A h Abbasi retweeted
پولیس اور بیوروکریسی گدھ کی طرح افغان مہاجرین پر جھپٹ پڑیں ہیں ہم کہتے ہیں عالمی تنظیمیں آئیں اور دیکھیں پاکستان میں افغان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
اس دین فروش نے کبھی یہ کہا؟کہ عالمی تنظیمیں پاکستان آکر دیکھیں کہ افغان خودکش حملہ آوروں نے 40 ہزار پاکستانیوں کو خون مین نہلایا ہے
A h Abbasi retweeted
#ماں_پر_بھونکنے_والا_فضلو
#فضلو_تیرے_کردار_پہ_تھو
کامران مرتضیٰ شاید بھول گئے ہیں کہ جمعیت کے اندرونی حلقوں میں انہیں کامران جلیبی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ وہ فضل الرحمان کی خوشنودی میں کچھ اس قدر مگن ہیں کہ اپنی الگ پہچان ہی بھلا بیٹھے ہیں۔
A h Abbasi retweeted
مفتی محمود مرکز میں موجود ٹی ٹی پی کا مسلح دہشت گرد کہہ رہا ہے کہ میں مفتی محمود کے مرکز میں موجود ہوں اور ہمیں مولانا فضل الرحمن نے حکم دیا ہے کہ جو مرکز کی قبضہ شدہ جگہ واگزار کروانے آئے ان کے سروں میں گولیاں مارو
#دین_فروش_سیاستدان
#تمہاری_سیاست_پر_تھو
A h Abbasi retweeted
مولانا کے بیان کا ماتم ختم ہوگیا ہو تو ادھر بھی دیکھ لیجئے گا
نعرے سنیں" جہاں بھی یہ وردی ہوگی وہاں دہشت گردی ہوگی"
کیا یہ توہین نہیں شہدا کی جنہوں نے وردی میں شہادتیں دی؟
مجوسی ہیں نا ان کو کھلی چھوٹ ہے 😊
A h Abbasi retweeted
مولانا کا بیٹا وزیر ہو تو ریاست ماں بھائی کمشنر ہو تو ریاست ماں" بنگلہ نمبر 22 الاٹ ہوا ہو تو ریاست ماں کشمیر کمیٹی کی چئیرمین شپ ہو تو ریاست ماں
سمدھی گورنر ہو خیبر پختون خواہ کی نگران حکومت اپنی ہو تو واری صدقے مگر جب کچھ نا ملے تو پھر ریاست پر تھو یہ ہے مولانا کی منافقت
A h Abbasi retweeted
مکہ شریف / سعودی عرب
سکیورٹی فورسز کی کاروائی
8 سعودی
32 پاکستانی
15 یمنی
2 مصری
اور
1 بنگلہ دیشی دھشت گرد گرفتار
دھشت گردوں سے 81 ملین سعودی ریال کی کرنسی بھی برآمد جو ایران سمگل کرنے کی کوشش کی جا رھی تھی
A h Abbasi retweeted
سیاسی جماعت کے فالوورز گالی گلوچ کریں تو سمجھ آتی ہے کہ کلچر ہی ایسا ہے،
سیاسی تربیت گندی ہے، یا پھر لیڈر بھی ایسے ہی ہیں،
لیکن مولوی کا فالوور مغلظات بکے، تو سمجھ لیں، یہ دین فروش تاجر، اور اس کے شیطانی چیلے ہیں۔۔۔۔۔!!!
A h Abbasi retweeted
مفتی محمود مرکز میں موجود ٹی ٹی پی کا مسلح دہشت گرد کہہ رہا ہے کہ میں مفتی محمود کے مرکز میں موجود ہوں اور ہمیں مولانا فضل الرحمن نے حکم دیا ہے کہ جو مرکز کی قبضہ شدہ جگہ واگزار کروانے آئے ان کے سروں میں گولیاں مارو
#دین_فروش_سیاستدان
#تمہاری_سیاست_پر_تھو
A h Abbasi retweeted
سینیئر صحافی حماد حسن بتا رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب کے غصے کی اصل وجہ علی امین گنڈا پور سے حکومتی رابطے ہیں
اور وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ جیسے ہی ختم ہوگا اسمبلی بحال ہوگی تو گنڈا پور دوبارہ وزیر اعلیٰ بن جائیں گے
اور وہ میرے حلقے میں مجھے زیادہ ٹف ٹائم دیں گے.
