Dr Abdul Hameed retweeted
شہر تباہ کر دیے گئے۔ سڑکیں اور پل جلا دیے گئے۔ لاکھوں لوگ بے گھر، دہشت زدہ اور ہجرت پر مجبور۔ لاتعداد قتل ہوئے۔ کھیلوں کے میدانوں سے لے کر لائبریریوں اور معاشی انفراسٹرکچر تک، سب کچھ راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ چراگاہیں، باغات، کھیت، آبپاشی کا نظام، سکول، ہسپتال اور گھر؛ سب ملیا میٹ کر دیے گئے۔
مقصد کیا تھا؟ مسلمانوں کی کامیابیوں اور ان کی تمدنی اہمیت کے تمام نشانات مٹانا۔ معصوموں کے خون میں ڈوبی ایک نئی سلطنت کھڑی کرنا۔
غزہ؟ تہران؟ لبنان؟ 2025/26؟ ٹرمپ؟ نیتن یاہو؟
نہیں۔
چنگیز خان۔ 1220-1221۔ بلخ، سمرقند، ہرات، بخارا، مرو، نیشاپور۔
مسلمانوں کے لیے حالات پھر کبھی پہلے جیسے نہ رہے۔ اور نہ ہی آج اس کا انجام کچھ مختلف ہوگا۔
Cities destroyed. Roads bridges burnt. Millions displaced, terrorized, homeless. Countless killed. From sports stadiums to libraries to economic infrastructure, everything turned to ashes. Grazing lands, orchards, farms, irrigation systems, schools, hospitals, homes. Obliterated. The aim? To erase all traces of Muslims achievement and civilizational significance. To build a new empire soaked in the blood of the innocent. Gaza? Tehran? Lebanon? 2025/26? Trump? Nethanyahu? No.
Chengez Khan. 1220-1221. Balkh, Samarkand, Herat, Bukhara, Merv, Nishapur. Things for the Muslims were the never the same again. Nor will the result be any different today.
Dr Abdul Hameed retweeted
مسجد ہے ، اللہ کا گھر ہے ، معصوم فرشتوں جیسے بچے خوش ہو رہے ہیں۔ مسکرا رہے ہیں۔ اللہ اس مدرسے کے مہتمم اور ناظم کو خوش رکھے جنہوں نے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیے خود کو “تماشا “ بنایا ۔ چھوٹے مدارس کے پاس گراؤنڈز ہیں اور ناہی بچوں کو تفریح مہیا کرنے کے لئے پیسے ہیں۔ ایسے میں اس قسم کی سرگرمیاں کر کے وہ والدین سے دور ، اپنے گھروں سے دور بچوں کو خوش رکھتے ہیں۔ اگر کسی کو معلوم ہو کہ یہ ویڈیو کہاں کی ہے۔ مجھے ضرور بتائیں۔
#sabookhsyed #foryoupage #foryoupage
Dr Abdul Hameed retweeted
🔴 چینی پروفیسر جیانگ شیوچن:
جدید معاشرے میں سب سے بدترین کام بچوں کو مارنا ہے۔ اسرائیل کے پاس کوئی درمیانہ راستہ نہیں — یا سب ہو گا یا کچھ نہیں۔
وہ جان بوجھ کر دنیا کو بھڑکا رہے ہیں، لڑائیاں شروع کر رہے ہیں اور ‘عربوں کی موت’ کے نعرے لگا کر دنیا کو تقسیم کر رہے ہیں تاکہ خود کو متحد کر سکیں۔
Dr Abdul Hameed retweeted
مرد پر ذمہ داریوں کا بوجھ اسے کبھی حقیقی زندگی سے آشنا ہونے ہی نہیں دیتا، سب کی ضرورتیں پوری کرتے کرتے اس کا اپنا وجود، اس کے شوق، ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دم توڑ جاتے ہیں۔
Dr Abdul Hameed retweeted
"عرفان صدیقی"
2013 کے الیکشن میں جن دنوں مسلم لیگ کی میڈیا کیمپین پر کام کر رہا تھا، انہی دنوں عرفان صاحب سے ملاقات ہوئی، انہیں ویسا ہی پایا جیسا ان کے کالم پڑھ کر ایک خاکہ بنا ہوا تھا، جس کا ایک بیک گراؤنڈ ہے۔
