچانک اس نے زور سے اللہ اکبر کہا۔ میں گھبرا گئی سامنے ایک اسکوٹر اچانک لہرایا اور پھر اس کا سوار زمین پر پڑا تھا۔ ڈرائیور نے فوراً بریک لگائی۔ ’’معذرت!‘‘ میں نے کہا، ’’ایسی کوئی بات نہیں، انسانی ہمدردی اصل چیز ہے۔‘‘ اس نے گاڑی سڑک کے کنارے لگائی اور فوراً زخمی شخص کی طرف لپکا۔ اسے سیدھا کیا۔ اس کی پیشانی سے خون بہہ رہا تھا۔ ڈرائیور نے فوراً ایمرجنسی سروس کو فون کیا اور قریبی اسپتال سے بھی درخواست کی کہ ایمبولینس بھیج کر مریض کو وہاں سے اٹھایا جائے۔ میں ڈرائیور کی پریشانی دیکھ رہی تھی۔ ہماری گاڑی تقریباً پندرہ منٹ سڑک کے کنارے کھڑی رہی۔ اس دوران درجنوں کاریں اور اسکوٹر وہاں سے گزرے۔ کوئی لمحہ بھر کو رکا، کوئی دو تین منٹ کھڑا رہا۔ سب کے چہروں پر فکر مندی تھی، تاسف کے ساتھ اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ ہمارا ڈرائیور وہیں کھڑا رہا۔ اتنے میں زخمی شخص میں اتنی ہمت آئی کہ اس نے کسی کا نام بتایا۔ ڈرائیور نے اس کے موبائل فون میں وہ نام تلاش کیا اور اس کے گھر والوں کو اطلاع دی کہ یہ حادثہ ہوگیا ہے۔ پھر وہ مسلسل فون ملاتا رہا کہ جلدی ایمبولینس بھیجیں۔ مریض کا سانس تیز چل رہا تھا اور خون بھی مسلسل بہہ رہا تھا۔ اتنے میں ایک سائیکل سوار وہاں سے گزرنے لگا۔ شاید وہ پٹھان تھا۔ اس نے ہجوم کی طرف دیکھا کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ اس شخص نے سائیکل ایک طرف کھڑی کی اور فوراً زخمی کے پاس جا پہنچا۔ وہ مریض پر جھک گیا۔ اس کے کندھے پر ایک صافہ سا پڑا تھا۔ اس نے وہ اتارا اور زخمی کی پیشانی سے بہتا ہوا خون صاف کرنے لگا۔ اس کی پریشانی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ میں اس کی سائیکل کو دیکھتی رہ گئی۔ ایک عام سی سائیکل۔۔۔ مگر اس پر سفر کرنے والا ایک غیر معمولی انسان تھا۔ میں نے اس سائیکل کی تصویر لے لی۔۔ وہ نہ ٹک ٹاک کے لیے یہ سب کر رہا تھا، نہ سوشل میڈیا پر اپنی کارگزاری لگانے کے لیے، نہ اسے لائکس کی طلب تھی، نہ کمنٹس کی۔ ایک انسان زندگی اور موت کے بیچ پڑا تھا۔وہ رک گیا۔ یہی اصل انسانیت ہے۔ اور شاید یہی اصل انقلاب بھی۔ انقلابی وہ نہیں جو انقلاب کی خواہش رکھتا ہے، بلکہ وہ ہے جو اپنی ذات، اپنی مصروفیات اور اپنی "میں" سے آگے دیکھ سکتا ہے۔ جو کسی کے درد کو دیکھ کر بے چین ہوجاتا ہے۔ جو اپنا وقت کسی بڑے مقصد کے لیے وقف کرسکتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ آسائشوں کے حصار میں زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے گھر میں سولر لگا ہوا ہے، اسٹینڈ بائی جنریٹر ہے، یو پی ایس ہے۔ شاید یہ سوچنے کی فرصت ہی نہ ہو کہ کسی غریب کے گھر بجلی کا بل کتنا آیا ہوگا۔ پنشن مناسب ہے، اولاد بیرونِ ملک ہے، پیٹرول مہنگا ہو یا سستا، اس کا وہ اثر نہیں پڑتا جو ایک مزدور، رکشہ ڈرائیور یا موٹر سائیکل سوار پر پڑتا ہے۔ پھر میں کیوں گھر سے نکلوں؟کیوں کسی دھرنے میں بیٹھوں؟ کیوں عام آدمی کے مسئلے کے لیے آواز اٹھاؤں؟ جو دوسروں کے دکھ کو محسوس کرے، وہی زندہ ہے۔۔ اس کی سائیکل معمولی تھی، مگر اس پر بیٹھا انسان بہت بڑا تھا۔ جو انسانیت کے لیے جیتے ہیں، وہی حقیقت میں زندہ ہیں۔ باقی تو عمر گزارتے ہیں۔ عمر تو سب ہی گزار لیتے ہیں۔ افشاں نوید #موناسکندر
1
50