A h Abbasi retweeted
مولانا عبدالغفور حیدری کا فضل الرحمان کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم،
ریاست مخالف بیانات پر 24 گھنٹے میں معافی مانگی جائے،ورنہ ہم جمیعت کے ارکان خود اسمبلی میں مولانا کے بیانات کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کریں گے،،پاکستان سے محبت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
#تمہاری_سیاست_پر_تھو
A h Abbasi retweeted
ابھی بھی مولانا صاحب پوچھتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا -? مولانا صاحب آپ کو اور کیا چاہیے-?
A h Abbasi retweeted
خیبرپختونخواہ میں فضل الرحمان کی سمدھی کو گورنر کیا عوام نے بنایا تھا ؟ درانی کے دور میں اپنے بھائی کو ڈائریکٹ اے سی لگوادیا ۔ کیا وہ بھی عوام نے لگایا تھا؟ فضل الرحمان کا ماضی و حال داغدار ہے
A h Abbasi retweeted
کاشانہ کی کائنات سے عمران احمدی نیازی اپنی جنسی ہوس پوری کرتا تھا۔۔۔کائنات کے جسم کا ایک ایک حصہ نوچتا تھا۔۔۔۔کائنات پر کالا جادو کیا گیا۔۔۔بشریٰ جادوگرنی نے کائنات کی بھی بنی گالہ میں بلی دیدی
A h Abbasi retweeted
مولانا فضل الرحمان کے بھائی ضیاء الرحمان PTCL میں ملازم تھے ۔ پھر مولانا نے اپنے اثر و رسوخ سے انہیں ڈپٹی کمشنر بنوادیا ۔ انہوں نے کوئی سی ایس ایس کا امتحان نہیں دیا ۔ نہ ہی صوبائی سروس کمیشن کے مقابلے کے امتحان میں شریک ہوئے ۔ یہ ڈی سی خوشاب بھی رہے ۔
اب جیسے بھی تھا تعلق تو ان کا خیبرپختونخواہ کی PMS سے تھا لیکن مولانا کا اثر و رسوخ دیکھئے کہ 23 جولائی 2020 کو سندھ حکومت نے ان کو ضلع وسطی کراچی کا ڈی سی تعینات کردیا ۔ حالانکہ پی ایم ایس خیبرپختونخواہ کا افسر کسی طور سندھ میں تعینات نہیں ہوسکا تھا ۔ یہ تقرری مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری/بلاول بھٹو کی 10 جولائی 2020 کی کراچی ملاقات کے فوراً بعد ہوئی۔
مولانا دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے بھائی کا جواب دیں ۔ پہلے اپنے گریبان میں تو جھانکیں ۔ باتیں اسلام کی ۔ درس اسلام کا ۔ اور خود اپنے سمدھی کو گورنر لگوادیا ۔ جس پر کرپشن کے الزامات لگے ۔ بیٹے کو وفاقی وزیر لگوادیا ۔ اور اب سب برے ہیں کیوں کہ مولانا خود حکومت کا حصہ نہیں ہیں ۔
A h Abbasi retweeted
"ریاست ماں ہوتی ہے لیکن اس ماں پر تھو"
(اس کا باپ بھی اس"ماں"کے پیدا ہونے کو گناہ سمجھتا تھا)
"فضلو ڈیزل"نے جب اسمبلی میں یہ ہذیان بکا تو
قومی اسمبلی میں اکثر ارکان
بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے خاموشی سے یہ بات
سن گئے۔۔
حالانکہ
کہنا چاہیے تھا کہ تمہارے اوپر
"تھو"۔۔تمہاری اگلی پچھلی نسل پر "تھو"
(اسد آر چوہدری)
A h Abbasi retweeted
تم نے اس ریاست پر تھو کہا اس ریاست نے تمھیں اسمبلی پہنچایا سہولیات مراعات دی۔۔رپورٹر کے جواب پر ڈیزل سے بگولا ہو گیا۔
اخے یہ ریاست نے نہیں تو تیرے باپ نے دی کیا جو تیرے لیے فقط مٹی کا ایک کچا گھر چھوڑ کر گیا تھا
#منافق_سیاسی_اشرافیہ
A h Abbasi retweeted
مجھے تو میر صاحب نے بلاک کیا ہوا ہے مگر آپ اسے وائرل کریں تاکہ پتہ چلا ایجنسیوں سے کون کیا فائدہ لیتا رہا ہے
سوال ہوگا جواب ہوگا
شروع نیا ایک باب ہوگا
سوال ہوگا جواب ہوگا
•
🚨 حامد میر کا گلبرگ گرینز میں چھ کنال کا فارم ہاؤس: ثبوت ،دستاویزات، مبینہ فوائد اور چند اہم سوالات!