ایک وقت تھا کہ اخبار بکنے کی ایک بڑی وجہ کالم نگار ہوا کرتے تھے۔ عطا اللہ قاسمی و نذیر ناجی نوائے وقت میں لکھتے تھے، پھر ناجی جنگ چلے گئے اور نوائے وقت میں عباس اطہر اور عرفان صدیقی آ گئے۔ پھر قاسمی بھی جنگ چلے گئے اور اطہر صاحب ایکسپریس کے مدیر بن گئے۔ پیچھے نوائے وقت میں صرف عرفان صاحب بچے۔ اسی نوائے وقت کے دور سے ہی انہیں پڑھنا شروع کیا۔
میری اردو ہمیشہ سے کچھ بہتر تھی لہذا عرفان صاحب کے کالم پڑھ کر لطف آتا، لیکن یہ احساس بھی تھا کہ ان کی زبان آسان فہم نہیں۔ ان کے کام عموما اس طنز اور سنسنی سے محروم ہوتے تھے جو کسی نہ کسی صورت باقی سب کا خاصہ تھا۔ کالم کی زبان بھی نہایت اعلی ہوتی تھی، یوں گماں ہوتا تھا جیسے کالم کو کوئی ادبی صنف سمجھ کر لکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ان کی ریڈرشپ ناجی، قاسمی اور اطہر صاحب سے کافی کم ہو گی۔
عرفان صاحب کا تعلق اس قبیلے سے تھا جو بھرپور اختلاف پر بھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ بدقسمتی سے بہت سے معاملات میں اپنی ذاتی پسند ناپسند، خاص مذہبی اور سماجی سوچ سے باہر نہ نکل پائے؛ لیکن انکا اظہار، اپنے کسی تعصب کی شدت کی بحث سے قطع نظر، نہایت دھیما اور شگفتہ تھا۔ ایسی دوسری شخصیت غامدی صاحب کی نظر آتی ہے۔
ان سے پہلی بار ملاقات کرتے ہوئے کوئی حیرانگی نہ ہوئی کیونکہ ان کی شخصیت بھی ویسی ہی تھی جیسی ان کی تحاریر۔ 2013 کی الیکشن کمپئین کے دوران میاں صاحب اور مریم صاحبہ کے علاوہ، دو ہی شخصیات تھیں جنہوں نے کسی ایک بھی اشتہار میں کوئی منفی کمنٹ نہ دیا، ایک عرفان صاحب اور دوسرے پرویز رشید صاحب۔
عرفان صاحب کے بولنے کا انداز اس قدر اچھا تھا کہ ایک میٹنگ میں میرے ساتھ بیٹھے ایک صاحب جو انہیں نہیں جانتے تھے انہیں سن کر پوچھنے لگے Who is this wise gentleman
کچھ روز بعد فون پر کامیاب کیمپین پر مبارک باد بھی دی۔ یہ میرا ان سے آخری براہ راست رابطہ تھا۔ اس کے بعد ایک دو محافل میں ملاقات ہوئی لیکن کوئی بات چیت نہ ہو سکی۔
سال ہا سال ایک طویل عرصے تک عرفان صاحب کے ہزاروں کالم پڑھے، یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ایک بار بھی انکے ہاتھ کا لکھا کوئی ناگوار فقرہ یا لفظ نظر سے گزرا ہو۔
ان کے فلسفے اور سیاست سے لاکھ اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن آج کے دور میں، جب تمیز اور تہذیب دونوں کمیاب ہیں، ان کی شخصیت کے یہی پہلو ان کے حق میں لکھنے کیلئے بہت ہیں۔ خدا غریق رحمت کرے۔
Dr Abdul Hameed retweeted
🚨🇷🇺 "The USA is the only country in the world that has used nuclear weapons against a non-nuclear state twice. What was the purpose? There was no military expediency whatsoever. What was the purpose of using nuclear weapons against Hiroshima and Nagasaki, against largely civilian populations? Was there any threat to the territorial integrity or sovereignty of the US? No, of course not. There was no military expediency. Japan’s military machine was broken, its ability to resist had been reduced to almost zero. Why was it necessary to use nuclear weapons against Japan? Furthermore, in Japanese textbooks, they write that it was the Allies who launched the nuclear strike on Japan. That’s how they control Japan; even in school textbooks, the Japanese cannot write the truth."