کےپی کے میں الیکشن کے لئے ڈیزل کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کی کیا ضرورت ہے؟
ہم KP میں اگلا الیکشن مولانا فضل الرحمان کیساتھ مل کر لڑیں گے، ہم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں گے اس سلسلے میں مشاورت ہو رہی ہے اور تحریری معاہدہ بھی ہو گا شفیع جان کمال ہے ویسے
37
کیسی گھامڑ ذہن کی عورت ہے یہ صورتحال تو پچھلے چار سال سے ہے تمھاری آنکھیں اب کھلی ہیں کھوتے کو لیڈر ماننے والوں کا یہی آٸی کیو لیول ہوتا ہے
محسن نقوی اپنے بل بوتے پر کونسلر کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے اور بات کررہے ہیں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی، صرف اس لیے کہ اُنہیں ملک کے آرمی چیف نے سیاسی جماعتوں کی گردن دبا کے سینیٹر بنوایا اور وزیر داخلہ بنایا ہوا ہے، لیکن کام وزیر خارجہ کا کرتے ہیں اور اب بات کررہے ہیں نظام کی ناکامی کی۔ نظام کی ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ آپ نے جس چیز کا حلف اٹھایا ہوتا ہے، آپ وہ کام نہیں کررہے ہوتے۔ پہلے کرکٹ کا بیڑا غرق کیا، پھر ملک میں امن امان کی صورتحال دیکھیں کہ بلوچستان میں کوئی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔ وزیرستان اور خیبر پختون خواہ میں روزانہ نہیں تو ہر ہفتے سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہورہے ہیں اور اب چلے ہیں نئے انتظامی یونٹس بنانے تاکہ پورے ملک میں لسانی بلوے شروع ہوجائیں آپ چاہتے کیا ہیں اور آپ کا مینڈیٹ کیا ہے اتنی بڑی بات کرنے کا؟ کیا آپ کو صدر نے گرین سگنل دیا ہے، وزیراعظم نے، قومی اسمبلی یا سینیٹ، یا کسی صوبے کی اسمبلی نے آپ کو یہ ٹاسک دیا ہے؟
36
دونوں مستند چور پھر ایک دوسرے کی والدہ ہمشیرہ ایک کرتے ہوۓ
اچھا واقعی تبھی سندھ بٹا تھا چوتھی مرتبہ بلیک میل کرکے ہیں نا؟ تب قیامت نہیں آئ جب گھر کی سیٹ کے لئے مخالف امیدوار غائب کیے یا جب بلدیاتی انتخابات چوری کئے اور ہمیشہ “قومی مفاد” میں بلیک میلینگ سے 18 سال سے سندھ پہ قبضہ کرکے بیٹھے ہیں،وڈے انقلابی،جعلی جمہوری
1
43
قیامت تو 8 فروری کو ہی برپا ہوچکی تھی اور فارم 47 والے بوٹ پالش کرکے جہنم میں فری اینٹری کا ٹکٹ کٹا چکے تھے
پیپلز پارٹی جو دھاندلی کی باریک واردات کی ماسٹر ہے، دھاندلی کا رونا رو رہی ہے، قیامت کتنے بجے ہے؟
1
29
میر تقی میر نے ایسی ہی کسی حرافہ کے لٸے کیا خوب کہا تھا پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر کے انتخابات کا بائیکاٹ کرکے ثابت کیا ہے کہ یہ کسی جنرل باجوہ، فیض وغیرہ کے بغیر انتخابات نہیں لڑ سکتے، دوسرا یہ کہ اب انہیں پیسہ خرچ کرنے کے لئے کسی ٹائیکون کی آشیرواد میسر نہیں، ورنہ ہار جیت تو انتخابات کا حصہ ہے، یا آپ ہارتے ہیں یا جیتتے ہیں۔
20
بزدل فوجی ٹاٶٹ 👇
نورین خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کے بیانات سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ دلیل، جواب اور احتساب سے فرار اختیار کر کے دھمکیوں، کردار کشی اور گالم گلوچ کو سیاسی حکمتِ عملی بنا لیا گیا ہے۔ افسوس کہ PTI Official ایک سیاسی پلیٹ فارم کے بجائے گالم گلوچ بریگیڈ کا ترجمان بن چکا ہے۔ جہاں تک میرے الزامات کا تعلق ہے، میں آج بھی اپنے ہر مؤقف پر قائم ہوں۔ اگر میرے کسی بیان کو جھوٹ سمجھتے ہیں تو عدالتیں موجود ہیں، تحقیقات کے ادارے موجود ہیں، حقائق سامنے لے آئیں۔ محض دھمکیوں اور بلند آہنگ دعووں سے سچ تبدیل نہیں ہوتا۔ میری رائے میں پارٹی کی موجودہ تباہی، انتشار، کارکنوں کی بددلی اور تنظیمی زوال کی سب سے بڑی ذمہ داری خان صاحب کی بہنوں اور ان کے گرد قائم غیر منتخب ٹولے پر عائد ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے کارکنوں، منتخب نمائندوں اور نظریاتی ساتھیوں کو دیوار سے لگایا، آج وہی پارٹی کے زوال پر آنسو بہانے کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کا محکمۂ صحت گزشتہ تیرہ برس سے نام نہاد اصلاحات اور RTI ماڈل کے تجربات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ عوام بہتر جانتے ہیں کہ ہسپتالوں، ادویات، طبی عملے اور صحت کی سہولیات کی کیا حالت ہے۔ ان پالیسیوں کے معماروں اور سرپرستوں سے سوال پوچھنا جرم نہیں بلکہ عوامی حق ہے۔ جہاں تک مقدمات اور دھمکیوں کا تعلق ہے، میں انہیں ایک خواجہ سرا کی للکار سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ عوامی میدان میں جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ مخالفین کو ڈرانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ میں نہ پہلے ڈرا ہوں، نہ آج ڈرتا ہوں اور نہ آئندہ ڈروں گا۔ میری سیاست کا فیصلہ سوشل میڈیا بریگیڈ نہیں بلکہ عوام اور حقائق کریں گے۔ سوالات کے جواب دیجیے، دھمکیاں مت دیجیے۔
30
انمول طوفان 🍃 retweeted
بریکنگ نیوز 🚨شاہد خاقان عباسی کا اہم انکشاف۔ باجوہ نواز گٹھ جوڑ کی تفصیلات سامنے لے آئے۔ اصل حقائق سے قوم کو آگاہ کردیا 🔥🔥 جنرل باجوہ نے تو چھوٹے موٹے کام کیے تھے۔ جیسے بلوچستان میں حکومت غائب کرنا، سینیٹ کے انتخابات میں چوری کروانا اور فیض آباد دھرنا۔ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے رخصت کیا تھا جنرل باجوہ نے نہیں۔ اس کے باوجود ہماری حکومت نواز شریف کے بغیر جنرل باجوہ کے ساتھ بہت اچھی چلتی آئی دس مہینے۔
12
195
2
646
49,169
انمول طوفان 🍃 retweeted
ایڈا ظلم 🥹 جو کتابیں ملی تھیں وہ ساری پڑھ لی تھیں نا ؟ 🤔
1
2
92
ریلوے پلیٹ فارم 😯🏃🏃🏃🏃🏃
ارننگ کے لیے کون سا پلیٹ فارم سب سے اچھا ہے؟ فیس بک؟ ٹِک ٹاک؟ یو ٹیوب؟ ایکس ؟
1
29
انمول طوفان 🍃 retweeted
ڈی آئی جی فیصل کامران نے صرف حقائق نہیں چھپائے بلکہ کھلے عام جھوٹ بولا، قوم کو گمراہ کیا، میڈیا کو جعلی اور من گھڑت کہانی تھمائی، اور خواتین کی جان کو مزید خطرے میں ڈالنے کے باوجود مریم نواز کی تعریفوں کے قصیدے پڑھتے رہے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ پولیس افسر کم اور سرکاری ترجمانِ خوشامد زیادہ ہوں۔ سوال یہ نہیں کہ فیصل کامران کو معطل کیا جانا چاہیے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا جھوٹ بولنے، حقائق دبانے اور عوام کو دھوکا دینے کے بعد وہ اب تک عہدے پر کیوں بیٹھے ہیں؟ جو افسر سچ چھپائے، جھوٹ کو سرکاری مؤقف بنا کر بیچے، میڈیا کے ذریعے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکے اور اوپر سے حکمرانوں کی مدح سرائی میں لگا رہے، وہ وردی نہیں، سیاسی وفاداری کا تمغہ پہن رہا ہوتا ہے۔ فیصل کامران نے واقعی جھوٹ بولا، حقائق مسخ کیے، اور اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے مریم نواز کی خوشنودی حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ ایسے افسر کے لیے معطلی بھی کم ہے؛ اسے عہدے سے ہٹانا چاہیے تاکہ کم از کم یہ پیغام تو جائے کہ ریاستی منصب چاپلوسی، جھوٹ اور عوام سے دھوکا دہی کا لائسنس نہیں۔