حامد میر صاحب نے صحافیوں پر خفیہ اداروں سے مالی فوائد حاصل کرنے اور ان کے ایجنڈے کے مطابق لکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اگر صحافت میں مالی مفادات، ادارہ جاتی تعلقات اور مراعات سوالات اٹھانے کا موضوع ہیں، تو پھر یہی اصول ہر صحافی پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
حامد میر صاحب اس وقت مبینہ طور پر تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے چھ کنال کے فارم ہاؤس میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حوالے سے دستیاب دستاویزات پر چند اہم سوالات سامنے آتے ہیں، جن کے جوابات عوام کے سامنے آنے چاہییں۔
معاملہ کیا ہے؟
گلبرگ گرینز، اسلام آباد میں واقع سول خفیہ ایجنسی انٹیلجنس بیور کی ہاوسنگ سوسائٹی ہےدستیاب دستاویزات کے مطابق، حامد میر صاحب نے 12 مار 2014 کو چھ کنال کا ایک فارم ہاؤس پلاٹ الاٹ ہوا ، جو سیکٹر ڈی میں واقع تھا۔ یہ سیکٹر نسبتاً غیر آباد بتایا جاتا ہے۔
بعد ازاں، عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں، 23 ستمبر 2022 کو مبینہ طور پر یہ پلاٹ سیکٹر ڈی سے منتقل کرکے سیکٹر اے میں کر دیا گیا۔ سیکٹر اے کو سوسائٹی کا اہم اور مہنگا علاقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں اعلیٰ فوجی افسران کی رہائش گاہیں بھی موجود ہیں۔ اسی علاقے کے قریب سابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کی رہائش گاہ ہے
اس معاملے میں درج ذیل سوالات کے جواب ضروری ہیں:
1۔ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لینے کی بنیاد کیا تھی؟
حامد میر صاحب، اگر آپ خود کو اصول پسند اور آزاد صحافت کا علم بردار سمجھتے ہیں، تو ایک ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں چھ کنال کا پلاٹ خریدنے کی ضرورت اور اس کی بنیاد کیا تھی، جس کا تعلق خفیہ ایجنسی سے ہے؟ کیا یہ پلاٹ عام کمرشل یا اوپن مارکیٹ خریداری کے ذریعے حاصل کیا گیا، صحافیوں کے کسی مخصوص کوٹے کے تحت ملا، یا کسی خصوصی رعایت یا تعلق کی بنیاد پر حاصل ہوا؟ اگر کوئی خصوصی کوٹا یا رعایت تھی، تو اس کی شرائط کیا تھیں؟
2۔ پلاٹ کی اصل قیمت اور منی ٹریل کیا ہے؟
یہ پلاٹ کس قیمت پر خریدا گیا؟ خریداری کے وقت اس کی سرکاری اور مارکیٹ ویلیو کیا تھی؟ ادائیگی کس ذریعے سے کی گئی، اور کیا اس کی مکمل مالی دستاویزات اور منی ٹریل موجود ہیں؟ اگر آج اس فارم ہاؤس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بتائی جا رہی ہے، تو اس مالیت کا تعین کس بنیاد پر کیا گیا؟ پلاٹ کی قیمت اور اس پر تعمیرات کی لاگت کو الگ الگ واضح کرنا بھی ضروری ہے۔
3۔ سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقلی کیسے ہوئی؟
یہ اس معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔ سیکٹر ڈی اور سیکٹر اے کی زمین کی قیمت، محلِ وقوع اور اہمیت میں نمایاں فرق بتایا جاتا ہے۔ یہ فرق تقریباً ایسا ہے جیسے اسلام آباد میں کسی شخص کا پلاٹ آئی ٹین سے منتقل کرکے ایف 6 مارگلہ روڈ میں دے دیا جائے۔