-- President Putin
Dr Abdul Hameed retweeted
"کیا ڈگریوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے؟"
پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے ڈگریوں کے مقابلے میں سرٹیفیکیٹس کو ایسے پیش کیا جا رہا ہے جیسے یہ کوئی شارٹ کٹ ہے۔ برائے مہربانی حقیقت کو سمجھئے۔
جو نوکریاں ٹکنالوجی کی وجہ سے ختم یا کم ہو رہی ہیں ان میں تو کسی ڈگری یا سرٹیفیکیٹ سے ویسے ہی نوکری نہیں ملے گی۔ مثال کے طور پر دنیا بھر میں جرنلزم کی نوکریاں کم ہو رہی ہیں۔
اسی طرح بہت سی وہ نوکریاں کم ہو رہی ہیں جن کے لیے کبھی ڈگری کی خاص ریکوائرمنٹ تھی ہی نہیں، جیسے data entry آپریٹر، travel ایجنٹ وغیرہ۔
اب آ جائیں ان نوکریوں پر جو بہت زیادہ کم نہیں ہوئیں لیکن ان میں ڈگریوں کی ریکوائرمنٹ ختم ہو رہی ہے؛ جس کی وجہ سے "ڈگری کا فائدہ نہیں" کا شور مچا ہوا ہے۔ ایسی نوکریاں زیادہ تر صرف IT سے متعلق ہیں۔
لیکن اس میں یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ ان شعبوں میں ماضی کی ڈگری کے مقابلے میں مستقبل کے سرٹیفیکیٹ سے نوکری حاصل کرنا زیادہ مشکل ہے۔ کیونکہ ڈگری کم نالج کے ساتھ بھی پہلی نوکری کے حصول کا ذریعہ بن جاتی تھی، جبکہ اب مقابلہ بڑھ جانے کی وجہ سے کم سے کم ایسے skill کی بنیاد پر ہی نوکری ملے گی، جس کا معیار بہت بلند ہو گا۔ لہذا چند ماہ کے کسی کورس سے اس شعبے میں کوئی اچھی نوکری نہیں ملنے والی۔
پھر کچھ ایسی skilled نوکریاں ہیں جن کے لیے دنیا میں کبھی بھی ڈگری کی ریکوائرمنٹ نہیں تھی جیسے الیکٹریشن یا پلمبر۔ لیکن یہ کورسز چھ ماہ یا ایک سال میں نہیں ہوتے، اس کے لیے بھی دو دو تین تین سال کی محنت درکار ہے۔
ان سب شعبوں سے ہٹ کر تقریبا ہر شعبے میں ڈگری کی ریکوائرمنٹ قائم ہے اور بہت عرصہ رہے گی۔ مثال کے طور پر آج بھی دنیا کا کوئی سرٹیفیکیٹ انجینئرنگ، آرکیٹکٹ، میڈیکل، نرسنگ، فارمیسی وغیرہ کی ڈگری کا متبادل نہیں۔
قصہ مختصر ٹکنالوجی اور AI کی وجہ سے بلا شبہ نوکریوں میں عمومی کمی واقع ہو رہی ہے، لیکن اس کا مطلب زیادہ سخت مقابلہ اور نوکریوں کا مشکل حصول ہے۔ 3-3 اور 6-6 ماہ کے جن کورسز کو "جادو کی چھڑی" کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے، ان سے کوئی اچھی نوکری ملنے کا کوئی چانس نہیں۔
کسی کی باتوں میں آ کر یہ کبھی مت بھولیں کہ وقت کیساتھ کی گئی محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں، چاہے وہ ڈگری کے لئے ہو یا ٹیکنیکل ٹریننگ کے اور اب اس محنت کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
😆
ٹرمپ سے آپ دنیا کے کسی بھی موضوع پر بات کر لیں، چاہے سیاست ہو، کھیل ہو یا جانوروں پر مضمون۔۔۔آخر میں بات وہیں جا کر رُکتی ہے:
"پاکستان نے انڈیا کے سات جہاز گرائے، اور میں نے جنگ رکوائی!" 🇵🇰🔥
مثلاً فٹ بال میچ پر بات کرو تو کہتا ہے:
"میں فٹ بال میچ دیکھ رہا تھا، گول کیپر نے کمال مہارت سے گول روکا...لیکن انڈیا پاکستان کو نہیں روک سکا! سات جہاز پاکستان نے گرائے!" ⚽✈️
ریل کے سفر پہ مضمون لکھو تو فوراً کہتا ہے:
"ریل کا سفر بہترین ہے، مگر جہاز کا سفر اس سے بھی زبردست ہے... ویسے جہاز سے یاد آیا، پاکستان نے انڈیا کے سات جہاز گرائے!" 🚆➡️💥
۔۔
اور جب "A House on Fire" پہ مضمون لکھو تو جذباتی لہجے میں کہتا ہے:
"میں سویا ہوا تھا، اچانک خبر ملی ایک گھر میں آگ لگ گئی ہے...آگ دیکھ کر مجھے یاد آیا، انڈیا کے سات جہازوں کو بھی آگ لگی تھی اور وہ بھی میں نے بجھائی!" 🔥✈️🇵🇰
دنیا کچھ بھی کرے، ٹرمپ کے ذہن میں بس ایک ہی "Breaking News" ہے۔
پاکستان نے انڈیا کے سات جہاز گرائے! 😎
Dr Abdul Hameed retweeted
موت کا دوسرا نام ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا ہے، جو آپ کے درد کو نظر انداز کرتے ہیں۔
Dr Abdul Hameed retweeted
دریاۓ چناب کے سیلابی ریلے کے پیش نظر شور کوٹ میں دربار حضرت سلطان باھو کے کے داخلی و خارجی راستے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں
ہم نے تو بابوں کی کرامات کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا ،بتایا جاتا ہے کہ ان کے ایک اشارے پر دریائوں کے رخ مڑ جاتے ہیں۔۔۔۔!!!!
Dr Abdul Hameed retweeted
دنیا میں کوئی ایک قوم ایسی نہیں جس کے لوگ غیر قانونی کام کا موقع ملنے پر اسکا فائدہ نہ اٹھائیں۔
مجرمان سے بڑے قصوروار وہ سرکاری افسران ہیں جنکی ناک کے نیچے غیر قانونی کام ہو، اور اس سے بڑے مجرم وہ حکمران ہیں جو نشاندہی کے بعد بھی افسران کو سزا نہ دلوائیں۔
Dr Abdul Hameed retweeted
دھماکہ ہو جائے تو چیخ و پکار کرتے ہیں کہ سکیورٹی ادارے کہاں ہیں؟
سکیورٹی ادارے جرم سے پہلے پکڑ لیں تو کہتے ہیں ثبوت کہاں ہیں؟
ثبوت دکھائیں تو کہتے ہیں یہ جعلی ہے، ویڈیو کہاں ہے؟
ویڈیو دیکھائیں تو کہتے ہیں یہ جعلی ہے، اعترافی بیان کہاں ہے؟
اعترافی بیان دیکھائیں تو کہتے ہیں، یہ تو دباؤ سے لیا گیا بیان ہے۔
حضرت شیخ سعدی نے درست فرمایا تھا۔۔
"کچھ مسئلوں کا حل صرف ایس ایچ او تھانہ ٹبی گلی ہوتا ہے"..
(نیز، شیخ سعدی جوہر ٹاؤن والے کی بات ہو رہی ہے)
Dr Abdul Hameed retweeted
زندگی میں بہت بڑوں کو جاننے کا موقع ملا۔ بہت سے کرپٹ و دین فروشوں کو، ایماندار و اصل مذہبی لوگوں سے بھی زیادہ و مکمل مطمئن دیکھا۔
بے ضمیر شخص اپنے مفاد کا جواز پیدا کرنے کی ایسی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ واقعی مطمئن ہوتا ہے، جبکہ سادہ لوح اسکی اسی طمانیت سے دھوکہ کھاتے رہتے ہیں۔
Dr Abdul Hameed retweeted
1976 میں اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ پاکستان میں تیل کے بڑے ذخائر کی دریافت کے بعد مُلک 3 برس میں تیل میں خود کفیل ہو جائے گا۔ تب سے وقفہ وقفہ سے ایسی خوش خبریاں دی جاتی رہتی ہیں۔ قوم کا تیل نکلتا رہتا ہے، خوشحالی کے وعدے پورے نہیں ہوتے
Dr Abdul Hameed retweeted
یہ رہا بلین ٹری منصوبہ
بار بار آگ لگا کر ثبوت غائب کیے گئے۔ 90 فیصد پودے ہی غائب تھے۔
اربوں روپے کی کرپشن کی گئی اس کاغذی منصوبے میں
واقعی وہ ان سے بہت آگے ہے۔۔۔۔کرپشن میں


