105
1,073
30
2,336
50,132
اور اگر جھوٹ نہ نکلے تو ؟ 🤔
اگر غیر ملکی خواتین کا معاملہ جھوٹ نکلے تو اردو پوائنٹ والے زیشان کے خلاف ڈار فیملی کو 4 درجن مقدمے درج کرانے چاہئیں ۔
32
اس مضمون کو جھوٹا ثابت کرنے کے لٸے یہی کافی ہے کہ "پولیس نے چھاپہ مار کر مغویوں کو آزاد کروایا" کیا یہ کشگوری بھی ٹاٶٹ ہے؟
ڈپٹی وزیراعظم کے نواسے رضا ڈار کیس: اصل حقائق، مالی تنازع اور تحقیقات میں اہم پیش رفت زاہد گشکوری اسلام آباد: ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے 22 سالہ نواسے رضا ڈار سے متعلق ہائی پروفائل کیس میں اہم اور چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں جہاں تحقیقاتی ادارے دو غیرملکی کاروباری خواتین کے ساتھ مالی تنازع، مبینہ اغوا اور دیگر الزامات کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہم انویسٹی گیشن ٹیم کو مستند ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رضا ڈار نے چند برس قبل متحدہ عرب امارات میں اپنا کاروبار شروع کیا تھا اور اس وقت وہ دبئی میں قائم اپنی دو کاروباری کمپنیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس کیس میں شامل دو غیرملکی خواتین میں 30 سالہ روبن سین براچو، جن کا تعلق وینزویلا سے ہے، جبکہ 25 سالہ اسٹیفنی ایڈریانا، جو ہالینڈ کی شہری ہیں، شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں خواتین نے کچھ عرصہ قبل رضا ڈار کے ساتھ کرپٹو کرنسی اور دیگر آن لائن منصوبوں میں شراکت داری قائم کی تھی۔ اس دوران مالی معاملات کے سلسلے میں ان کی متعدد ملاقاتیں سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں ہوتی رہیں۔ دونوں فریقین کی آخری ملاقات گزشتہ سال اکتوبر میں سنگاپور میں ہوئی تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق رواں سال کے آغاز میں کرپٹو کرنسی تعلقات میں اختلافات پیدا ہونا شروع ہوئے، جبکہ تنازع تقریباً پانچ سے 15 لاکھ امریکی ڈالر کی مالی لین دین تک جا پہنچا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ رضا ڈار نے اپنی کاروباری مشکلات اپنے دو ماموؤں علی ڈار اور حسنین ڈار کے ساتھ شیئر کیں اور انہیں بتایا کہ ان کے بقول دونوں غیرملکی کاروباری شراکت دار کرپٹو کرنسی کی ڈیلنگ میں لاکھوں ڈالر کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں۔ بعد ازاں رضا ڈار نے اس مالی تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی غرض سے دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی، جس پر دونوں خواتین 26 جون کو لاہور پہنچیں۔ لاہور میں قیام کے دوران دونوں خواتین ڈیفنس کے سی بلاک، کلفٹن میں رہیں۔ اگلے روز 27 جون کو رضا ڈار انہیں اسلام آباد، مری اور نتھیا گلی بھی لے گئے۔ اس دوران دونوں خواتین نے اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں ایک رات بھی قیام کیا۔ ذرائع کے مطابق رضا ڈار نے لاہور اور اسلام آباد میں خود دونوں خواتین کی میزبانی کی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے چار دوستوں کے ہمراہ مالی تنازع پر دونوں خواتین سے مذاکرات شروع کیے، تاہم یہ مذاکرات جلد ہی تلخ جھگڑے میں تبدیل ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق جھگڑے کے دوران رضا ڈار نے مبینہ طور پر متنازع رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا، جبکہ دونوں خواتین نے اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کے بعد رقم کا کچھ حصہ واپس کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ تاہم اسی دوران خواتین کے اہل خانہ نے پنجاب پولیس سے رابطہ کرکے الزام عائد کیا کہ رضا ڈار اور ان کے ساتھیوں نے دونوں خواتین کو اغوا کر رکھا ہے۔ معاملہ 30 جون کی رات لاہور کے ڈیفنس تھانے تک پہنچ گیا، جس کے چند گھنٹوں بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو اس واقعے سے آگاہ کیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے پولیس کو ہدایت کی کہ دو گھنٹوں کے اندر رضا ڈار کو گرفتار کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کو بھی فوری طور پر اس واقعے سے آگاہ کردیا گیا۔ پولیس کے چھاپے سے قبل رضا ڈار اور ان کے تین ساتھی مبینہ طور پر موقع سے فرار ہوگئے تھے۔ ذرائع کے مطابق رات تقریباً دو بجے وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے مشیر اور بہنوئی علی ڈار سے رابطہ کیا اور رضا ڈار اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں علی ڈار کی معاونت سے پولیس نے لاہور میں رضا ڈار اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے فوراً بعد پولیس نے دونوں غیرملکی خواتین کا ان کے اہل خانہ سے رابطہ کروایا۔ دونوں خواتین اپنے بیانات تحقیقاتی حکام کے سامنے ریکارڈ کرا چکی ہیں اور ذرائع کے مطابق وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم تمام ملزمان اور شکایت کنندگان کے موبائل فون حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ان کا فرانزک تجزیہ کرکے مالی لین دین اور باہمی رابطوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ دوسری جانب تحقیقاتی ادارے ان الزامات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جن کے مطابق دونوں غیرملکی خواتین خود بھی ایک بڑے مبینہ بڑے مالیاتی اسکیم میں ملوث ہو سکتی ہیں۔ کیا رضا ڈار کے ساتھ فراڈ ہوا؟ تاہم یہ الزامات تاحال ثابت نہیں ہوئے اور تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے ابھی تک اس بات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی کہ دونوں خواتین کے میڈیکل معائنے کرائے گئے یا نہیں۔ تحقیقاتی ادارے اب دونوں فریقوں کے درمیان کاروباری تعلقات، سرمایہ کاری کے حجم،کرپٹو لین دین، تنازع کی نوعیت اور ممکنہ قانونی کارروائیوں سمیت تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔جاری ہے 👇
42
*رن مریدو!* *یہ زندگی صرف چار دن کی ہے، اس لیے خدا کو راضی کرنے پر توجہ دو۔ بیوی کو تو 'بل گیٹس' بھی راضی نہیں کر پایا اور آج کل اکیلا بیٹھا مچھر مار رہا ہے۔ جب کھرب پتی کا سافٹ ویئر فیل ہو گیا، تو تمہاری '2 کور' عقل کی کیا اوقات ہے* 😅😅
1
56
انمول طوفان 🍃 retweeted
اگر آپ تقویٰ، عدل، شجاعت اور راہِ حق میں قربانی کا اعلیٰ نمونہ بننا چاہتے ہیں، تو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت و مودت کو دل میں بسا لیں۔ یہ اوصاف آپ کے اندر خود بخود پیدا ہو جائیں گے
1
1
37