اگر پلاٹ واقعی سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقل کیا گیا، تو اس منتقلی کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا تھی؟ کیا یہ معمول کی پالیسی کے تحت ہوئی یا کسی خصوصی منظوری سے؟ کیا دونوں سیکٹرز کے درمیان قیمت کے فرق کی ادائیگی کی گئی؟ کیا اس منتقلی کے لیے متعلقہ اتھارٹی کی منظوری، بورڈ کی کارروائی اور دیگر ضروری دستاویزات موجود ہیں؟ اور سب سے اہم سوال: کیا یہی سہولت عام الاٹیز کو بھی دستیاب ہے، یا یہ کسی خاص فرد کے لیے خصوصی رعایت تھی؟
4۔ مختلف ادوار میں مبینہ فوائد اور طاقت ور حلقوں سے تعلقات کی وضاحت کیا ہے؟
حامد میر صاحب، آپ کے ناقدین آپ اور آپ کے خاندان کے مختلف فوجی ادوار میں مبینہ فوائد اور سرکاری اداروں سے وابستگیوں پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے:
* آپ کی اہلیہ مشرف دور میں پی ٹی وی سے وابستہ تھیں، اور آپ کی بیٹی کے بھی موجودہ دور میں پی ٹی وی پر آنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان تقرریوں یا مواقع کی نوعیت اور بنیاد کیا تھی؟
* آپ کے بھائی نگران حکومت کے دور میں وزیر بنے۔ ان کی تقرری کا پس منظر کیا تھا؟
* آپ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ جنرل قمر جاوید باجوہ سے طویل ملاقاتیں کرتے اور انہیں مشورے دیتے تھے، حتیٰ کہ ایک ملاقات آٹھ گھنٹے جاری رہنے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ ان ملاقاتوں کی نوعیت اور مقصد کیا تھا؟
* ان تمام معاملات کی روشنی میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ نے کسی دور میں کسی قسم کی خصوصی رعایت، سہولت یا فائدہ حاصل کیا؟
آزادیٔ صحافت کا تقاضا صرف دوسروں سے سوال کرنا نہیں، بلکہ اپنے بارے میں اٹھنے والے جائز سوالات کا جواب دینا بھی ہے
A h Abbasi retweeted
حامد میر کی جانب سے خریدے گئے گھر کی پانچ کروڑ کی ادائیگی نہ کرنے پر، محمد قاسم کا حامد میر سے بقایا رقم کی واپسی کا مطالبہ!
محمد قاسم کے مطابق، مکان نمبر 134، گلی نمبر 55، گلشن آباد، راولپنڈی انہوں نے دو سال قبل حامد میر کو فروخت کیا تھا، جس کے عوض انہیں سات کروڑ روپے ادا کیے گئے، تاہم ان کے بقول باقی 5 کروڑ تاحال ادا نہیں کیے گئے۔ محمد قاسم ویڈیو میں اشٹام بھی دکھا رہا ہے اور اسی گھر کے سامنے کھڑا ہو کر ویڈیو بھی بنا رہا ہے ۔
محمد قاسم کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بقایا پیسوں کے حصول کے لیے متعلقہ گھر جاتا ہے تو اسے اندر جانے نہیں دیا جاتا، دھمکیاں دی جاتی ہیں اور دھکے دے کر نکال دیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق، تھانے میں درخواست دینے کے باوجود سنوائی نہیں ہوئی۔
محمد قاسم وزیراعظم شہباز شریف اور حکام بالا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ اس کے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کی واجب الاداء رقم دلوائی جائے۔























